Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖؕ-وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۶۵)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ  اللہ نے تمہارے بس میں  کردیا جو کچھ زمین میں  ہے اور کشتی کہ دریا میں  اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہ روکے ہوئے ہے آسمان کو کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے بیشک  اللہ آدمیوں  پر بڑی مہر والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ  اللہ نے تمہارے قابومیں  کردیا جو کچھ زمین میں  ہے اور کشتی کو جو دریا میں  اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہ آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں  زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے۔ بیشک  اللہ لوگوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا ، رحم فرمانے والا ہے۔

{اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ: کیا تو نے نہ دیکھا کہ  اللہ نے تمہارے قابومیں  کردیا جو کچھ زمین میں  ہے۔} یہاں  سے  اللہ تعالیٰ اپنے ان احسانات کا ذکر فرما رہا ہے جو اس نے اپنے بندوں  پر فرمائے ہیں  ، چنانچہ آیت کے اس حصے میں  ارشاد فرمایا کہ جو کچھ زمین میں  ہے اسے  اللہ تعالیٰ نے تمہارے قابومیں  کر دیا ،  جیسے پتھر جیسی سخت ترین ،  لوہے جیسی انتہائی وزنی اور آگ جیسی انتہائی گرم چیز کو تمہارے اختیار میں  دے دیا اور جانوروں  کو بھی تمہارے لئے مُسَخَّر کر دیا تاکہ تم ان کا گوشت کھا سکو ، ان پر سامان وغیرہ لاد سکو ،  ان پر سواری کر سکو اور ان سے دیگر کام لے سکو۔( تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۵ ،  ۸ / ۲۴۷)

            ان سب چیزوں  کاعملی مشاہدہ ہم اپنی روزمَرہ زندگی میں  کرتے رہتے ہیں  کہ چھوٹے چھوٹے بچے اونٹ جیسے قوی ہیکل اور گائے جیسے طاقتورجانورکواس طرح لے کرجارہے ہوتے ہیں  جیسے وہ بچوں  کاکوئی کھلوناہو۔

{وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ: اور کشتی کو جو دریا میں  اس کے حکم سے چلتی ہے۔} آیت کے اس حصے میں  دوسرے احسان کے بارے میں  ارشاد فرمایا کہ وہ کشتی جو دریا میں   اللہ تعالیٰ کے حکم سے چلتی ہے اسے  اللہ تعالیٰ نے تمہارے قابو میں  دے دیا اور تمہاری خاطر کشتی چلانے کے لئے ہوا اور پانی کو مُسَخَّر کر دیا۔( تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۵ ،  ۸ / ۲۴۷)

{وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ: اور وہ آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں  زمین پر نہ گر پڑے۔} یہاں  تیسرے احسان کا ذکر فرمایاکہ  اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے آسمان کو روکے ہوئے ہے تاکہ وہ زمین پر گر نہ پڑے اور اس نے لوگوں کو جو نعمتیں  عطا فرمائی ہیں  وہ ختم نہ ہو جائیں  البتہ جب قیامت قائم ہو گی تو  اللہ تعالیٰ کے حکم سے آسمان گر جائے گا۔آیت کے آخر میں  ارشاد فرمایاکہ بیشک  اللہ تعالیٰ لوگوں  پر بڑی مہربانی فرمانے والا ، رحم فرمانے والا ہے کہ اس نے ان کے لئے دین و دنیا کی مَنفعتوں  کے دروازے کھولے اور طرح طرح کے نقصانوں  سے انہیں  محفوظ کیا۔( تفسیر کبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۵ ،  ۸ / ۲۴۸ ،  بیضاوی ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۵ ،  ۴ / ۱۳۹ ،  خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۵ ،  ۳ / ۳۱۶ ،  ملتقطاً)

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ٘-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ(۶۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہی ہے جس نے تمہیں  زندہ کیا پھر تمہیں  مارے گا پھر تمہیں  جِلائے گا بیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے تمہیں  زندگی بخشی پھر وہ تمہیں  موت دے گا پھر تمہیں  زندہ کرے گابیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے۔

{وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ: اور وہی ہے جس نے تمہیں  زندگی بخشی۔} ارشاد فرمایا کہ تمہارا معبود وہی ہے جس نے تمہاری ماؤں  کے رحموں  میں  بے جان نطفے سے پیدا فرما کر تمہیں  زندگی بخشی ،  پھر تمہاری عمریں  پوری ہونے پر وہ تمہیں  موت دے گا ،  پھر قیامت کے دن ثواب اور عذاب کے لئے تمہیں  دوبارہ زندہ کرے گا ، بیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے کہ  اللہ تعالیٰ کی اتنی نعمتوں  کے باوجود اس کی عبادت سے منہ پھیرتا ہے اور بے جان مخلوق کی پوجا کرتا ہے۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ:۶۶ ،  ۳ / ۳۱۶ ،  مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۶ ،  ص۷۴۷ ،  جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۶ ،  ص۲۸۵ ،  ملتقطاً)

شکر گزار اور ناشکرا بندہ:

            یہاں  آیت میں  بڑے ناشکرے انسان سے کافر مراد ہے ،  البتہ عمومی طور پر دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو یہ عزت ،  عظمت اور شان عطا فرمائی ہے کہ پہلے اسے جمادات کے عالَم سے نباتات کے عالَم کی طرف منتقل کیا ،  پھر اسے جانداروں  کے عالَم کی طرف منتقل کیا ، پھر اسے بولنے اور کلام کرنے کی صلاحیت سے نوازا اور اسے ظاہری و معنوی نعمتیں  عطا کیں  اور تمام موجود چیزوں  کو اس کا خادم بنایا ،  اس لئے ہربندے پر لازم ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی نعمتوں  کو ا س کی پسند اور رضا کے کاموں  میں  استعمال کر کے اُس کے لطف و کرم اور بے پناہ انعامات کا شکر ادا کرے۔

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَؕ-اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ(۶۷)

ترجمۂ کنزالایمان: ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کے قاعدے بنادیے کہ وہ ان پر چلے تو ہرگز وہ تم سے اس معاملہ میں  جھگڑا نہ کریں  اور اپنے رب کی طرف بلاؤ بیشک تم سیدھی راہ پر ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہر امت کے لیے ہم نے ایک شریعت بنادی جس پر انہیں  عمل کرنا ہے تو ہرگز وہ تم سے اس معاملہ میں  جھگڑا نہ کریں  اورتم اپنے رب کی طرف بلاؤ بیشک تم سیدھی راہ پر ہو۔

{لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ: ہر امت کے لیے ہم نے ایک شریعت بنا دی۔} یعنی سابقہ دین و ملت والوں  میں  سے ہر امت کے لیے  اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص شریعت بنائی تاکہ وہ عبادات اور دیگر معاملات میں  اپنے اپنے شرعی قوانین پر عمل کریں  ،  تو اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ کے زمانے میں  موجود دیگر ملتوں  والے ہرگز آپ سے دین کے معاملے میں  یہ گمان کر کے جھگڑا نہ کریں  کہ اِن لوگوں  کی بھی شریعت وہی ہے جواِن کے آباؤ اَجداد کی تھی ، وہ شریعتیں  منسوخ ہونے سے پہلے سابقہ لوگوں  کی شریعتیں  تھیں  جبکہ اِس



Total Pages: 239

Go To