Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک تم انہیں  سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہو۔ اور بیشک جو آخرت پر ایما ن نہیں  لاتے ضرور سیدھی راہ سے کترائے ہوئے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک تم انہیں  سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہو۔اور بیشک جو آخرت پر ایما ن نہیں  لاتے وہ ضرور سیدھی راہ سے کترائے ہوئے ہیں ۔

{وَ اِنَّكَ: اور بیشک تم۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  بے شک آپ انہیں  سیدھی راہ یعنی دین ِاسلام کی طرف بلاتے ہیں  تو اُن پر لازم ہے کہ آپ کی دعوت قبول کریں  اور اسلام میں  داخل ہوں ۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷۳ ،  ص۷۶۲)

{وَ اِنَّ الَّذِیْنَ: اور بیشک جو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  بیشک جو لوگ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے پر ایمان نہیں  لاتے وہ ضرور دینِ حق سے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔( جلالین ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷۴ ،  ص۲۹۱)

            اس سے معلوم ہوا کہ آخرت پر ایمان لانا اور قیامت کے دن کی ہَولْناکیوں  کا خوف راہِ حق تلاش کرنے اور اس پر چلنے کا بہت مضبوط ذریعہ ہے۔( روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷۴ ،  ۶ / ۹۶ ،  ملخصاً)

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۷۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر ہم ان پر رحم کریں  اور جو مصیبت ان پر پڑی ہے ٹال دیں  تو ضرور بھٹ پنا کریں  گے اپنی سرکشی میں  بہکتے ہوئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر ہم ان پر رحم فرماتے اور جو مصیبت ان پر پڑی تھی وہ ٹال دیتے تو یہ اپنی سرکشی میں  بھٹکتے ہوئے ضرور ڈھیٹ پن کرتے۔

{وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ: اور اگر ہم ان پر رحم فرماتے۔} شانِ نزول: جب قریش سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعا سے سات برس کے قحط میں  مبتلا ہوئے اور ان کی حالت بہت اَبتر ہوگئی تو ابوسفیان اُن کی طرف سے نبی کریم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  حاضر ہوئے اور عرض کی : کیا آپ اپنے خیال میں سب جہانوں  کے لئے رحمت بنا کر نہیں  بھیجے گئے۔تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا بے شک۔ ابوسفیان نے کہا: قریش اپنے خلاف آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعا سے اس حالت کو پہنچ گئے ہیں  کہ قحط کی مصیبت میں  مبتلا ہوئے ،  فاقوں  سے تنگ

آگئے ،  لوگ بھوک کی بے تابی سے ہڈیاں  چبا گئے اور مردار تک کھا گئے۔ میں  آپ کو  اللہ کی قسم دیتا ہوں  اور قرابت کی ،  آپ  اللہ سے دعا کیجئے کہ ہم سے اس قحط کو دور فرمادے۔ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دعا کی اور انہوں  نے اس بلا سے رہائی پائی اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷۵ ،  ۳ / ۳۲۹ ،  ملخصاً)

            اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم ان پر رحم فرمائیں  اور سات سالہ قحط سالی کی جو مصیبت ان اہلِ مکہ پر پڑی ہے وہ ٹال بھی دیں  توپھر وہ اپنے کفر و عناد اور سرکشی کی طرف لوٹ جائیں  گے اور ان کی یہ خوشامد و چاپلوسی جاتی رہے گی اور رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مومنین کی عداوت اور تکبر جواُن کا پہلا طریقہ تھا ،  یہ وہی اختیار کریں  گے۔(ابوسعود ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷۵ ،  ۴ / ۶۰ ،  ملخصاً)

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ(۷۶)حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے انہیں  عذاب میں  پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں  جھکے اور نہ گڑگڑاتے ہیں ۔ یہاں  تک کہ جب ہم نے ان پر کھولا کسی سخت عذاب کا دروازہ تو وہ اب اس میں  ناامید پڑے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے انہیں  عذاب میں  گرفتار کردیا تو وہ نہ تب اپنے رب کے حضور جھکے اور نہ ہی (اب) عاجزی کررہے ہیں ۔ یہاں  تک کہ جب ہم اُن پرکسی سخت عذاب والادروازہ کھولتے ہیں  تو اس وقت وہ اس میں  ناامید پڑے ہوتے ہیں ۔

{وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ: اور بیشک ہم نے انہیں  عذاب میں  گرفتار کردیا۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک ہم نے انہیں  بھوک کے عذاب میں  گرفتار کر دیا تو وہ پھر بھی نہ ا س وقت اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور جھکے ہیں  اور نہ ہی وہ آئندہ

 اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  عاجزی کریں  گے۔( جلالین مع صاوی ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷۶ ،  ۴ / ۱۳۷۳)

            اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت کے موقع پر بھی  اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کرنا بڑی بد بختی کی دلیل ہے۔

{حَتّٰى: یہاں  تک۔} آیت کا معنی یہ ہے کہ جب ہم اُن پر موت کے وقت یا قیامت کے دن کسی سخت عذاب والا دروازہ کھولیں  گے تو اس وقت وہ اس عذاب میں  ہر بھلائی سے ناامید پڑے ہوں  گے۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷۷ ،  ۳ / ۳۲۹)

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـٕدَةَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ(۷۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہی ہے جس نے بنائے تمہارے لیے کان اور آنکھیں  اور دل تم بہت ہی کم حق مانتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں  اور دل بنائے ،  تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو۔

{وَ هُوَ: اور وہی ہے۔} اس آیت سے  اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے خطاب فرمایا اور ا س سے مقصود اہلِ ایمان کو نعمتیں  یاد دلا نا جبکہ کفار کو ا س بات پر سختی سے تَنبیہ کرنا ہے کہ انہوں  نے ان نعمتوں  کو ان کے مَصرَف میں  استعمال نہیں  کیا کیونکہ کان اس لئے بنائے گئے ہیں  کہ ان سے وہ بات سنی جائے جس سے ہدایت ملے اورا ٓنکھیں  اس لئے پیدا کی گئی ہیں  کہ ان کے ذریعے  اللہ تعالیٰ کی صفات کے کمال پر دلالت کرنے والی نشانیوں  کا مشاہدہ کیا جائے اور دلوں  کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ ان کے ذریعے  اللہ تعالیٰ کی صَنعتوں  میں  غورو فکر کیا جائے تو جس نے ان نعمتوں  کو ان کے مصرف میں  استعمال نہ کیا تو وہ ایسا شخص ہے جس نے ان نعمتوں  سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔( صاوی ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷۸ ،  ۴ / ۱۳۷۳-۱۳۷۴)

 



Total Pages: 235

Go To