Book Name:Sirat ul jinan jild 6

دیتا ہے  اللہ اس شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر  اللہ اپنی آیتیں  پکی کردیتا ہے اور  اللہ علم و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول اور نبی بھیجے (ہر ایک کو کبھی نہ کبھی یہ واقعہ پیش آیا کہ) جب اس نے ( اللہ کا کلام) پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں  لوگوں  پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو  اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹا دیتا ہے پھر  اللہ اپنی آیتوں  کوپکا کردیتا ہے اور  اللہ علم والا ،  حکمت والا ہے۔

{اِذَا تَمَنّٰى: جب اس نے پڑھا۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب ’’سورئہ نجم‘‘ نازل ہوئی تو سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسجد ِحرام میں  آیتوں  کے درمیان وقفہ فرماتے ہوئے بہت آہستہ آہستہ اس کی تلاوت فرمائی تاکہ سننے والے غور بھی کرسکیں  اور یاد کرنے والوں  کو یاد کرنے میں  مدد بھی ملے  ، جب آپ نے آیت ’’وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى‘‘ پڑھ کر پہلے کی طرح وقفہ فرمایا تو شیطان نے مشرکین کے کان میں  اس سے ملا کر دو کلمے ایسے کہہ دیئے جن سے بتوں  کی تعریف نکلتی تھی۔حضرت جبریل امین عَلَیْہِ  السَّلَام نے حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  حاضر ہو کر یہ حال عرض کیا تواس سے حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو رنج ہوا  ، اس پر  اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لئے یہ آیت نازل فرمائی۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ۶ / ۴۹)

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْؕ-وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو فتنہ کردے ان کے لیے جن کے دلوں  میں  بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں  اور بیشک ستم گار دُھرکے جھگڑالو ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو ان لوگوں  کیلئے فتنہ کردے جن کے دلوں  میں  بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں  اور بیشک ظالم لوگ دور کے جھگڑے میں  پڑے ہوئے ہیں ۔

{لِیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً: تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو فتنہ کردے۔} یعنی شیطان کولوگوں  پر اپنی طرف سے کچھ ملادینے پر قدرت دینا ا س لئے ہے تاکہ  اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے کلام کو ان لوگوں  کیلئے فتنہ کردے اور اِبتلا و آزمائش بنا دے جن کے دلوں  میں  شک اور نفاق کی بیماری ہے اور جن کے دل حق قبول کرنے سے سخت ہیں  اور یہ مشرکین ہیں  اور بیشک مشرکین و منافقین دونوں  حق کے معاملے میں دور کے جھگڑے میں  پڑے ہوئے ہیں۔(روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ۶ / ۵۰)

            چنانچہ جب یہ واقعہ رونما ہوا تو مشرکین منافقین شبہ میں  پڑگئے مگر مخلص مومنوں  کو کوئی تَرَدُّد نہ ہوا۔

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۵۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس لیے کہ جان لیں  وہ جن کو علم ملا ہے کہ وہ تمہارے رب کے پاس سے حق ہے تو اس پر ایمان لائیں  تو جھک جائیں  اس کے لیے ان کے دل اور بیشک  اللہ ایمان والوں  کو سیدھی راہ چلانے والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تاکہ جنہیں  علم دیا گیا ہے وہ جان لیں  کہ یہ (قرآن)تمہارے رب کے پاس سے حق ہے تو اس پر ایمان لائیں  تو اس کیلئے ان کے دل جھک جائیں  اور بیشک  اللہ ایمان والوں  کو سیدھی راہ کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔

{وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ: اور تاکہ جنہیں  علم دیا گیا ہے وہ جان لیں ۔} ارشاد فرمایا : شیطان کو قدرت دینا اس لئے ہے تاکہ جنہیں   اللہ تعالیٰ کے دین کا اور اس کی آیات کا علم دیا گیا ہے وہ جان لیں  کہ اس قرآن شریف کاتمہارے رب کے پاس سے نازل ہونا حق ہے اور شیطان اس میں  کسی طرح کا کوئی تَصَرُّف نہیں  کر سکتا ،  تو وہ اس پر ایمان لا نے میں  ثابت قدم رہیں  اور اس کیلئے ان کے دل جھک جائیں  اور بیشک  اللہ تعالیٰ ایمان والوں  کو دینی اُمور میں سیدھی راہ کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ۶ / ۵۰) مراد یہ ہے کہ شیطان کی یہ حرکت مومنوں  کے ایمان کی قوت کا ذریعہ بن جاتی ہے کیونکہ انہیں  معلوم ہے کہ شیطان نے پچھلے پیغمبروں  کے ساتھ بھی یہی برتاوا کیا تھا اور رب عَزَّوَجَلَّ نے اس کے داؤ کو بیکار کردیا تھا۔ یہ حقانیتِ قرآن کی دلیل ہے۔

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ(۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کافر اس سے ہمیشہ شک میں  رہیں  گے یہاں  تک کہ ان پر قیامت آجائے اچانک یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس کا پھل ان کے لیے کچھ اچھا نہ ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافر اس سے ہمیشہ شک میں  رہیں  گے یہاں  تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس میں  ان کیلئے کوئی خیر نہ ہو۔

{وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ: اور کافر اس سے ہمیشہ شک میں  رہیں  گے۔} یعنی کافرقرآن سے یادینِ اسلام کے بارے میں  ہمیشہ شک میں  رہیں  گے یہاں  تک کے ان پرقیامت آجائے یا انہیں  موت آجائے کیونکہ موت بھی قیامت ِ صغریٰ ہے یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس میں  ان کیلئے کوئی خیر نہ ہو۔اس دن سے بدر کا دن مراد ہے جس میں  کافروں  کے لئے کچھ کشادگی اور راحت نہ تھی اور بعض مفسرین کے نزدیک اس سے قیامت کا دن مراد ہے اور ’’اَلسَّاعَةُ‘‘ سے قیامت آنے سے پہلے کی چیزیں  مراد ہیں ۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۵ ،  ص۷۴۵)

آیت ’’وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

             اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے

(1)…اَزلی کافر کے لئے کوئی دلیل مفید نہیں   ، وہ ہمیشہ شک میں  گرفتار رہے گا۔

(2)… موت کے وقت ،  یا قیامت میں  یا  اللہ تعالیٰ کا عذاب دیکھ کر کفار ایمان قبول کر لیتے ہیں  مگر وہ ایمان  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک معتبر نہیں ۔

اَلْمُلْكُ یَوْمَىٕذٍ لِّلّٰهِؕ-یَحْكُمُ بَیْنَهُمْؕ-فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ(۵۶)وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠(۵۷)

 



Total Pages: 239

Go To