Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: بادشاہی اس دن  اللہ ہی کی ہے وہ ان میں  فیصلہ کردے گا تو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ چین کے باغوں  میں  ہیں ۔اور جنہوں  نے کفر کیا اور ہماری آیتیں  جھٹلائیں  ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس دن بادشاہی  اللہ ہی کے لئے ہے ۔وہ ان میں  فیصلہ کردے گاتو ایمان والے اور اچھے کام کرنے والے نعمتوں  کے باغات میں  ہوں  گے۔اور جنہوں  نے کفر کیا اور ہماری آیتوں  کو جھٹلایا ان کے لیے رسوا کر دینے والا عذاب ہے۔

{اَلْمُلْكُ یَوْمَىٕذٍ لِّلّٰهِ: اس دن بادشاہی  اللہ ہی کیلئے ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن بادشاہی  اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے جس کا اصلًا کوئی شریک نہیں  اور وہ بادشاہی اس طرح ہے کہ اس دن کوئی شخص سلطنت کا دعویٰ بھی نہ کرے گا اور  اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بادشاہ کا قانون نہ ہوگا ورنہ حقیقی بادشاہت تو آج بھی اس کی ہی ہے۔  اللہ تعالیٰ اس دن مسلمانوں  اور کافروں  کے درمیان فیصلہ کردے گا اوروہ فیصلہ یہ ہے کہ ایمان لانے والے اوراچھے کام کرنے والے مسلمان  اللہ تعالیٰ کے فضل سے نعمتوں  کے باغات میں  ہوں  گے اور جنہوں  نے کفر کیا اور  اللہ تعالیٰ کی آیتوں  کو جھٹلایا ان کے لیے ان کے کفر کی وجہ سے رسواکردینے والاعذاب ہے۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۶-۵۷ ،  ۶ / ۵۱ ،  جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۶-۵۷ ،  ص۲۸۴ ،  ملتقطاً)

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جنہوں  نے  اللہ کی راہ میں  اپنے گھر بار چھوڑے پھر مارے گئے یا مرگئے تو اللہ ضرور انہیں  اچھی روزی دے گا اور بیشک  اللہ کی روزی سب سے بہتر ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جنہوں  نے  اللہ کی راہ میں  اپنے گھر بار چھوڑے پھر قتل کردئیے گئے یا خود مرگئے تو اللہ ضرور انہیں  اچھی روزی دے گا اور بیشک  اللہ سب سے اچھا رزق دینے والا ہے۔

{وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ: اور وہ جنہوں  نے  اللہ کی راہ میں  اپنے گھر بار چھوڑے۔} شانِ نزول:بعض صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کی: یا رسولَ  اللہ !صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  ہمارے جو اَصحاب شہید ہو گئے ہم جانتے ہیں  کہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ان کے بڑے درجے ہیں  اور ہم جہادوں  میں  حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ رہیں  گے  ، لیکن اگر ہم آپ کے ساتھ رہے اور ہمیں  شہادت کے بغیر موت آئی تو آخرت میں  ہمارے لئے کیا ہے؟ اس پر یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی اور اس آیت میں  فرمایا گیا کہ وہ لوگ جنہوں  نے  اللہ تعالیٰ کی راہ میں  اپنے گھر بار چھوڑے اور اس کی رضا کے لئے عزیز و اَقارب کو چھوڑ کر وطن سے نکلے اور مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی ،  پھر جنگ میں  یا تو شہید کردئیے گئے یا انہیں  طبعی طور پر موت آ گئی تو اللہ تعالیٰ ضرور انہیں  جنت کی اچھی روزی دے گا جو کبھی ختم نہ ہو گی اور بیشک  اللہ تعالیٰ سب سے اچھا رزق دینے والا ہے کیونکہ وہ بے حساب رزق دیتا ہے اور جو رزق وہ دیتا ہے اس پر  اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی قادر نہیں ۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ:۵۸ ،  ص۷۴۵ ،  خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۸ ،  ۳ / ۳۱۵ ،  جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۸ ،  ص۲۸۴ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۸ ،  ۶ / ۵۲ ،  ملتقطاً)

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ(۵۹)

ترجمۂ کنزالایمان: ضرور انہیں  ایسی جگہ لے جائے گا جسے وہ پسند کریں  گے اور بیشک  اللہ علم اور حلم والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ ضرور انہیں  ایسی جگہ داخل فرمائے گا جسے وہ پسند کریں  گے اور بیشک  اللہ علم والا ،  حلم والا ہے۔

{لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ:وہ ضرور انہیں  ایسی جگہ داخل فرمائے گا جسے وہ پسند کریں  گے۔} اس سے پہلی آیت میں  جن ہستیوں  کے لئے جنت کی روزی کا بیان ہوا یہاں  ان کی رہائش کے بارے میں  بیان کیا جا رہا ہے ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ  اللہ تعالیٰ ضرور انہیں  ایسی جگہ داخل فرمائے گا جسے وہ پسند کریں  گے ،  وہاں  ان کی ہر مراد پوری ہو گی اورانہیں  کوئی ناگوار بات پیش نہ آئے گی اور بیشک  اللہ تعالیٰ ہر ایک کے احوال کو جاننے والا اور قدرت کے باوجود دشمنوں  کو جلد سزا نہ دے کر حلم فرمانے والا ہے۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ۳ / ۳۱۵ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ۶ / ۵۲ ،  ملتقطاً)

راہِ خدا میں  شہید ہونے والا ا س راہ میں  طبعی موت مرنے والے سے افضل ہے:

            ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو شخص  اللہ تعالیٰ کی راہ میں  جہاد کرنے کی نیت سے مجاہدین کے ساتھ نکلے ، پھر اسے طبعی طور پر موت آ جائے تو اسے اور شہید دونوں  کو جنت میں  اچھا رزق دیاجائے گا ،  البتہ یہاں  یہ بات یاد رہے کہ شہید کا مرتبہ طبعی موت مرنے والے سے بڑا ہے۔چنانچہ علامہ ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :

’’راہِ خدا میں  شہید ہونے والا اور اس راہ میں  طبعی موت مرنے والا رزق ملنے کا وعدہ کئے جانے میں  برابر ہیں  لیکن وعدے میں  برابری ا س بات پر دلالت نہیں  کرتی کہ جو رزق انہیں  عطا کیا جائے گااس کی مقدار بھی برابر ہو گی ، دیگر دلائل اور ظاہر ِشریعت سے یہ ثابت ہے کہ شہید (طبعی موت مرنے والے سے) افضل ہے۔( البحر المحیط ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۸ ،  ۶ / ۳۵۴ ،  ملخصًا)

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  لکھتے ہیں :ا س آیت میں  شہید ہونے والے اور طبعی موت مرنے والے ،  دونوں  کے لئے ایک جیسا وعدہ کیا گیا ہے کیونکہ دونوں   اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  قرب حاصل کرنے اور دین کی مدد کرنے نکلے ہیں  اور بعض مفسرین فرماتے ہیں  ’’ راہِ خدا میں  شہید ہونے والے اور طبعی موت مر جانے والے دونوں  حضرات کو اچھی روزی ملے گی لیکن ا س آیت سے یہ ثابت نہیں  ہوتا کہ راہِ خدا میں  شہید ہونے والے اور طبعی موت مرنے والے کا اجر ہر اعتبار سے برابر ہے بلکہ ان دونوں  کے حال میں  فرق ہونے کی بنا پر انہیں  ملنے والی اچھی روزی میں  بھی فرق ہو گا کیونکہ راہِ خدا میں  شہید ہونے والے کو طبعی موت مرنے والے پر فضیلت حاصل ہے کہ اسے  اللہ تعالیٰ کی راہ میں  زخم پہنچے اوراس کا خون بہا (جبکہ طبعی موت مرنے والے کو یہ تکلیفیں  برداشت نہیں  کرنی پڑیں ۔) نیزشہید کے طبعی موت مرنے والے سے افضل ہونے پر کثیر دلائل موجود ہیں  جن میں  سے پانچ درج ذیل ہیں ۔

 



Total Pages: 235

Go To