Book Name:Sirat ul jinan jild 6

            نوٹ: حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دعا مانگنے سے متعلق انتہائی ایمان افروز کلام سورۂ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 37 اور 38 کے تحت مذکور تفسیر میں  ملاحظہ فرمائیں  ۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآىٕكَ رَبِّ شَقِیًّا(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: عرض کی اے میرے رب میری ہڈی کمزور ہوگئی اور سر سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا  اور اے میرے رب میں  تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: عرض کی: اے میرے رب ! بیشک میری ہڈی کمزور ہوگئی اور سرنے بڑھاپے کا شعلہ چمکا دیا ہے (بوڑھا ہوگیا ہوں ) اور اے میرے رب! میں  تجھے پکار کر کبھی محروم نہیں  رہا۔

{قَالَ:عرض کی:} حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دعا مانگنے کا پورا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر شریف 75 یا 80 سال تک پہنچ چکی تھی مگرآپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس اولاد جیسی نعمت نہ تھی اور آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کواپنے رشتہ داروں  میں  سے بھی کوئی ایسا نیک صالح مرد نظر نہیں  آتا تھا کہ جوآپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات کے بعد اس قابل ہوکہ وہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا جانشین بنے اور  اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے جودین کی خدمت آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سپرد تھی اس کوانجام دے سکے بلکہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے کئی رشتہ دار شریر تھے اور آپ کوخوف تھا کہ کہیں  میرے بعد یہ دین میں  تبدیلیاں  شروع نہ کردیں  اسی وجہ سے آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بہت فکرمند رہا کرتے تھے ۔ یہی احساس جب بہت زیادہ بڑھا تو بالآخر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دئیے اور  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  عرض کردی کہ مجھے نیک صالح بیٹا عطا فرما جو تیرا بھی پسندیدہ ہو اور وہ میرے بعد میرا وارث بنے اور دین کی خدمت کرے۔

{اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ:بے شک میری ہڈی کمزور ہوگئی۔} حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی دعا کی ابتدا اس طرح کی کہ اے میرے مولیٰ ! عَزَّوَجَلَّ ،  تو جانتا ہے کہ میں  بوڑھا ہو چکا ہوں  اور بڑھاپے کی کمزوری اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ سب سے مضبوط عُضْوْ ہڈی میں  کمزوری آ گئی ہے اور جب یہ کمزور ہو چکی تو باقی اَعضاء کا حال     محتاجِ بیان نہیں  اور میرے سرکے بال بھی سفید ہوچکے ہیں   ،  اور اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  آج سے پہلے تیری بارگاہ میں  مَیں  نے جوبھی دعائیں  کی ہیں  تونے وہ قبول کی ہیں  ،  لہٰذا مجھے امید ہے کہ تومیری یہ دعا بھی قبو ل کرے گا۔( مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ص۶۶۷-۶۶۸)

آیت’’ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے چند باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)…جب بھی  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  دعا مانگی جائے تو پہلے ان اُمور کو ذکر کیا جائے جن سے دعا مانگنے والے کی عاجزی و اِنکساری کا اظہار ہو۔

(2)…اپنی حاجت عرض کرنے سے پہلے اپنے اوپر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی نعمت و رحمت اور لطف و کرم کا ذکر کیا جائے ۔

(3)… پہلے جو دعا قبول ہو چکی اسے دوبارہ دعا کرتے وقت  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  وسیلہ بنایا جائے۔

(4)… انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعائیں  قبول ہوتی ہیں ۔ اسی لیے ان سے دعائیں  کرائی جاتی ہیں  ،  یونہی اولیاءِ کرام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِمسے بھی اسی لئے دعا کرنے کا عرض کیا جاتا ہے کہ ان کی دعائیں  قبول ہوتی ہیں ۔

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ(۵) یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ ﳓ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں  کا ڈر ہے اور میری عورت بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھالے۔وہ میرا جانشین ہو اور اولادِ یعقوب کا وارث ہو اور اے میرے رب اسے پسندیدہ کر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک مجھے اپنے بعد اپنے رشتے داروں  کا ڈر ہے اور میری بیوی بانجھ ہے ،  تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا وارث عطا فرمادے ۔جو میرا جانشین ہو اور یعقوب کی اولاد کا وارث ہو اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ بنادے۔

{وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ:اور بیشک میں  اپنے بعد اپنے رشتے داروں  سے ڈرتا ہوں ۔} رشتہ داروں  سے مراد چچازاد بھائی ہیں  اور ڈر کی وجہ یہ تھی کہ وہ بنی اسرائیل کے شریر لوگ تھے اور آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوخوف تھا کہیں  میری وفات کے بعد یہ لوگ دین میں  تبدیلی نہ کردیں  اور صحیح طور پر دین کی خدمت نہ کریں  ،  اس وجہ سے آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے بعد کے لئے اپنی پشت سے نیک بیٹے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ دین کو زندہ رکھنے کے معاملے میں  ان کی پیروی کرے  ،  چنانچہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یوں  عرض کی: اے میرے رب ! عَزَّوَجَلَّ ،  بیشک مجھے اپنے بعد اپنے رشتے داروں  کی طرف سے دین میں  تبدیلی کر دینے کا ڈر ہے اور میری بیوی بانجھ ہے جس سے اولاد نہیں  ہو سکتی ،  تو مجھے اپنے پاس سے کسی سبب کے بغیر کوئی ایسا وارث عطا فرما دے جومیرے علم اور آلِ یعقوب کی نبوت کا وارث ہو (یعنی اسے اس قابل بنا دے کہ اس کی طرف وحی کی جا سکے) اور اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  اسے ایسا بنا دے کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے اور تیرے حکم سے راضی ہو۔( مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵-۶ ،  ص۶۶۸) یاد رہے کہ جس وقت آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بیٹے کے لیے دعا کی اس وقت آپ کی زوجہ کی عمر تقریباً 70 سال تھی ۔

{وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا:اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ بنا دے۔} حضرت زکریاعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بیٹے کے لیے جو دعا کی تھی اس میں  آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا کے آخر میں  فرمایا تھا کہ اسے اپنا پسندیدہ بندہ بنانا ،  اس میں  بھی کئی راز پوشیدہ تھے ۔ اس میں  ہمارے لئے نصیحت یہ ہے کہ جب بھی اولاد کی دعا مانگی جائے تو نیک صالح اولاد کی دعا مانگی جائے  ،  ورنہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دعا مانگی اور قبول ہوئی اور اولاد مل گئی مگر اسی اولاد نے جینا حرام کردیا ہو۔

 



Total Pages: 235

Go To