Book Name:Sirat ul jinan jild 6

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ایمان والے کامیاب ہوگئے۔

{قَدْ اَفْلَحَ:بیشک کامیاب ہوگئے۔} اس آیت میں  ایمان والوں  کو بشارت دی گئی ہے کہ بے شک وہ  اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے مقصد میں  کامیاب ہو گئے اور ہمیشہ کے لئے جنت میں  داخل ہو کر ہر ناپسندیدہ چیز سے نجات پاجائیں  گے۔(تفسیرکبیر ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ۸ / ۲۵۸ ،  روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ۶ / ۶۶ ،  ملتقطاً)

حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایمان پر خاتمہ ضروری ہے :

            یاد رہے کہ ہر ایک نے موت کا کڑوا ترین ذائقہ چکھ کر ا س دنیا سے کوچ کرنا ہے اور قیامت کے دن سب کو اپنے اعمال کا بدلہ پانا ہے اور جسے اس دن جہنم کے دردناک عذابات سے بچا لیاگیا اور بے مثل نعمتوں  کی جگہ جنت میں  داخل کر دیا گیا وہی حقیقی طور پر کامیاب ہے ،  جیسا کہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’كُلُّ  نَفْسٍ   ذَآىٕقَةُ  الْمَوْتِؕ-وَ  اِنَّمَا  تُوَفَّوْنَ  اُجُوْرَكُمْ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِؕ-فَمَنْ  زُحْزِحَ  عَنِ  النَّارِ  وَ  اُدْخِلَ  الْجَنَّةَ  فَقَدْ  فَازَ‘‘(اٰل عمران:۱۸۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اورقیامت کے دن تمہیں  تمہارے اجر پورے پورے دئیے جائیں  گے توجسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں  داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا۔

            اور جہنم سے بچنے اور جنت میں  داخلے کے لئے ایمان پر خاتمہ ضروری ہے ، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص کو جہنم سے بچنا اور جنت میں  داخل ہونا پسند ہو تو اسے موت ضرور اس حال میں  آئے کہ وہ  اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جس معاملے کو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہو وہی معاملہ دوسروں  کے ساتھ کرے۔( مسند امام احمد ،  مسند عبد  اللہ بن عمرو بن العاص رضی  اللہ تعالی عنہما ،  ۲ / ۶۲۵ ،  الحدیث: ۶۸۲۱)

            اور چونکہ موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں  ا س لئے ایمان پر ثابت قدم رہنا اور اس کی حفاظت کی بھرپور کوشش کرنا ضرور ی ہے تاکہ موت کے وقت ایمان سلامت رہے اور قیامت کے دن جنت میں  داخلہ نصیب ہو۔

سورۂ مومنون کی ابتدائی دس آیات کی فضیلت:

            سورۂ مومنون کی ابتدائی دس آیات کے بارے میں  حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’جب نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر وحی نازل ہوتی تو آپ کے چہرۂ اقدس کے پاس مکھیوں  کی بھنبھناہٹ کی طرح آواز سنائی دیتی۔ایک دن وحی نازل ہوئی تو ہم کچھ دیر ٹھہرے رہے ،  جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قبلہ رو ہو کر ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا مانگی’’اے اللّٰہ!عَزَّوَجَلَّ ،  ہمیں  زیادہ عطا کرنا اور کمی نہ فرمانا ،  ہمیں  عزت دینا اور ذلیل نہ کرنا ، ہمیں  عطا فرما نااور محروم نہ رکھنا۔ہمیں  چن لے اور ہم پر کسی دوسرے کو نہ چن۔اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ ،  ہمیں  راضی فرما اور ہم سے راضی ہو جا۔اس کے بعد ارشاد فرمایا’’مجھ پر دس آیات نازل ہوئی ہیں  ،  جس نے ان میں  مذکور باتوں  کو اپنایا وہ جنت میں  داخل ہو گا ، پھر آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ’’قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ‘‘ سے لے کر دسویں  آیت کے آخر تک پڑھا۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ المؤمنین ،  ۵ / ۱۱۷ ،  الحدیث: ۳۱۸۴)

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲)

ترجمۂ کنزالایمان: جو اپنی نماز میں  گڑگڑاتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو اپنی نماز میں  خشوع و خضوع کرنے والے ہیں ۔

{خٰشِعُوْنَ: خشوع و خضوع کرنے والے۔} یہاں  سے ایمان والوں کے چند اَوصاف ذکر فرمائے گئے ہیں  ،  چنانچہ ان کا پہلا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایمان والے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں  ،  اس وقت ان کے دلوں  میں   اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے اور ان کے اَعضا ساکن ہوتے ہیں ۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ص۷۵۱)

نماز میں  ظاہری و باطنی خشوع:

             نماز میں  خشوع ظاہری بھی ہوتا ہے اور باطنی بھی ، ظاہری خشوع یہ ہے کہ نماز کے آداب کی مکمل رعایت کی جائے مثلاً نظر جائے نماز سے باہر نہ جائے اور آنکھ کے کنارے سے کسی طرف نہ دیکھے ،  آسمان کی طرف نظر نہ اٹھائے ،  کوئی عَبث و بیکار کام نہ کرے ،  کوئی کپڑا شانوں  پر اس طرح نہ لٹکائے کہ اس کے دونوں  کنارے لٹکتے ہوں  اور آپس میں  ملے ہوئے نہ ہوں  ،  انگلیاں  نہ چٹخائے اور اس قسم کی حرکات سے باز رہے۔ باطنی خشوع یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ کی عظمت پیش ِنظر ہو ،  دنیا سے توجہ ہٹی ہوئی ہو اورنماز میں  دل لگا ہو۔( صاوی ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۴ / ۱۳۵۶ ،  خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۳ / ۳۲۰ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ص۷۵۱)  یہاں  نماز کے دوران آسمان کی طرف نظریں  اٹھانے ، اِدھر اُدھر دیکھنے اور یہاں  وہاں  توجہ کرنے سے متعلق 3اَحادیث ملاحظہ ہوں  ،

(1)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ان لوگوں  کا کیا حال ہے جو اپنی نماز میں  نظریں  آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں  !پھر آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس میں  بہت سختی کی اور ارشاد فرمایا’’یہ لوگ اس سے باز آ جائیں  ورنہ ان کی نظریں  چھین لی جائیں  گی۔( بخاری ،  کتاب الاذان ،  باب رفع البصر الی السماء فی الصلاۃ ،  ۱ / ۲۶۵ ،  الحدیث: ۷۵۰)

(2)…حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’اے بیٹے!نماز میں  اِدھر اُدھر دیکھنے سے بچو کیونکہ نماز میں  اِدھراُدھر توجہ ہلاکت ہے۔( ترمذی ،  کتاب السفر ،  باب ما ذکر فی الالتفات فی الصلاۃ ،  ۲ / ۱۰۲ ،  الحدیث: ۵۸۹)

(3)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا فرماتی ہیں  :میں  نے حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے نماز میں  اِدھر اُدھر توجہ کرنے کے بارے میں  سوال کیا تو آپ نے ارشاد



Total Pages: 235

Go To