Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہاں  تک کہ جب ہم نے ان کے خوشحال لوگوں  کو عذاب میں  پکڑا تو جبھی وہ فریاد کرنے لگے۔

{حَتّٰى: یہاں  تک کہ۔} اس آیت میں  کفار کے اعمال کا انجام بیا ن کیاگیا کہ کفار اپنے اعمال پر ہی قائم رہے یہاں  تک کہ جب ہم نے ان کے خوشحال لوگوں  کو عذاب میں  پکڑا اور وہ بدر کے دن تلواروں  سے قتل کئے گئے تو جبھی وہ فریاد کرنے لگے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس عذاب سے مراد فاقوں  اور بھوک کی وہ مصیبت ہے جو تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعا سے ان پر مُسَلّط کی گئی تھی اور اس قحط کی وجہ سے ان کی حالت یہاں  تک پہنچ گئی تھی کہ وہ کتّے اور مردار تک کھا گئے تھے۔( روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۴ ،  ۶ / ۹۲ ،  خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۴ ،  ۳ / ۳۲۸ ،  ملتقطاً)

لَا تَجْــٴَـرُوا الْیَوْمَ۫-اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ(۶۵)قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ(۶۶) مُسْتَكْبِرِیْنَ ﳓ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ(۶۷)

ترجمۂ کنزالایمان: آج فریاد نہ کرو ہماری طرف سے تمہاری مدد نہ ہوگی۔ بیشک میری آیتیں  تم پر پڑھی جاتی تھیں  تو تم اپنی ایڑیوں  کے بل الٹے پلٹتے تھے۔ خدمتِ حرم پر بڑائی مارتے ہو رات کو وہاں  بیہودہ کہانیاں  بکتے حق کو چھوڑے ہوئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آج فریاد نہ کرو ،  بیشک ہماری طرف سے تمہاری مدد نہیں  کی جائے گی۔ بیشک میری آیات کی تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی تھی تو تم اپنی ایڑیوں  کے بل الٹے پلٹتے تھے۔ خانہ کعبہ کی خدمت پر ڈینگیں  مارتے ،  رات کوالٹی سیدھی باتیں  ہانکتے  ، ( حق) کو چھوڑتے ہوئے۔

{لَا تَجْــٴَـرُوا الْیَوْمَ: آج فریاد نہ کرو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کی فریاد کے جواب میں  ان سے کہا گیا کہ آج فریاد نہ کرو ،  اس سے تمہیں  کوئی فائدہ نہ ہو گا کیونکہ بیشک ہماری طرف سے تمہاری مدد نہیں  کی جائے گی۔ (اس کی وجہ یہ ہے کہ) بے شک قرآن مجید کی آیات تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی تھیں  ،  لیکن تم اپنی ایڑیوں  کے بل پلٹ جاتے تھے اور ان آیات پر ایمان نہ لاتے تھے اور تمہارا حال یہ تھاکہ تم خانہ کعبہ کی خدمت پر یہ کہتے ہوئے ڈینگیں  مارتے تھے کہ ہم حرم والے ہیں  اور بَیْتُ  اللہ کے ہمسائے ہیں  ،  ہم پر کوئی غالب نہ ہوگا ،  ہمیں  کسی کا خوف نہیں  اور کعبہ معظمہ کے گرد جمع ہو کرالٹی سیدھی باتیں  ہانکتے ہوئے رات کو وہاں  بیہودہ باتیں  کرتے تھے اور اُن باتوں  میں  اکثر قرآن پاک پر طعن کرنا ،  اسے جادو اور شعر کہنا ،  اور سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں  بے جا باتیں  کہنا ہوتا تھا اورتم نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اور مومنوں  کو نیز قرآن کریم کو چھوڑے ہوئے تھے۔(خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۵-۶۷ ،  ۳ / ۳۲۸ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۵-۶۷ ،  ص۷۶۰ ،  ملتقطاً)

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘(۶۸)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا انہوں  نے بات کو سوچا نہیں  یا ان کے پاس وہ آیا جو ان کے باپ دادا کے پاس نہ آیا تھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا اُنہوں  نے قرآن میں  غور و فکر نہیں  کیا ؟یا کیا اُن کے پاس وہ آیا جو اُن کے باپ دادا کے پاس نہ آیا تھا؟

{اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا: کیا اُنہوں  نے غور و فکر نہیں  کیا؟} اس آیت سے  اللہ تعالیٰ نے حق کی پیروی سے اِعراض کرنے کی وجہ سے کفارِ مکہ کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ کیا انہوں  نے قرآن پاک میں  غور نہیں  کیا اور اس کے اعجازپر نظر نہیں  ڈالی جس سے اُنہیں  معلوم ہوجاتا کہ یہ کلام حق ہے ،  اس کی تصدیق لازم ہے اور جو کچھ اس میں  ارشاد فرمایا گیا وہ سب حق اور اسے تسلیم کرنا واجب ہے اوررسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صداقت و حقّانیّت پر اس میں  واضح دلالتیں  موجود ہیں  اور کیااُن کے پاس وہ چیز آئی ہے جو اُن کے باپ دادا کے پاس نہ آئی تھی۔یعنی رسول کا تشریف لانا ایسی نرالی بات نہیں  ہے جو کبھی پہلے زمانے میں  ہوئی ہی نہ ہو اور وہ یہ کہہ سکیں  کہ ہمیں  خبر ہی نہ تھی کہ خدا عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے رسول آیا بھی کرتے ہیں  ،  کبھی پہلے کوئی رسول آیا ہوتا اور ہم نے اس کا تذکرہ سنا ہوتا تو ہم کیوں  اس رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نہ مانتے۔ تمہارے پاس یہ عذر کرنے کا موقع بھی نہیں  ہے کیونکہ پہلی امتوں  میں  رسول آچکے ہیں  اور خدا عَزَّوَجَلَّ کی کتابیں  نازل ہوچکی ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۸ ،  ۸ / ۲۸۶ ،  خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۸ ،  ۳ / ۳۲۸ ،  ابوسعود ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۸ ،  ۴ / ۵۷ ،  ملتقطاً)

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘(۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان: یا انہوں  نے اپنے رسول کو نہ پہچانا تو وہ اسے بیگانہ سمجھ رہے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یاکیا اُنہوں  نے اپنے رسول کو پہچانانہیں  ہے؟ تو وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔

{اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا: یا کیا اُنہوں  نے پہچانانہیں  ہے؟} کفار ِمکہ سے مزید فرمایا کہ کیا انہوں  نے اپنے رسول کو پہچانانہیں  اور حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عمر شریف کے جملہ اَحوال کو نہ دیکھا اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عالی نسب ،  صدق و امانت ،  وُفورِ عقل ،  حسنِ اَخلاق ،  کمالِ حلم ،  وفا و کرم اور مُرَوَّت وغیرہ پاکیزہ اخلاق ،  اچھی صِفات اور بغیر کسی سے سیکھے آپ کے علم میں  کامل اور تمام جہان سے زیادہ علم رکھنے اور فائق ہونے کو نہ جانا ،  کیا ایسا ہے؟ حقیقت میں  یہ بات تو نہیں  بلکہ وہ سَرورِ عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَوصاف و کمالات کو خوب جانتے ہیں  اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی برگُزیدہ صفات شہرہ آفاق ہیں  ،  پھر بھی وہ بلاوجہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس پیارے نبی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا انکار کررہے ہیں ۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ : ۶۹ ،   ۳ / ۳۲۸ ،  مدارک ،  المؤمنون  ،  تحت الآیۃ: ۶۹ ،  ص۷۶۱ ،  روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۹ ،  ۶ / ۹۴ ،  ملتقطاً)

 حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت پہچاننے کا ایک طریقہ:

            قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کے کلام کی روشنی میں  یہاں  ایک مختصر مضمون دیا جارہا ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت پہچاننے اور آپ کے محبت کیلئے قابل ترین ہستی ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ انسان کے کچھ کمالات فِطری ہوتے ہیں  جیسے حسن ، قوت ، عقل ،  فہم کی درستی ،  زبان کی فصاحت ،  حَواس اور اَعضاء کی قوت ، مُعتدل حرکات ، نسب کی شرافت ،  قومی عزت ، وطنی کرامت۔ نیز کچھ چیزیں  زندگی کی ضرورت ہوتی ہیں  جو اگرچہ دنیوی ہوتی ہیں  لیکن جب ان سے تقویٰ مقصود ہو تو وہ آخرت کی خوبیوں  



Total Pages: 235

Go To