Book Name:Sirat ul jinan jild 6

سورہِ مریم کی آیت 5اور 6سے حاصل ہونے والی معلومات:

            ان آیاتِ مبارکہ سے یہ چیزیں  معلوم ہوئیں :

(1)… حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کانیک صالح بیٹے کے لیے دعاکرنادین کے لیے تھا ، نہ کہ کسی دُنْیَوی غرض سے۔

(2)… انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وراثت علم وحکمت ہی ہوتی ہے لہٰذا آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا میں  اسی وراثت کا ذکر فرمایا ہے۔

(3)…بیٹے کی دعا کرنا سنت ِانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہے مگر اس لئے کہ وہ توشۂ آخرت ہو۔ البتہ یہ یاد رہے کہ بیٹی پیدا ہونے پر غم کرنا کفار کا طریقہ ہے۔

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ ﹰاسْمُهٗ یَحْیٰىۙ-لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں  ایک لڑکے کی جن کا نام یحییٰ ہے اس کے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی نہ کیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے زکریا! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں  جس کا نام یحیٰ ہے  ، اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی دوسرا نہ بنایا۔

{ یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ:اے زکریا! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں ۔}  اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریاعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی یہ دعا قبول فرمائی اور ارشاد فرمایا ’’ اے زکریا! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں  جو آپ کی طلب کے مطابق (آپ کے علم اور آلِ یعقوب کی نبوت کا) وارث ہو گا ،  اس کا نام یحیٰ ہے اور اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی دوسرا نہ بنایا کہ ا س کا نام یحیٰ رکھا گیا ہو۔( جلالین ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ص۲۵۴)

آیت ’’ یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ‘‘ سے متعلق تین باتیں :

            یہاں  اس آیتِ مبارکہ سے متعلق 3 باتیں  قابلِ ذکر ہیں :

(1)… سورۂ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 39میں  ذکر ہوا کہ حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے دعا مانگنے کے بعد فرشتوں  نے انہیں  حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بشارت دی اور اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے انہیں  حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بشارت دی  ،  اس کے بارے میں  امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’ہو سکتا ہے کہ بشارت دو مرتبہ دی گئی ہو یعنی ایک مرتبہ  اللہ تعالیٰ نے اور ایک مرتبہ فرشتوں  نے بشارت دی ہو۔( تفسیر کبیر ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۷ / ۵۱۲)

(2)…اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ان کا نام لے کر پکارا ،  اسی طرح دیگر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بھی قرآنِ مجید میں  ان کانام لے کر پکارا گیا ہے ،  اس کے بارے میں  اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’قرآنِ عظیم کا عام محاورہ ہے کہ تمام انبیائے کرام کو نام لے کر پکارتا ہے ،  مگر جہاں  محمَّد رسولُ اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَسَلَّمَ سے خطاب فرمایا ہے حضور کے اَوصافِ جلیلہ و اَلقابِ جمیلہ ہی سے یاد کیا ہے (چنانچہ کہیں  ارشاد فرمایا)’’ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ‘‘(احزاب:۴۵)اے نبی ہم نے تجھے رسول کیا۔

(کہیں  ارشاد فرمایا)

’’ یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ‘‘(مائدہ:۶۷)         اے رسول پہنچا جو تیری طرف اترا ۔

(کہیں  ارشاد فرمایا)

’’ یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱) قُمِ الَّیْلَ‘‘(مزمل:۱ ، ۲)       اے کپڑا اوڑھے لیٹنے والے رات میں  قیام فرما۔

(کہیں  ارشاد فرمایا)

’’ یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ(۱) قُمْ فَاَنْذِرْ‘‘(مدثر:۱ ، ۲)        اے جھرمٹ مارنے والے کھڑا ہو  ، لوگوں  کو ڈر سنا۔

(کہیں  ارشاد فرمایا)

’’ یٰسٓۚ(۱) وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ(۲) اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ‘‘(یس: ۱-۳)

اے یٰس ! ،  ، یا ،  ،  اے سردار! مجھے قسم ہے حکمت والے قرآن کی ،  بے شک تو مُرسَلوں  سے ہے ۔

(کہیں  ارشاد فرمایا)

’’طٰهٰۚ(۱) مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤى‘‘(طہ:۱ ،  ۲)

اے طہ!  ،  ، یا ،  ،  اے پاکیزہ رہنما! ہم نے تجھ پر قرآن اس لیے نہیں  اتارا کہ تو مشقت میں  پڑے ۔

            ہر ذی عقل جانتا ہے کہ جو ان نداؤں  اور ان خطابوں  کو سنے گا ،  بِالبداہت حضور سیّد المرسَلین و اَنبیائے سابقین کا فرق جان لے گا۔ ۔۔امام عزّالدین بن عبد السّلام وغیرہ علمائے کرام فرماتے ہیں  ’’ بادشاہ جب اپنے تمام اُمرا کو نام لے کر پکارے اور ان میں  خاص ایک مقرب کو یوں  ندا فرمایا کرے : اے مقربِ حضرت ،  اے نائب ِسلطنت  ، اے صاحبِ عزت  ،  اے سردارِ مملکت! تو کیا (اس بات میں ) کسی طرح محلِ رَیب وشک باقی رہے گا کہ یہ بندہ بارگاہِ ِسلطانی میں  سب سے زیادہ عزت و وَجاہت والا اور سرکارِ سلطانی کو تمام عَمائد و اَراکین سے بڑھ کر پیارا ہے۔(فتاوی رضویہ ، رسالہ: تجلی الیقین ،  ۳۰ / ۱۵۴-۱۵۵)

(3)…  اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکویہ فضیلت عطا فرمائی کہ ان کی ولادت سے پہلے ہی ان کا نام رکھ

دیا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھی یہ فضیلت عطا ہوئی کہ ان کی ولادت سے پہلے ہی ان کا نام بتا دیا گیا اور  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جو مقام عطا



Total Pages: 235

Go To