Book Name:Sirat ul jinan jild 6

(1)…نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  عرض کی گئی:کون سا جہاد (یعنی مجاہد) افضل ہے؟ارشاد فرمایا: ’’جس کا خون بہایا جائے اور اس کا گھوڑا زخمی کر دیا جائے۔( ابن ماجہ ،  کتاب الجہاد ،  باب القتال فی سبیل اللّٰہ ،  ۳ / ۳۵۸ ،  الحدیث: ۲۷۹۴)

(2)…راہِ خدا میں  شہید ہونے والاقیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ ا س کے خون سے مشک کی خوشبو آ رہی ہو گی۔( بخاری ،  کتاب الجہاد والسیر ،  باب من یجرح فی سبیل  اللہ عزّ وجلّ ،  ۲ / ۲۵۴ ،  الحدیث: ۲۸۰۳) جبکہ راہِ خدا میں  طبعی موت مرنے والے کو یہ فضیلت حاصل نہ ہو گی۔

(3)…شہید ہونے والا شہادت کی فضیلت دیکھ لینے کی وجہ سے یہ تمنا کرے گا کہ اسے دنیا میں  لوٹادیا جائے تاکہ اسے دوبارہ  اللہ تعالیٰ کی راہ میں  شہید کیا جائے۔( بخاری ،  کتاب الجہاد والسیر ،  باب الحور العین وصفتہنّ۔۔۔ الخ ،  ۲ / ۲۵۲ ،  الحدیث: ۲۷۹۵)  لیکن طبعی موت مرنے والاایسی تمنا نہ کرے گا۔

(4)…راہِ خدا میں  شہید ہونے سے (مخصوص گناہوں  کے علاوہ) تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔( ترمذی ،  کتاب فضائل الجہاد ،  باب ما جاء فی ثواب الشہید ،  ۳ / ۲۴۰ ،  الحدیث: ۱۶۴۸) اور طبعی موت

مرنے والے کے لئے ایسی کوئی فضیلت وارد نہیں  ہوئی۔

(5)…راہِ خدا میں  شہید ہونے والے کو غسل نہیں  دیا جاتا جبکہ راہِ خدا میں  طبعی موت مرنے والے کو غسل دیا جاتا ہے۔(روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ۶ / ۵۲-۵۳ ،  ملخصاً)

ذٰلِكَۚ-وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ(۶۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بات یہ ہے اور جو بدلہ لے جیسی تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر اس پر زیادتی کی جائے تو بیشک  اللہ اس کی مدد فرمائے گا بیشک  اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بات یونہی ہے اور جو کسی کو ویسی ہی سزا دے جیسی اسے تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر (بھی)اس پر زیادتی کی جائے تو بیشک  اللہ اس کی مدد فرمائے گا ، بیشک  اللہ معاف کرنے والا ،  بخشنے والا ہے۔

{وَ مَنْ عَاقَبَ: اور جو سزا دے۔} اس سے پہلی آیت میں  ان لوگوں  کااجر و ثواب بیان کیاگیا جنہوں  نے ہجرت کی اور  اللہ تعالیٰ کی راہ میں  شہید ہو گئے یا انہیں  طبعی طور پر موت آ گئی اور اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ جو مسلمانوں  پر زیادتی کرے گا اس کے خلاف  اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کی مدد فرماتا رہے گا ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان کسی ظالم کو ویسی ہی سزا دے جیسی اسے تکلیف پہنچائی گئی تھی اور بدلہ لینے میں  حد سے نہ بڑھے ،  پھر بھی اس مسلمان پر زیادتی کی جائے تو بیشک  اللہ تعالیٰ ظالم کے خلاف اس کی مدد فرمائے گا ،  ،  بیشک  اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو معاف کرنے والا اور ان کی بخشش فرمانے والا ہے۔ شانِ نزول:یہ آیت ان مشرکین کے بارے میں  نازل ہوئی جو محرم کے مہینے کی آخری تاریخوں  میں  مسلمانوں  پر حملہ آور ہوئے اور مسلمانوں  نے مبارک مہینے کی حرمت کے خیال سے لڑنا نہ چاہا ،  مگر مشرک نہ مانے اور انہوں  نے لڑائی شروع کر دی ،  مسلمان ان کے مقابلے میں  ثابت قدم رہے اور  اللہ تعالیٰ نے مشرکوں  کے خلاف مسلمانوں  کی مدد فرمائی۔( البحر المحیط  ،  الحج  ،  تحت الآیۃ : ۶۰ ،  ۶ / ۳۵۴ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۰ ،  ۶ / ۵۳ ،  خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۰ ،  ۳ / ۲۱۵ ،  ملتقطاً)

ظلم کے مطابق سزا دیناعدل و انصاف اور معاف کر دینا بہتر ہے:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ جو شخص جتنا ظلم کرے اسے اتنی ہی سزا دینا عدل و انصاف ہے ،  لیکن ممکنہ صورت میں  بدلہ لینے کی بجائے ظالم کو معاف کر دینا بہر حال بہتر اور افضل ہے کیونکہ معاف کرنے کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے ،  چنانچہ ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فر ماتا ہے:

’’فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ۪-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ‘‘(بقرہ:۱۹۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: توجو تم پر زیادتی کرے اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر زیادتی کی ہواور  اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ  اللہ ڈرنے والوں  کے ساتھ ہے۔

             اور ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَاۚ-فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(۴۰)وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ(۴۱) اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۴۲)وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ‘‘(شوری:۴۰۔۴۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور برائی کا بدلہ اس کے برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنواراتو اس کا اجر  اللہ (کے ذمہ کرم) پر ہے ،  بیشک وہ ظالموں  کوپسند نہیں  کرتا۔اور بے شک جس نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بدلہ لیا ان کی پکڑ کی کوئی راہ نہیں ۔ گرفت صرف ان لوگوں  پر ہے جولوگوں  پر ظلم کرتے ہیں  اور زمین میں  ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں  ، ان کے لیےدردناک عذاب ہے۔ اور بیشک جس نے صبر کیااورمعاف کر دیا تو یہ ضرور ہمت والے کاموں  میں  سے ہے۔

             حضرت انس  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ  سے روایت ہے ، تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب لوگ حساب کے لئے ٹھہرے ہوں  گے تو اس وقت ایک مُنادی یہ اعلان کرے گا:جس کا اجر  اللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں  داخل ہو جائے۔پھر دوسری بار اعلان کرے گا کہ جس کا اجر  اللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں  داخل ہو جائے۔پوچھا جائے گا کہ وہ کون ہے جس کا اجر  اللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے۔ مُنادی کہے گا :ان کا جو لوگوں  (کی خطاؤں ) کو معاف کرنے والے ہیں ۔پھر تیسری بار مُنادی اعلان کرے گا:جس کا اجر  اللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں  داخل ہو جائے۔تو ہزاروں  آدمی کھڑے ہوں  گے اور بلا حساب جنت میں  داخل ہو جائیں  گے۔(معجم الاوسط ،  باب الالف ،  من اسمہ: احمد ،  ۱ / ۵۴۲ ،  الحدیث: ۱۹۹۸)

 



Total Pages: 235

Go To