Book Name:Sirat ul jinan jild 6

            اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ  اللہ  وہی ہے جس نے تمہارے لیے کان ،  آنکھیں  اور دل بنائے تاکہ تم ان کے ذریعے سنو ،  دیکھو اورسمجھو اور دینی ،  دُنْیَوی مَنافع حاصل کرو۔اے لوگو!تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو کیونکہ تم نے ان نعمتوں

کی قدر نہ جانی اور ان سے فائدہ نہ اُٹھایا اور کانوں  ،  آنکھوں  اور دلوں  سے  اللہ تعالیٰ کی آیات سننے ،  دیکھنے ،  سمجھنے اور  اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے اور حقیقی طور پر نعمتیں  عطا فرمانے والے کا حق پہچان کر شکر گزار بننے کا نفع نہ اٹھایا۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷۸ ،  ۳ / ۳۲۹ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷۸ ،  ص۷۶۲-۷۶۳ ،  ملتقطاً)

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۷۹)وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۸۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہی ہے جس نے تمہیں  زمین میں  پھیلایا اور اسی کی طرف اُٹھنا ہے۔ اور وہی جِلائے اور مارے اور اسی کے لیے ہیں  رات اور دن کی تبدیلیں  تو کیا تمہیں  سمجھ نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے تمہیں  زمین میں  پھیلایا اور اسی کی طرف تمہیں  اٹھایاجائے گا۔اور وہی زندگی دیتا ہے اوروہی موت دیتا ہے ،  رات اور دن کا تبدیل ہونااسی کے اختیار میں  ہے۔ توکیا تم سمجھتے نہیں ؟

{وَ هُوَ: اور وہی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ وہی رب عَزَّوَجَلَّ ہے جس نے تمہیں  پیدا کیا اور نسل بڑھا کر تمہیں  زمین میں  پھیلایا اور تم اپنے پھیلاؤ کے باوجود قیامت کے دن اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے نہ کہ کسی اور کی طرف ،  تو تم کیوں  اس پر ایمان نہیں  لاتے اور ا س کا شکر ادا نہیں  کرتے۔( ابوسعود ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷۹ ،  ۴ / ۶۱)

{وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ: اور وہی زندگی دیتا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ وہی زندگی دیتا ہے اوروہی موت دیتا ہے ،  رات اور دن کا تبدیل ہونااسی کے اختیار میں  ہے ،  ان میں  سے ہر ایک کا دوسرے کے بعد آنا اور تاریکی و روشنی اور زیادتی و کمی میں  ہر ایک کا دوسرے سے مختلف ہونا یہ سب اس کی قدرت کے نشان ہیں  ، توکیا تم سمجھتے نہیں  کہ ان سے عبرت حاصل کرو اور ان میں  خدا عَزَّوَجَلَّ کی قدرت کا مشاہدہ کرکے مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو تسلیم کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۸۰ ،  ص۷۶۳)

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ(۸۱)قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ(۸۲)لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بلکہ انہوں  نے وہی کہی جو اگلے کہتے تھے۔ بولے کیا جب ہم مرجائیں  اور مٹی اور ہڈیاں  ہوجائیں  کیا پھر نکالے جائیں  گے۔بیشک یہ وعدہ ہم کو اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا کو دیا گیا یہ تو نہیں  مگر وہی اگلی داستانیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ انہوں  نے وہی بات کہی جو پہلے والے کہتے تھے۔ انہوں  نے کہا تھا : کیا جب ہم مرجائیں  گے اور مٹی اور ہڈیاں  ہوجائیں  گے توکیا پھر ہم اٹھائے جائیں  گے؟ بیشک ہمیں  اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا کو یہ وعدہ دیا گیا ،  یہ تو صرف پہلے لوگوں  کی جھوٹی داستانیں  ہیں ۔

{بَلْ: بلکہ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ سمجھے نہیں  بلکہ انہوں  نے وہی بات کہہ دی جو ان سے پہلے والے کفارکہتے تھے کہ جب ہم مرجائیں  گے اور اس کے بعدمٹی اور ہڈیاں  ہوجائیں  گے توکیا ہم پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں  گے؟ بیشک ہمیں  اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جانے کا وعدہ دیا گیا اور ہمارے باپ دادا نے تو اس کی کوئی حقیقت نہ دیکھی تو ہمیں  کہاں  سے نظر آئے گی ،  یہ تو صرف پہلے لوگوں  کی جھوٹی داستانیں  ہیں  جن کی کچھ بھی حقیقت نہیں ۔( جلالین ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۸۱-۸۳ ،  ص۲۹۲ ،  روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۸۱-۸۳ ،  ۶ / ۱۰۰ ،  ملتقطاً)

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۸۴)سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِؕ-قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ(۸۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کس کا مال ہے زمین اور جو کچھ اس میں  ہے اگر تم جانتے ہو۔ اب کہیں  گے کہ  اللہ کا تم فرماؤ پھر کیوں  نہیں  سوچتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ : زمین اور جو کچھ اس میں  ہے وہ سب کس کا ہے؟ اگر تم جانتے ہو۔ اب کہیں  گے کہ  اللہ کا۔تم فرماؤ: توکیا تم نصیحت حاصل نہیں  کرتے؟

{قُلْ: تم فرماؤ۔} کفار کی اُس بات کا رد فرمانے اور اُن پر حجت قائم فرمانے کے لئے  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان سے فرما دیں  کہ زمین اور جو کچھ اس میں  ہے وہ سب کس کا ہے؟ اگر تم جانتے ہو تومجھے بتاؤ کہ ا ن کا خالق اور مالک کون ہے؟( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۸۴ ،  ص۷۶۳ ،  خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۸۴ ،  ۳ / ۳۳۰ ،  ملتقطاً)

{سَیَقُوْلُوْنَ: اب کہیں  گے۔}  اللہ تعالیٰ نے کفار کی طرف سے ا س سوال کا دیا جانے والاجواب پہلے ہی اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرما دیا کہ اس سوال کے جواب میں  عنقریب کافر کہیں  گے: ان کا خالق و مالک  اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے۔ کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی جواب ہی نہیں  اور مشرکین  اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کا اقرار بھی کرتے ہیں  ،  جب وہ یہ جواب دیں  تو اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان سے فرمائیں  کہ پھر تم کیوں  غور نہیں  کرتے تا کہ یہ بات جان جاؤ کہ جس نے زمین کو اور اس کی کائنات کو ابتداء ً پیدا کیا وہ ضرور مُردوں  کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۸۵ ،  ۳ / ۳۳۰ ،  ابوسعود ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۸۵ ،  ۴ / ۶۱ ،  ملتقطاً)

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ(۸۶)سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِؕ-قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کون ہے مالک ساتوں  آسمانوں  کا اور مالک بڑے عرش کا۔ اب کہیں  گے یہ  اللہ ہی کی شان ہے تم فرماؤ پھر کیوں  نہیں  ڈرتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: ساتوں  آسمانوں  کا مالک اور عرشِ عظیم کا مالک کون ہے؟ اب کہیں  گے: یہ سب  اللہ ہی کاہے۔ تم فرماؤ :توکیاتم ڈرتے نہیں ؟

{سَیَقُوْلُوْنَ: اب کہیں  گے۔} اس سے پہلی آیت میں  کفار سے دوسراسوال کیا گیا کہ ساتوں  آسمانوں  کا اور عرشِ عظیم کا مالک کون ہے؟  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ



Total Pages: 235

Go To