Book Name:Sirat ul jinan jild 6

جیسے اپنی قدرت سے پانی نازل فرمایا ایسے ہی اس پر بھی قادر ہیں  کہ اس کو ختم کردیں  تو بندوں کو چاہیے کہ اس نعمت کی شکر گزاری سے حفاظت کریں ۔(خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۳ / ۳۲۲ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ص۷۵۴ ،  ملتقطاً)

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍۘ-لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ(۱۹) وَ شَجَرَةً تَخْرُ جُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اس سے ہم نے تمہارے لئے باغ پیدا کئے کھجوروں  اور انگوروں  کے تمہارے لیے ان میں  بہت سے میوے ہیں  اور ان میں  سے کھاتے ہو۔ اور وہ پیڑ پیدا کیا کہ طور سینا سے نکلتا ہے لے کر اُگتا ہے تیل اور کھانے والوں  کے لیے سالن۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس پانی سے ہم نے تمہارے لئے کھجوروں  اور انگوروں  کے باغات پیدا کئے۔ تمہارے لیے ان باغوں میں  بہت سے پھل میوے ہیں  اور ان میں  سے تم کھاتے ہو۔ اور (ہم نے) درخت (پیدا کیا) جو طور سینا پہاڑ سے نکلتا ہے ،  تیل اور کھانے والوں  کے لیے سالن لے کر اگتا ہے۔

{فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ: تو ہم نے تمہارے لئے پیدا کئے۔} یعنی جو پانی آسمان سے نازل فرما یا اس سے ہم نے تمہارے لئے کھجوروں  اور انگوروں  کے باغات پیدا کئے۔ تمہارے لیے ان باغوں میں  کھجوروں  اور انگوروں  کے علاوہ مزید بہت سے پھل میوے ہیں  اور سردی گرمی وغیرہ موسموں  میں  ان میں  سے تم کھاتے ہو اور عیش کرتے ہو۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ۳ / ۳۲۳ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ص۷۵۴ ،  ملتقطاً)

 {وَ شَجَرَةً: اور درخت۔} یعنی  اللہ تعالیٰ نے زیتون کادرخت پیدا کیا جو طورِ سَینا نامی پہاڑسے نکلتا ہے ،  تیل اور کھانے والوں  کے لیے سالن لے کر اگتا ہے۔ یہ اس میں  عجیب صفت ہے کہ وہ تیل بھی ہے کہ تیل کے مَنافع اور فوائد اس سے حاصل کئے جاتے ہیں  ،  جلایا بھی جاتا ہے ،  دوا کے طریقے پر بھی کام میں  لایا جاتا ہے اور سالن کا بھی کام دیتا ہے کہ تنہا اس سے روٹی کھائی جاسکتی ہے۔( ابو سعود ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۴ / ۴۱-۴۲ ،  ملخصاً)

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةًؕ-نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ(۲۱) وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک تمہارے لیے چوپاؤں  میں  سمجھنے کا مقام ہے ہم تمہیں  پلاتے ہیں  اس میں  سے جو اُن کے پیٹ میں  ہے اور تمہارے لیے ان میں  بہت فائدے ہیں  اور ان سے تمہاری خوراک ہے۔ اور ان پر اور کشتی پر سوار کیے جاتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں  میں  سمجھنے کا مقام ہے ،  ہم تمہیں  اس میں  سے پلاتے ہیں  جو ان کے پیٹ میں  ہے اور تمہارے لیے ان میں  بہت فائدے ہیں  اور انہی سے تم کھاتے ہو۔ اور ان پر اور کشتیوں  پرتمہیں  سوار کیا جاتا ہے۔

{فِی الْاَنْعَامِ: چوپایوں  میں ۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے حیوانات کے مَنافع سے اپنی قدرتِ کاملہ پر اِستدلال فرمایا ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک تمہارے لیے چوپایوں  میں  سمجھنے کا مقام ہے جس کے ذریعے تم عبرت حاصل کر سکتے ہو ،  ہم تمہیں  ان کے پیٹ میں  موجود دودھ پلاتے ہیں  اور وہ خوشگوار ، طبیعت کے موافق لطیف غذا ہے اور تمہارے لیے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں  کہ اُن کے بال ،  کھال اوراُون وغیرہ سے کام لیتے ہو اور انہی میں  سے تم بعض چوپایوں  کو ذبح کرکے ان کا گوشت بھی کھالیتے ہو۔(خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۳ / ۳۲۳ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ص۷۵۴ ،  ملتقطاً)

            نوٹ:اس آیت کی مزید تفصیل جاننے کے لئے سورۂ نحل آیت نمبر66 کے تحت تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔

{وَ عَلَیْهَا: اور ان پر۔} یعنی خشکی میں  ان جانوروں پر اور دریاؤں  میں  کشتیوں  پرتمہیں  سوار کیا جاتا ہے۔(مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲۲ص۷۵۴)

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم  اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں  تو کیا تمہیں  ڈر نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے فرمایا: اے میری قوم!  اللہ کی عبادت کرو ،  اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں  تو کیا تم ڈرتے نہیں ۔

{وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ: اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔}  اللہ تعالیٰ نے ان آیات سے حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق کے علاوہ پانچ واقعات بیان فرمائے ہیں ۔ پہلا :حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ۔دوسرا :حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا۔تیسرا :قُرونِ آخَرین کا قصہ۔چوتھا: حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ اور پانچواں :حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی والدہ حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کا واقعہ۔ ان تمام واقعات کو بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت سابقہ امتوں  کے حالات سے آگاہ ہو تاکہ ان کے اچھے اَوصاف اپنانے کی کوشش کریں  اور مذموم اوصاف سے بچیں ۔( صاوی ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۴ / ۱۳۶۱)

            اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک ہم نے حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں  نے قوم سے فرمایا: اے میری قوم! تم( ایمان قبول کر کے)  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو ،  اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں  ،  کیاتم اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں  جو اس کے سوا اوروں کو پوجتے ہو۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۳ / ۳۲۳ ،  ملخصاً)

            نوٹ:حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے کی تفصیلات سورہ ٔ اَعراف آیت نمبر59تا64 اور سورۂ ہود آیت نمبر 25تا 49 میں  گزر چکی ہیں ۔

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ-یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓىٕكَةً ۚۖ-مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآىٕنَا الْاَوَّلِیْنَۚ(۲۴) اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ(۲۵)قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اس کی قوم کے جن سرداروں  نے کفر کیا بولے یہ تو نہیں  مگر تم جیسا آدمی چاہتا ہے کہ تمہارا بڑا بنے اور  اللہ چاہتا تو فرشتے اُتارتا ہم نے تو یہ اپنے اگلے باپ داداؤں  میں  نہ سنا۔ وہ تو نہیں  مگر ایک دیوانہ مرد تو کچھ زمانہ تک اس کا انتظار کئے رہو۔ نوح نے عرض کی اے میرے رب میری مدد فرما اس پر کہ انہوں  نے مجھے جھٹلایا۔

 



Total Pages: 235

Go To