Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{ثُمَّ اَنْشَاْنَا: پھر ہم نے پیدا کیں ۔} یعنی قومِ عاد کی ہلاکت کے بعد ہم نے دوسری بہت سی قومیں  جیسے حضرت صالح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ،  حضرت لوط عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم اور حضرت شعیب عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم وغیرہ پیدا کیں  تاکہ لوگوں  پر ہماری قدرت ظاہر ہو اور ہر امت جان لے کہ ہم ان سے بے نیاز ہیں  ،  اگر وہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعوت قبول کرتے اور رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اطاعت کرتے ہیں  تو اس کا انہیں  ہی فائدہ ہو گا۔( روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۴۲ ،  ۶ / ۸۴)

{مِنْ اُمَّةٍ: کوئی امت۔} ارشاد فرمایا کہ کوئی امت اپنی مدت سے نہ پہلے جاتی ہے اور نہ وہ لوگ اس مدت سے پیچھے رہتے ہیں  ،  جس امت کے لئے ہلاک ہونے کا جو وقت مقرر ہے وہ ٹھیک اسی وقت ہلاک ہوگی اس میں  کچھ بھی تقدیم و تاخیر نہیں  ہوسکتی۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ص۷۵۸)

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَاؕ-كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَۚ-فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ہم نے اپنے رسول بھیجے ایک پیچھے دوسرا جب کسی اُمت کے پاس اس کا رسول آیا انہوں  نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اگلوں  سے پچھلے ملادئیے اور انہیں  کہانیاں  کر ڈالا تو دُور ہوں  وہ لوگ کہ ایمان نہیں  لاتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے۔ جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا توانہوں  نے اسے جھٹلایا تو ہم نے ایک کو دوسرے سے ملادیا اور انہیں  داستانیں  بنا ڈالا تو ایمان نہ لانے والے دور ہوں ۔

{ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا: پھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے۔} یعنی جس طرح ہم نے ایک کے بعد دوسری قوم کو پیدا کیا اسی حساب سے ہم نے ان میں  لگاتار اپنے رسول بھیجے اور جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا توانہوں  نے پہلوں  کی طرح اسے جھٹلایا اور اس کی ہدایت کو نہ مانا اور اس پر ایمان نہ لائے تو ہم نے انہیں  ہلاک کرکے ایک کو دوسرے سے ملادیا اور بعد والوں  کو پہلوں  کی طرح ہلاک کردیااور انہیں  داستانیں  بنا ڈالاکہ بعد والے افسانے کی طرح ان کا حال بیان کیا کریں  اور ان کے عذاب اور ہلاکت کا بیان عبرت کا سبب ہو تو ایمان نہ لانے والے  اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں۔(تفسیرکبیر ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ۸ / ۲۷۸ ،  روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ۶ / ۸۴-۸۵ ،  ملتقطاً)

جنت کی نعمتیں  پانے کا ذریعہ اور جہنم کے عذاب میں  مبتلا ہونے کا سبب :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح جنت کی نعمتیں  ملنے اور جہنم کے عذاب سے نجات کا ذریعہ ایمان لانا ہے اسی طرح دنیا میں  ہلاکت اور آخرت میں  جہنم کے دردناک عذاب میں مبتلا ہونے کاسبب ایمان نہ لانا ہے ،  لہٰذا ہر عقل مند انسان پر لاز م ہے کہ وہ کفر کر کے اپنی جان کے ساتھ دشمنی نہ کرے بلکہ  اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت ،  سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت اور تمام ضروریات ِدین پر ایمان لاکر عقلمندی کا ثبوت دے اور اپنی جان کو ہلاکت سے بچائے۔

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ ﳔ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ(۴۵) اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی آیتوں  اور روشن سند کے ساتھ بھیجا۔فرعون اور اس کے درباریوں  کی طرف تو انہوں  نے غرور کیااور وہ لوگ غلبہ پائے ہوئے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی آیتوں  اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا۔ فرعون اور اس کے درباریوں  کی طرف تو انہوں  نے تکبر کیا اور وہ غلبہ پائے ہوئے لوگ تھے۔

{ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى: پھر ہم نے موسیٰ کو بھیجا۔} یہاں  سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے ،  چنانچہ اس آیت اوراس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سے پہلی آیت میں  جن رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر ہوا ان کے بعد  اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنی آیتوں  اور روشن دلیل جیسے عصا اور روشن ہاتھ وغیرہ معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں  کی طرف بھیجا تو فرعون اورا س کے درباریوں  نے غرور کیا اور اپنے تکبرکے باعث ایمان نہ لائے اور وہ بنی اسرائیل پر اپنے ظلم و ستم سے غلبہ پائے ہوئے لوگ تھے۔( تفسیرطبری ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۴۵-۴۶ ،  ۹ / ۲۱۶ ،  ملخصاً)

            نوٹ:یاد رہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے واقعات متعدد سورتوں  میں  گزر چکے ہیں ۔

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ(۴۷) فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ(۴۸)وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ(۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: تو بولے کیا ہم ایمان لے آئیں  اپنے جیسے دو آدمیوں  پر اور ان کی قوم ہماری بندگی کررہی ہے۔ تو انہوں  نے ان دونوں  کو جھٹلایا تو ہلاک کیے ہوؤں  میں  ہوگئے۔اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی کہ ان کو ہدایت ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کہنے لگے: کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں  پرایمان لے آئیں  حالانکہ ان کی قوم ہماری اطاعتگزار ہے۔تو انہوں  نے ان دونوں  کو جھٹلایا تو ہلاک کئے جانے والوں  میں  سے ہوگئے۔ اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی تاکہ (بنی اسرائیل) ہدایت پاجائیں ۔

{فَقَالُوْا: تو کہنے لگے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اُنہیں  ایمان کی دعوت دی تو کہنے لگے’’کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں  یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پرایمان لے آئیں  حالانکہ ان کی قوم بنی اسرائیل ہمارے زیرِ فرمان ہے ،  تو یہ کیسے گوارا ہو کہ اسی قوم کے دو آدمیوں  پر ایمان لا کر اُن کے اطاعت گزار بن جائیں ۔ یہ لوگ اپنی تکذیب پر قائم رہے یہاں  تک کہ دریا میں  غرق ہو کر ہلاک کئے جانے والوں  میں  سے ہوگئے۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۴۷-۴۸ ،  ۳ / ۳۲۶ ،  ابوسعود ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۴۷-۴۸ ،  ۴ / ۴۹-۵۰ ،  ملتقطاً)

{وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کتاب یعنی



Total Pages: 235

Go To