Book Name:Sirat ul jinan jild 6

توریت شریف عطا فرمائی تاکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم بنی اسرائیل ا س کے احکامات پر عمل کر کے سیدھے راستے کی ہدایت پاجائیں ۔( روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۶ / ۸۶)

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو نشانی کیا اور انہیں  ٹھکانا دیا ایک بلند زمین جہاں  بسنے کا مقام اور نگاہ کے سامنے بہتا پانی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو نشانی بنادیا اور انہیں  ایک بلند ، رہائش کے قابل اور آنکھوں  کے سامنے بہتے پانی والی سرزمین میں  ٹھکانہ دیا۔

{وَ جَعَلْنَا: اور ہم نے بنا دیا۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنی قدرت کی نشانی بنادیا۔حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کا نشانی ہونا اس طور پر ہے کہ انہیں  کسی مرد نے نہ چھوا لیکن اس کے باوجود  اللہ تعالیٰ نے ان کے پیٹ میں  حمل پیدا فرما دیا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نشانی ہونا اس طور پر ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے انہیں  بغیر باپ کے پیدا فرمایا ، جھولے میں  انہیں  کلام کرنے کی طاقت دی اور ان کے دستِ اقدس سے پیدائشی اندھوں  اور کوڑھ کے مریضوں  کو شفا دی اور مُردوں  کوزندہ فرمایا۔مزید ارشاد فرمایا کہ ہم نے انہیں  ایک بلند ،  ہموار ،  کشادہ اور پھلوں  والی جگہ دی جو اِن چیزوں  کی وجہ سے رہائش کے قابل تھی نیز وہاں  آنکھوں  کے سامنے پانی بہہ رہا تھا جو خوبصورتی کی علامت بھی ہے اور قابلِ رہائش ہونے کی بھی۔ ایک قول کے مطابق اس سر زمین سے مراد بَیتُ الْمَقْدَس ہے اور بعض مفسرین کے نزدیک اس سے دمشق یا فلسطین کی سرزمین مراد ہے۔ اس بارے میں  اور بھی کئی قول ہیں ۔(تفسیرکبیر  ،  المؤمنون  ،  تحت الآیۃ : ۵۰  ،   ۸ / ۲۷۹ - ۲۸۰  ،  خازن  ،  المؤمنون  ،   تحت الآیۃ:۵۰ ،   ۳ / ۳۲۶ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵۰ ،  ص۷۵۸-۷۵۹ ،  ملتقطاً)

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں  کھاؤ اور اچھا کام کرو میں  تمہارے کاموں  کو جانتا ہوں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے رسولو!پاکیزہ چیزیں  کھاؤ اور اچھا کام کرو ،  بیشک میں  تمہارے کاموں  کو جانتا ہوں ۔

{یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ: اے رسولو!} یہ حکم تمام رسولوں  کو تھاجیسا کہ آگے حدیث نمبر چار سے واضح ہے۔ البتہ بطورِ ندا مُخاطَب کئے جانے کے اعتبار سے بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں  رسولوں  سے مراد تمام رسول ہیں  اور ہر ایک رسول کو اُن کے زمانے میں  یہ ندا فرمائی گئی۔ ایک قول یہ ہے کہ رسولوں  سے مراد خاص سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں  اور

ایک قول یہ ہے کہ ان سے مرادحضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ۔ان کے علاوہ اور بھی کئی قول ہیں ۔ پاکیزہ چیزوں  سے مراد حلال چیزیں  اور اچھے کام سے مراد شریعت کے اَحکام پر اِستقامت کے ساتھ عمل کرنا ہے۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ص۷۵۹ ،  خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۳ / ۳۲۶ ،  ملتقطاً)

پاکیزہ اور حلال چیزیں  کھانے کی ترغیب اور ناپاک و حرام چیزیں  کھانے کی مذمت:

            اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پاکیزہ اور حلال چیزیں  کھانے کاحکم دیا اور قرآنِ مجید میں  د وسرے مقام پریہی حکم  اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں  کو بھی دیا ہے ، اس مناسبت سے یہاں پاکیزہ و حلال چیزیں  کھانے کی ترغیب اور ناپاک و حرام اَشیاء کھانے کی مذمت پر مشتمل 4اَحادیث ملاحظہ ہوں ۔

(1)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص پاکیزہ (یعنی حلال) چیز کھائے اور سنت کے مطابق عمل کرے اور لوگ ا س کے شر سے محفوظ رہیں  تو وہ جنت میں  داخل ہو گا۔( ترمذی ،  کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ،  ۶۰-باب ،  ۴ / ۲۳۳ ،  الحدیث: ۲۵۲۸)

(2)…حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ہر وہ جسم جو حرام سے پلابڑھا توآگ اس سے بہت قریب ہوگی۔(شعب الایمان ،  التاسع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔الخ ،  فصل فی طیب المطعم والملبس ، ۵ / ۵۶ ، الحدیث:۵۷۵۹)

(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تم میں  سے کوئی شخص اپنے منہ میں  مٹی ڈال لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنے منہ میں  ایسی چیز ڈالے جسے  اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیاہے۔( شعب الایمان ،  التاسع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔الخ ، فصل فی طیب المطعم والملبس ، ۵ / ۵۷ ، الحدیث: ۵۷۶۳)

(4)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک چیز کے سوا اور کسی چیز کو قبول نہیں  فرماتا اور  اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں  کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں  کو حکم دیا تھا اور فرمایا:

’’ یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے رسولو!پاکیزہ چیزیں  کھاؤ اور اچھا

صَالِحًاؕ-اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ‘‘

کام کرو ، بیشک میں  تمہارے کاموں  کو جانتا ہوں ۔

 اور فرمایا:

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھریچیزیں  کھاؤ۔

            پھر نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک ایسے شخص کاذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے ،  اس کے بال غبار آلود ہیں  ، وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے’’یا رب! یا رب! اور



Total Pages: 235

Go To