Book Name:Sirat ul jinan jild 6

             نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی یہ دعا امت کی تعلیم کے لئے ہے ،  اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے نفس کو مذموم صفات سے پاک کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پاکی کے لئے  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  دعا بھی کرے اور اس دعا کے لئے وہ الفاظ سب سے بہترین ہیں  جو اوپر حدیث پاک میں  مذکور ہوئے۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵) اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو اپنی شرم گاہوں  کی حفاظت کرتے ہیں ۔ مگر اپنی بیبیوں  یا شرعی باندیوں  پر جو ان کے ہاتھ کی مِلک ہیں  کہ ان پر کوئی ملامت نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اپنی شرمگاہوں  کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔ مگر اپنی بیویوں  یا شرعی باندیوں  پر جو ان کے ہاتھ کی مِلک ہیں  پس بیشک ان پر کوئی ملامت نہیں ۔

{هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ: وہ اپنی شرمگاہوں  کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔} اس آیت سے کامیابی حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کا چوتھا وصف بیان کیا گیا ہے ،  چنانچہ ا س آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایمان والے زنا اور زنا کے اَسباب و لَوازمات وغیرہ حرام کاموں  سے اپنی شرمگاہوں  کی حفاظت کرتے ہیں  البتہ اگروہ اپنی بیویوں  اور شرعی باندیوں  کے ساتھ جائز طریقے سے صحبت کریں  تو اس میں  ان پر کوئی ملامت نہیں ۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵-۶ ،  ۳ / ۳۲۰-۳۲۱ ،  ملخصًا)

 شرمگاہ کی حفاظت کرنے کی فضیلت:

            حدیث پاک میں  زبان اور شرمگاہ کو حرام اور ممنوع کاموں  سے بچانے پر جنت کا وعدہ کیا گیا ہے ، چنانچہ صحیح بخاری میں  حضرت سہل بن سعد رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا ’’جو شخص میرے لیے اس چیز کا ضامن ہو جائے جو اس کے جبڑوں  کے درمیان میں  ہے یعنی زبان کا اور اس کا جو اس کے دونوں  پاؤں  کے درمیان میں  ہے یعنی شرمگاہ کا ،  میں  اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں ۔( بخاری ،  کتاب الرقاق ،  باب حفظ اللسان ،  ۴ / ۲۴۰ ،  الحدیث: ۶۴۷۴)

شرمگاہ کی شہوت کا علمی اور عملی علاج:

            یاد رہے کہ شرمگاہ کی شہوت کو پورا کرنا انسانی فطرت کا تقاضا اور بے شمار فوائد حاصل ہونے کا ذریعہ ہے ، اگر اس تقاضے کو شریعت کے بتائے ہوئے جائز طریقے سے پورا کیا جائے تو یہ دنیا میں  بہت بڑی نعمت اور آخرت میں  ثواب حاصل ہونے کا ایک ذریعہ ہے اور اگر اسے ناجائز و حرام ذرائع سے پورا کیا جائے تو یہ دنیا میں  بہت بڑی آفت اور قیامت کے دن جہنم کے دردناک عذاب میں  مبتلا ہونے کا سبب ہے ،  لہٰذا جو شخص اپنی خواہش کی تکمیل چاہتا ہے تواسے چاہئے کہ اگرکسی عورت سے شرعی نکاح کر سکتا ہے تو نکاح کر لے تاکہ اسے اپنے لئے جائز ذریعہ مل جائے اور اگر وہ شرعی نکاح کرنے کی طاقت نہیں  رکھتا تو پھر روزے رکھ کر اپنے نفس کو مغلوب کرنے کی کوشش کرے اور ا س کے ساتھ ساتھ ان تمام اَسباب اور مُحرِّکات سے بچنے کی بھی بھرپور کوشش کرے جن کی وجہ سے نفس کی اِس خواہش میں  اضافہ ہوتا ہے ، نیز ناجائز و حرام ذریعے سے اِس خواہش کو پورا کرنے پر قرآنِ مجید اور اَحادیثِ مبارکہ میں  جن سزاؤں  اور عذابات کا ذکر کیا گیا ہے ان کا بغور مطالعہ کر ے اور  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  اپنے نفس کی حفاظت کے لئے خوب دعائیں  کرے۔

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تو جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جو اِن کے سوا کچھ اور چاہے تووہی حد سے بڑھنے والے ہیں ۔

{ فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ: تو جو اِن دو کے سوا کچھ اور چاہے۔} یعنی جو بیویوں  اور شرعی باندیوں  کے علاوہ کسی اور ذریعے سے شہوت پوری کرنا چاہے تو وہی حد سے بڑھنے والے ہیں  کہ حلال سے حرام کی طرف تَجاوُز کرتے ہیں ۔( روح ا لبیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۶ / ۶۸ ،  ملخصاً)

ہم جنس پرستی ،  مشت زنی اور مُتعہ حرام ہے:

            اس سے معلوم ہو اکہ شریعت میں  صرف بیویوں  اور شرعی باندیوں  سے جائز طریقے کے ساتھ شہوت پوری کرنے کی اجاز ت ہے ،  اس کے علاوہ شہوت پوری کرنے کی دیگر صورتیں  جیسے مرد کا مرد سے ،  عورت کا عورت سے ،  شوہر کا بیوی یاشرعی باندی کے پچھلے مقام سے ،  اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرنا حرام ہے یونہی کسی عورت سے متعہ کرنا بھی حرام ہے۔

            علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’اس آیت سے ثابت ہوا کہ اپنے ہاتھ سے قضائے شہوت کرنا حرام ہے۔حضرت سعید بن جبیر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا’’  اللہ تعالیٰ نے ایک اُمت کو عذاب کیا جو اپنی شرمگاہوں  سے کھیل کرتے تھے۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۳ / ۳۲۱)

            اورامام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ’’اس آیت سے ثابت ہو اکہ متعہ حرام ہے کیونکہ جس عورت سے متعہ کیا جاتا ہے وہ مرد کی بیوی نہیں  کیونکہ اگر ان دونوں  میں  سے کوئی مر جائے تو دوسرا اس کا وارث نہیں  بنتا ،  اگر وہ عورت بیوی ہوتی تو مرد کے انتقال کے بعد اس کی وارث بھی بنتی کیونکہ بیوی کی وراثت قرآن سے ثابت ہے۔ لہٰذا جب واضح ہو گیا کہ متعہ کروانے والی عورت مرد کی بیوی نہیں  تو ضروری ہے کہ وہ مرد کے لئے حلال نہ ہو۔( تفسیرکبیر ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۸ / ۲۶۲)

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں  اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں  اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔

{لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ: اپنی امانتوں  اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ۔} اس آیت میں  فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو وصف بیان کئے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں  خیانت نہیں  کرتے اور جس سے وعدہ کرتے ہیں  اسے پورا کرتے ہیں ۔

             یاد رہے کہ امانتیں  خواہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہوں  یا مخلوق کی اور اسی طرح عہد خدا عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ہوں  یا مخلوق کے ساتھ ،  سب کی وفا لازم ہے۔( روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۶ /



Total Pages: 235

Go To