Book Name:Sirat ul jinan jild 6

امت کی جداگانہ اور مستقل شریعت ہے اور اب قیامت تک ہر ایک کو اسی شریعت پر عمل کرنا ہے۔ اور اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ تمام لوگوں  کواپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلائیں  اورانہیں  اُس پر ایمان لانے ،  اس کا دین قبول کرنے اور اس کی عبادت میں  مشغول ہونے کی دعوت دیں  ،  بیشک آپ سیدھی راہ پر ہیں ۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۷ ،  ۶ / ۵۸)

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۶۸)اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ(۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر وہ تم سے جھگڑیں  تو فرمادو کہ  اللہ خوب جانتا ہے تمہارے کوتک۔ اللہ تم میں  فیصلہ کر دے گا قیامت کے دن جس بات میں  اختلاف کررہے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر وہ تم سے جھگڑیں  تو فرمادو کہ  اللہ خوب جانتا ہے جو تم کررہے ہو۔  اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن اس بات میں  فیصلہ کردے گا جس میں  تم اختلاف کر رہے ہو۔

{وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ: اور اگر وہ تم سے جھگڑیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  اگر حق ظاہر ہونے اور حجت لازم ہونے کے بعد بھی وہ آپ سے جھگڑا کریں  تو آپ ان سے وعید کے طور پر فرما دیں  کہ  اللہ تعالیٰ ان باطل کاموں  کو خوب جانتا ہے جو تم کررہے ہو اور وہ تمہیں  یہ کام کرنے کی سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کے دن اس بات میں  فیصلہ کردے گا جس میں  تم اختلاف کررہے ہو ،  تو اس وقت تمہیں  معلوم ہو جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا ہے۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۸-۶۹ ،  ۶ / ۵۸ ،  تفسیر کبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۸-۶۹ ،  ۸ / ۲۴۹ ،  ملتقطاً)

ہر باتونی اورجھگڑالو سے مناظرہ نہیں  کرنا چاہیے:

            اس سے معلوم ہوا کہ ہر باتونی اورجھگڑالو سے مناظرہ نہیں  کرنا چاہیے اور یہ بات اس واقعے سے مزید مضبوط ہو جاتی ہے کہ جب شیطان نے حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ نہ کرنے پر دلائل پیش کئے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے دلائل کا جواب نہ دیا بلکہ ا س سے فرمایا:

’’فَاخْرُ جْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌ‘‘(حجر:۳۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جنت سے نکل جا کیونکہ تو مردود ہے۔

            علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  اس آیت میں   اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں  کوبڑاعمدہ ادب سکھایاہے کہ جوشخص محض تَعَصُّب اورجھگڑاکرنے کے شوق میں  تم سے مناظرہ کرناچاہے تواسے کوئی جواب نہ دواورنہ اس کے ساتھ مناظرہ کرو بلکہ اس کی تمام باتوں  کے جواب میں  صرف وہ بات کہہ دو جو  اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کوسکھائی ہے۔( قرطبی ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۹ ،  ۶ / ۷۲ ،  الجزء الثانی عشر)

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِؕ-اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍؕ-اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ(۷۰)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا تو نے نہ جانا کہ  اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں  اور زمین میں  ہے بیشک یہ سب ایک کتاب میں ہے بیشک یہ  اللہ پر آسان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تجھے معلوم نہیں  کہ  اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں  اور زمین میں  ہے بیشک یہ سب ایک کتاب میں  ہے بیشک یہ  اللہ پربہت آسان ہے۔

{اَلَمْ تَعْلَمْ: کیا تجھے معلوم نہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ اے بندے! کیا تجھے معلوم نہیں  کہ آسمانوں  اور زمین میں  کوئی چیز  اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں  ،  وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ان چیزوں  میں  کفار کی باتیں  اور ان کے اعمال بھی داخل ہیں  ،  بیشک آسمانوں  اور زمین کی ہر چیز ایک کتاب لوحِ محفوظ میں  لکھی ہوئی ہے اور بیشک ان سب چیزوں  کا علم اور تمام موجودات کو لوحِ محفوظ میں  ثَبت فرمانا  اللہ تعالیٰ پربہت آسان ہے۔( تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۰ ،  ۸ / ۲۵۰ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۰ ،  ۶ / ۵۸ ،  ملتقطاً)

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌؕ-وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ(۷۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور  اللہ کے سوا ایسوں  کو پوجتے ہیں  جن کی کوئی سند اس نے نہ اتاری اور ایسوں  کو جن کا خود انہیں  کچھ علم نہیں  اور ستم گاروں  کا کوئی مددگار نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور(مشرک)  اللہ کے سواان کی عبادت کرتے ہیں  جن کی کوئی دلیل  اللہ نے نہیں  اتاری اور جن کاخود انہیں  بھی کچھ علم نہیں  اورظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔

{وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ: اور  اللہ کے سواان کی عبادت کرتے ہیں ۔} اس آیت میں  کفار کی جہالت بیان فرمائی جا رہی ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے بتوں  کی پوجا کرتے ہیں  اور ان کے پاس اپنے اس فعل کی نہ کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی بلکہ محض جہالت اور نادانی کی وجہ سے گمراہی میں  پڑے ہوئے ہیں  اور جو کسی طرح بھی پوجے جانے کےمستحق نہیں  اسے پوجتے ہیں  ،  یہ شدید ظلم ہے اور جوشرک کر کے اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اس کا کوئی مددگار نہیں  جو اسے  اللہ تعالیٰ کے اُس عذاب سے بچا سکے جس کا یہ شرک کرنے کی وجہ سے مستحق ہوا۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۱ ،  ص۷۴۸ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۱ ،  ۶ / ۵۹ ،  ملتقطاً)

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَؕ-یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَاؕ-قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْؕ-اَلنَّارُؕ-وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠(۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں  پڑھی جائیں  تو تم ان کے چہروں  پر بگڑنے کے آثار دیکھو گے جنہوں  نے کفر کیا قریب ہے کہ لپٹ پڑیں  ان کو جو ہماری آیتیں  ان پر پڑھتے ہیں  تم فرمادو کیا میں  تمہیں  بتادوں  جو تمہارے اس حال سے بھی بدتر ہے وہ آگ ہے  اللہ نے اس کا وعدہ دیا ہے کافروں  کو اور کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ان پر ہماری روشن آیتوں  کی تلاوت کی جاتی ہے تو تم کافروں  کے چہروں  میں  ناپسندیدگی کے آثار دیکھو گے۔ قریب ہے کہ انہیں  لپٹ جائیں  جو اُن کے سامنے ہماری آیتیں  پڑھتے ہیں ۔ تم فرمادو: کیا میں  تمہیں  وہ چیز بتادوں  جو تمہیں  اِس سے زیادہ ناپسند ہے؟ وہ آگ ہے۔  اللہ نے کافروں  سے اس کا وعدہ کیا ہے اور وہ کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ ہے۔

 



Total Pages: 235

Go To