Book Name:Sirat ul jinan jild 6

عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  تم یوں دعاکرو کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  اگر تو مجھے وہ عذا ب دکھادے جس کا(دنیا میں ) ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے تو اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  مجھے ان ظالموں  میں  شامل نہ کرنا اور ان کا ساتھی نہ بنانا۔( ابوسعود ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۳-۹۴ ،  ۴ / ۶۲)

             یاد رہے کہ یہ بات یقینی طور پر معلوم ہے کہ  اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کا ساتھی نہ بنائے گا ، ا س کے باوجود رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاا س طرح دعا فرمانا ،  عاجزی اور بندگی کے اظہار کے طور پر ہے۔ اسی طرح انبیا ئِ معصومین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام استغفار کیا کرتے ہیں حالانکہ انہیں  اپنی مغفرت اور اکرامِ خداوندی کا علم یقینی ہوتا ہے ،  یہ سب تواضع اور اظہار ِبندگی کے طور پر ہے۔

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ(۹۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم قادر ہیں  کہ تمہیں  دکھادیں  جو انہیں  وعدہ دے رہے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم اس پرقادر ہیں  کہ تمہیں  وہ دکھادیں  جس کا ہم انہیں  وعدہ دے رہے ہیں ۔

{وَ اِنَّا: اور بیشک ہم۔} اس آیت میں  ان کفار کو جواب دیا گیا ہے جو اُس عذاب کا انکار کرتے اور اس کی ہنسی اڑاتی تھے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا ،  انہیں  بتایا گیا کہ اگر تم غور کرو تو سمجھ لو گے کہ  اللہ تعالیٰ اس وعدے کو پورا کرنے پر قادر ہے ، تو پھر انکار کی وجہ اورمذاق اڑانے کا سبب کیا ہے ؟اور کفار کے عذاب میں  جو تاخیر ہورہی ہے اس میں   اللہ تعالیٰ کی ایک حکمت یہ ہے کہ ان میں  سے جو ایمان لانے والے ہیں  وہ ایمان لے آئیں  اور جن کی نسلیں  ایمان لانے والی ہیں  ان سے وہ نسلیں  پیدا ہولیں ۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۵ ،  ص۷۶۵ ،  ابوسعود ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۵ ،  ۴ / ۶۳ ،  ملتقطاً)

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَؕ-نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ(۹۶)

ترجمۂ کنزالایمان: سب سے اچھی بھلائی سے بُرائی کو دفع کرو ہم خوب جانتے ہیں  جو باتیں  یہ بناتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: سب سے اچھی بھلائی سے برائی کو دفع کرو۔ ہم خوب جانتے ہیں  جو باتیں  یہ کررہے ہیں ۔

{اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ: بُرائی کو اس خصلت و عادت سے دفع کروجو سب سے اچھی ہو۔} مفسرین نے اس خوبصورت جملے کے کثیرمعنی بیان فرمائے ہیں  ،  ان میں  سے چند یہ ہیں ۔(1) توحید جو کہ سب سے اعلیٰ بھلائی ہے اس سے شرک کی برائی کو دفع فرمائیں ۔ (2)طاعت و تقویٰ کو رواج دے کر مَعصیَت اور گناہ کی برائی دفع کیجئے۔ (3)اپنے مَکارمِ اَخلاق سے خطا کاروں  پر اس طرح عفْو ورحمت فرمائیں  جس سے دین میں  کوئی سستی نہ ہو۔( ابوسعود ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۶ ،  ۴ / ۶۳ ،  ملخصاً)

رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت سے برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالنے کی مثالیں :

            سُبْحَانَ اللّٰہ! اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اور آپ کے ذریعے آپ کی امت کی کتنی پیاری تربیت فرمائی ہے ،  اسی طرح ایک اور آیت میں  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ‘‘(حم السجدہ:۳۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اچھائی اور برائی برابرنہیں  ہوسکتی۔ برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو تو تمہارے اور جس شخص کےدرمیان دشمنی ہوگی تو اس وقت وہ ایسا ہوجائے گا کہ جیسے وہ گہرا دوست ہے۔

            حضور پُرنور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرتِ مبارکہ میں  برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالنے کی بے شمار مثالیں  موجود ہیں  ،  جیسے سو اونٹوں  کے لالچ میں  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شہید کرنے کے لئے آنے والے سراقہ بن مالک کو امان لکھ دی۔آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شہید کرنے کے ارادے سے زہر میں  بجھی تلوار لے کر آنے والے عمیر بن وہب کے ساتھ ایسا سلوک فرمایا کہ وہ وہیں  کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔ فتحِ مکہ کے بعد ان کی سفارش پر صفوان بن امیہ کو بھی معاف کر دیا ،  منافقوں  کے سردار عبد اللہ بن اُبی سلول کی نماز جنازہ پڑھا دی۔مدینہ منورہ پر کئی حملے کرنے والے ابو سفیان کو معاف کر دیا۔ اپنے چچا حضرت حمزہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کو شہید کرنے والے شخص وحشی کومعاف کر دیا۔ حضرت حمزہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کا کلیجہ چبانے والی ہند بنت ِعتبہ کو معاف کر دیا۔اگر تمام مسلمان اس آیت مبارکہ میں  دئیے گئے حکم پر عمل پیرا ہوجائیں  تو کوئی بعید نہیں  کہ ہمارے معاشرے میں  امن و سکون کا دَور دورہ ہو جائے۔

{نَحْنُ اَعْلَمُ: ہم خوب جانتے ہیں ۔} اس آیت میں  حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے  اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  ہم خوب جانتے ہیں  جو باتیں  یہ کفار  اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں  کررہے ہیں  ،  آپ ان کا معاملہ ہم پہ چھوڑدیں  ،  ہم انہیں  اس کی سزا دیں  گے۔(ابوسعود  ،  المؤمنون  ،  تحت الآیۃ : ۹۶  ،  ۴ / ۶۳  ،  بیضاوی  ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۶ ،  ۴ / ۱۶۷ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۶ ،  ص۷۶۴ ،  ملتقطاً)

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ(۹۷) وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تم عرض کرو کہ اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسو ں  سے۔ اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم عرض کرو: اے میرے رب!میں  شیطانوں  کے وسوسوں  سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ اور اے میرے رب!میں  تیری پناہ مانگتا ہوں  اس سے کہ وہ شیطان میرے پاس آئیں ۔

{وَ قُلْ: اور تم عرض کرو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں   اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مزید دو دعائیں  تعلیم فرمائی ہیں  ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ یوں  دعا کریں  کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  میں  شیطانوں  کے وسوسوں  سے تیری پناہ مانگتا ہوں  جن سے وہ لوگوں  کو فریب دے کر مَعاصی اور



Total Pages: 235

Go To