Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{اَلْاِنْسَانَ: انسان۔} اس آیت سے رکوع کے آخر تک  اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت پر چار دلائل ذکر فر مائے ہیں ۔ سب سے پہلے انسان کی پیدائش کے مختلف مَراحل سے اپنی قدرت پر اِستدلال فرمایا ، اس کے بعد آسمانوں  کی تخلیق سے ، پھر پانی نازل کرنے سے اور سب سے آخر میں  حیوانات کے مختلف مَنافع سے اپنی قدرت پر استدلال فرمایا۔( صاوی ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۴ / ۱۳۵۸)

             مفسرین فرماتے ہیں  کہ اس آیت میں انسان سے مراد حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں  ،  انہیں   اللہ تعالیٰ نے مختلف جگہوں  سے چنی ہوئی مٹی سے بنایا۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۳ / ۳۲۱)

{ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً: پھر اس کو پانی کی بوند بنایا۔} یعنی پھر حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نسل کو ایک مضبوط ٹھہراؤ یعنی ماں  کے رحم میں  پانی کی بوند بنایا۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۳ ،  ص۷۵۳)

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاۗ-ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَؕ-فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں  پھر ان ہڈیوں  پر گوشت پہنایا پھر اسے اور صورت میں  اُٹھان دی تو بڑی برکت والا ہے  اللہ سب سے بہتر بنانے والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے اس پانی کی بوند کوجما ہوا خون بنادیا پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کی بوٹی بنادیا پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان ہڈیوں  کو گوشت پہنایا ،  پھر اسے ایک دوسری صورت بنا دیا تو بڑی برکت والا ہے وہ  اللہ جوسب سے بہتربنانے والاہے۔

{ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً: پھر ہم نے اس پانی کی بوند کوجما ہوا خون بنادیا۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے ماں  کے رحم میں  نطفہ قرار پکڑنے کے بعد والے مَراحل بیان فرمائے ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ پھر ہم نے اس پانی کی بوند کوجما ہوا خون بنادیا پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کی بوٹی بنادیا پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان ہڈیوں  کو گوشت پہنایا ،  پھر اس میں  روح ڈال کر اس بے جان کو جان دار کیا ،  بولنے ،  سننے اور دیکھنے کی صلاحیت عطا کی اوراسے ایک دوسری صورت بنا دیاجو مکمل انسان ہوتا ہے تو بڑی برکت والا ہے وہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ جو سب سے بہتربنانے والاہے۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۳ / ۳۲۱-۳۲۲ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ص۷۵۳ ،  ملتقطاً)

حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کی سعادت :

            حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  :جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے (اس کا ابتدائی حصہ سن کر) کہا’’فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ‘‘حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے عمر! رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ ،  اسی طرح نازل ہوا ہے۔( تفسیرکبیر ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۸ / ۲۶۶)

انسان کی تخلیق  اللہ تعالٰی کی قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے:

            انسان کے ظاہر وباطن ، اس کے ہر ہر عُضْو اور ہر ہر جز میں  اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی اتنی نشانیاں  موجود ہیں  جنہیں  شمار نہیں  کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کی شرح بیان کی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص انصاف کے ساتھ اپنی تخلیق کے مراحل اور اپنے جسم کی بناوٹ میں  غور وفکر کرے تو اس کے پا س یہ بات ماننے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہو گا کہ ایسی حیرت انگیز تخلیق پر  اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی قادر نہیں  اوروہی اکیلا اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ(۱۵) ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ(۱۶)وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآىٕقَ ﳓ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اس کے بعد تم ضرور مرنے والے ہو۔ پھر تم سب قیامت کے دن اُٹھائے جاؤ گے۔ اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راہیں  بنائیں  اور ہم خَلق سے بے خبر نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر اس کے بعد تم ضرور مرنے والے ہو۔پھر تم سب قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے اور ہم مخلوق سے بے خبر نہیں۔

{بَعْدَ ذٰلِكَ: اس کے بعد۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ تخلیق مکمل ہونے کے بعد جب تمہاری عمریں  پور ی ہو جائیں  گی تو تمہیں  ضرور موت آئے گی ،  پھر تم سب قیامت کے دن حساب و جزا کے لئے اٹھائے جاؤ گے۔(خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶ ،  ۳ / ۳۲۲)

{وَ لَقَدْ خَلَقْنَا: اور بیشک ہم نے بنائے۔} ا س آیت میں   اللہ تعالیٰ نے آسمانوں  کی تخلیق سے اپنی قدرت پر اِستدلال فرمایا ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے۔ان سے مراد سات آسمان ہیں  جو فرشتوں  کے چڑھنے اُترنے کے راستے ہیں ۔اور فرمایا کہ ہم مخلوق سے بے خبر نہیں  ، سب کے اَعمال ،  اَقوال اور چھپی حالتوں  کو جانتے ہیں  اورکوئی چیز ہم سے چھپی نہیں ۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۳ / ۳۲۲)

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ ﳓ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے آسمان سے پانی اُتارا ایک اندازہ پر پھر اسے زمین میں  ٹھہرایا اور بیشک ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی اتارا پھر اسے زمین میں  ٹھہرایا اور بیشک ہم اسے لے جانے پر قادر ہیں ۔

{وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً: اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے پانی نازل کرنے سے اپنی قدرت پر اِستدلال فرمایا ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ یعنی جتنی ہمارے علم و حکمت میں  مخلوق کی حاجتوں  کے لئے چاہیے اتنی بارش برسائی ،  پھر اسے زمین میں  ٹھہرایا اور بیشک ہم اسے لے جانے پر قادر ہیں  یعنی



Total Pages: 235

Go To