Book Name:Sirat ul jinan jild 6

(2)… اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔اس کاایک مطلب یہ ہے کہ تم اپنے رب کی عبادت کرو اور ا س کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔دوسرا مطلب یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے جو کام کرنے کا حکم دیا ہے اور جن کاموں  سے منع کیا ہے ،  ان سب (پر عمل کرنے کی صورت) میں  اپنے رب کی عبادت کرو۔تیسرا مطلب یہ ہے کہ رکوع ، سجدہ اور دیگر نیک اعمال کو اپنے رب کی عبادت کے طور پر کرو کیونکہ عبادت کی نیت کے بغیر فقط ان افعال کو کرنا کافی نہیں ۔

(3)…نیک کام کرو۔حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  ان سے مراد صلہ رحمی کرنا اور دیگر اچھے اَخلاق ہیں ۔

            آیت کے آخر میں  فرمایا کہ تم یہ سب کام اس مید پر کرو کہ تم جنت میں  داخل ہو کر فلاح و کامیابی پاجاؤ اور تمہیں  جہنم سے چھٹکارا نصیب ہو جائے۔( تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۷ ،  ۸ / ۲۵۴ ،  مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۷ ،  ص۷۴۹-۷۵۰ ،  ملتقطاً)

نیک اعمال کس امید پر کرنے چاہئیں ؟:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندہ عبادات اور نیک اعمال ضرورکرے کہ یہ  اللہ تعالیٰ کا حکم ہے لیکن ان عبادات و نیک اعمال کی وجہ سے یہ ذہن نہ بنائے کہ اب ا س کی بخشش و مغفرت یقینی ہے بلکہ اس امید پر اخلاص کے ساتھ اور  اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے نیک کام کرے کہ ان کی برکت سے  اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل و رحمت فرمائے گا اور اپنی رحمت سے جہنم کے عذاب سے چھٹکارا اور جنت میں  داخلہ نصیب فرمائے گا۔

سورۂ حج کی آیت نمبر77سے متعلق ایک اہم شرعی مسئلہ:

            یاد رہے کہ اَحناف کے نزدیک سورۂ حج کی اس آیت کو پڑھنے یا سننے سے سجدہ ِ تلاوت واجب نہیں  ہوتا کیونکہ

اس میں  سجدے سے مراد نماز کا سجدہ ہے ،  البتہ اگر کسی حنفی نے شافعی مذہب سے تعلق رکھنے والے امام کی اقتدا کی اور اُس نے اِس موقع پر سجدہ کیا تو اُس کی پیروی میں  مقتدی پر بھی واجب ہے۔(بہارِ شریعت ،  حصہ چہارم ، سجدۂ تلاوت کا بیان ،  ۱ / ۷۲۹)

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖؕ-هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ-مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَؕ-هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ ﳔ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ ۚۖ-فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِؕ-هُوَ مَوْلٰىكُمْۚ-فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠(۷۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور  اللہ کی راہ میں  جہاد کرو جیسا حق ہے جہاد کرنے کا اس نے تمہیں  پسند کیا اور تم پر دین میں  کچھ تنگی نہ رکھی تمہارے باپ ابراہیم کا دین  اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں  میں  اور اس قرآن میں  تاکہ رسول تمہارا نگہبان و گواہ ہو اور تم اور لوگوں  پر گواہی دو تو نماز برپا رکھو اور زکوٰۃ دو اور  اللہ کی رسّی مضبوط تھام لو وہ تمہارا مولیٰ ہے تو کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور  اللہ کی راہ میں  جہاد کرو جیسا اس (کی راہ) میں جہاد کرنے کا حق ہے۔اس نے تمہیں  منتخب فرمایا اور تم پر دین میں  کچھ تنگی نہ رکھی جیسے تمہارے باپ ابراہیم کے دین (میں  کوئی تنگی نہ تھی)۔ اس نے پہلی کتابوں  میں  اور اس قرآن میں  تمہارا نام مسلمان رکھا ہے تاکہ رسول تم پرنگہبان و گواہ ہو اور تم دوسرے لوگوں  پر گواہ ہوجاؤ تو نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور  اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لو ،  وہ تمہارا دوست ہے تو کیا ہی اچھا دوست اور کیا ہی اچھا مددگارہے۔

{وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ: اور  اللہ کی راہ میں  جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے۔} اس آیت میں  چند باتیں  ارشاد فرمائی گئیں ۔

(1)…ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو!تم  اللہ تعالیٰ کی راہ میں  ا س کے دین کے دشمنوں  کے ساتھ ایسے جہاد کرو جیسے جہاد کرنے کا حق ہے کہ اس میں  تمہاری نیت سچی اور خالص ہو اور تمہارا یہ عمل دین ِاسلام کی سر بلندی کے لئے ہو۔

(2)… اللہ تعالیٰ نے تمہیں  اپنے دین اور عبادت کیلئے منتخب فرمایاتو اس سے بڑ ارتبہ اور اس سے بڑی سعادت اور کیا ہے۔

(3)… اللہ تعالیٰ نے تم پر دین میں  کچھ تنگی نہ رکھی بلکہ ضرورت کے موقعوں  پر تمہارے لئے سہولت کر دی جیسے کہ سفر میں  نماز قَصر کرنے اور روزہ نہ رکھنے کی اجازت دے دی اور پانی نہ پانے یا پانی کے نقصان پہنچانے کی حالت میں  غسل اور وضو کی جگہ تیمم کی اجازت دی ،  تو تم دین کی پیروی کرو۔

(4)…تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا دین ایسے آسان ہے جیسے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دین آسان تھا اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دین حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دین میں  داخل ہے۔

(5)… اللہ تعالیٰ نے پہلی کتابوں  میں  اور اس قرآن میں  دین ِاسلام کو ماننے والوں  کا نام مسلمان رکھا ہے تاکہ قیامت کے دن رسول تم پرنگہبان و گواہ ہو کہ انہوں  نے تمہارے پاس خدا کا پیام پہنچا دیا اور تم دوسرے لوگوں  پر گواہ ہوجاؤ کہ انہیں  ان رسولوں  نے  اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دیئے۔

(6)…  اللہ تعالیٰ نے تمہیں  یہ عزت و کرامت عطا فرمائی ہے تو تم پابندی کے ساتھ نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور  اللہ تعالیٰ کے دین کی رسی کومضبوطی سے تھام لو اور اس کے دین پر قائم رہو ،  وہ تمہارامالک و ناصرہے اور تمہارے تمام اُمور کا انتظام فرمانے والا ہے ،  تو وہ کتنا اچھا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مددگارہے۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۸ ،  ۳ / ۳۱۹ ،  مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۸ ،  ص۷۵۰ ،  ملتقطاً)

نفس و شیطان کے خلاف جہاد کرنے کی ترغیب:

            اس آیت میں   اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمنوں  کے ساتھ ساتھ نفس ، خواہشات اور شیطان کے خلاف جہاد کرنا بھی داخل ہے اورشیطان کی انسان دشمنی اور اس کے مقصد سے



Total Pages: 235

Go To