Book Name:Sirat ul jinan jild 6

فرمایا’’یہ شیطانی لغزش ہے ، اس کے ذریعے شیطان بندے کو نماز سے پھسلانا چاہتا ہے۔( ترمذی ،  کتاب السفر ،  باب ما ذکر فی الالتفات فی الصلاۃ ،  ۲ / ۱۰۲ ،  الحدیث: ۵۹۰)

            لہٰذا ہر مسلمان مرد وعورت کو چاہئے کہ وہ پوری توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز اداکرے اور  اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے جیسے عبادت کرنے کا حق ہے۔

خشوع کے ساتھ نماز ادا کرنے کی فضیلت اور دو واقعات:

             حضرت عثمان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس مسلمان شخص پر فرض نماز کاوقت آ جائے اور وہ ا س نماز کا وضو اچھی طرح کرے پھر نماز میں  اچھی طرح خشوع اور رکوع کرے تو وہ نماز اس کے سابقہ گناہوں  کا کفارہ ہو جاتی ہے جب تک کہ وہ کوئی کبیرہ گناہ نہ کرے اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔( مسلم ،  کتاب الطہارۃ ،  باب فضل الوضوء والصلاۃ عقبہ ،  ص۱۴۲ ،  الحدیث: ۷(۲۲۸))

            اگر صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ اور دیگر بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِم کی سیر ت کا مطالعہ کیا جائے توبکثرت ایسے واقعات مل جائیں  گے کہ جو اس آیت میں  مذکور وصف کے اعلیٰ نمونے ہوں  گے ،  جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’جب صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ نماز پڑھتے تو وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہتے ،  اپنی نظریں  سجدہ کرنے کی جگہ پر رکھتے تھے اور انہیں  یہ یقین ہوتا تھا کہ  اللہ تعالیٰ انہیں  دیکھ رہا ہے اور وہ دائیں  بائیں  توجہ نہیں  کرتے تھے۔( در منثور ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۶ / ۸۴)

             حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ غزوہ ذاتُ الرقاع میں  ایک صحابی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے ایک مشرک کی بیوی کو گرفتار کیا۔ اس نے انتقام لینے کے لئے قسم کھالی کہ جب تک حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ میں  سے کسی صحابی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے خون سے زمین کو رنگین نہ کرلوں  گا ،  چین نہ لوں  گا ، چنانچہ جب آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غزوہ سے واپس ہوئے تواس نے تَعاقُب کیا۔ جب تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک جگہ قیام کیا تو دریافت فرمایا کہ کون میرا پہرہ دینے کی ذمہ داری اپنے سر لے گا۔ مہاجرین وانصار دونوں  میں  سے ایک ایک بہادر اس شرف کو حاصل کرنے کے لئے اٹھے ،  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حکم دیا کہ گھاٹی کے دہانے پر جاکر پہرہ دو۔ دونوں  صحابی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا وہاں  پہنچے تو مہاجر صحابی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سوگئے اور انصاری صحابی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے نماز پڑھنا شروع کر دی۔ مشرک آیا اور فوراً تاڑ گیا کہ یہ محافظ اور نگہبان ہیں  ،  چنانچہ اس نے تین تیر مارے اور تینوں  کے تینوں  ان انصاری صحابی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے جسم میں  پیوست ہوگئے لیکن وہ اسی طرح رکوع اور سجدہ کرتے رہے۔( ابو داؤد ،  کتاب الطہارۃ ،  باب الوضوء من الدم ،  ۱ / ۹۹ ،  الحدیث: ۱۹۸)

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف اِلتفات نہیں  کرتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں ۔

{عَنِ اللَّغْوِ: فضول بات سے۔} فلاح پانے والے مومنوں  کا دوسرا وصف بیان کیا گیا کہ وہ ہر لَہْوو باطل سے بچے رہتے ہیں ۔ (خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۳ / ۳۲۰)

لَغْو سے کیا مراد ہے؟

            علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ’’لغو سے مراد ہر وہ قول ،  فعل اور ناپسندیدہ یا مباح کام ہے جس کا مسلمان کودینی یا دُنْیَوی کوئی فائدہ نہ ہو جیسے مذاق مَسخری ، بیہودہ گفتگو ، کھیل کود ، فضول کاموں  میں  وقت ضائع کرنا ،  شہوات پوری کرنے میں  ہی لگے رہنا وغیرہ وہ تمام کام جن سے  اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کو اپنی آخرت کی بہتری کے لئے نیک اعمال کرنے میں  مصروف رہنا چاہئے یا وہ اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے بقدرِ ضرورت (حلال) مال کمانے کی کوشش میں  لگا رہے۔( صاوی ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۴ / ۱۳۵۶-۱۳۵۷)

            اَحادیث میں  بھی لا یعنی اور بیکار کاموں  سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے ، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’آدمی کے اسلام کی اچھائی میں  سے یہ ہے کہ وہ لایعنی چیز چھوڑ دے۔( ترمذی ،  کتاب الزہد ،  ۱۱-باب ،  ۴ / ۱۴۲ ،  الحدیث: ۲۳۲۴) یعنی جوچیز کار آمد نہ ہو اس میں  نہ پڑے ،  زبان ،  دل اور دیگر اَعضاء کو بے کار باتوں  کی طرف متوجہ نہ کرے۔( بہار شریعت ،  حصہ شانزدہم ،  زبان کو روکنا اور گالی گلوچ ،  غیبت اور چغلی سے پرہیز کرنا ،  ۳ / ۵۲۰)

            اورحضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں ’’میں  حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  حاضر ہوا اور عرض کی ،  نجات کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’اپنی زبان پر قابو رکھو اور تمہارا گھر تمہارے لیے گنجائش رکھے (یعنی بے کار ادھر ادھر نہ جاؤ) اور اپنی خطا پر آنسو بہاؤ۔( ترمذی ،  کتاب الزہد ،  باب ما جاء فی حفظ اللسان ،  ۴ / ۱۸۲ ،  الحدیث: ۲۴۱۴)

زبان کی حفاظت کرنے کی ضرورت اور ا س کے فوائد و نقصانات:

            یاد رہے کہ زبان کی حفاظت و نگہداشت اور فضولیات ولَغْویات سے اسے باز رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ زیادہ سرکشی اور سب سے زیادہ فساد و نقصان اسی زبان سے رونما ہوتا ہے اور جو شخص زبان کو کھلی چھٹی دے دیتا اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے تو شیطان اسے ہلاکت میں  ڈال دیتا ہے۔زبان کی حفاظت کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے نیک اعمال کی حفاظت ہوتی ہے کیونکہ جو شخص زبان کی حفاظت نہیں  کرتا بلکہ ہر وقت گفتگو میں  مصروف رہتا ہے تو ایسا شخص لوگوں  کی غیبت میں  مبتلا ہونے سے بچ نہیں  پاتا ،  یونہی اس سے کفریہ الفاظ نکل جانے کا بہت اندیشہ رہتا ہے اور یہ دونوں  ایسے عمل ہیں  جس سے بندے کے نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں ۔منقول ہے کہ حضرت امام حسن بصری