Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اہے کہ قیامت کے دن کی مقدارپچاس ہزار سال ہے۔ان میں  مطابقت یہ ہے کہ قیامت کے دن کفار کو جن سختیوں  اور ہولناکیوں  کا سامنا ہو گا ان کی وجہ سے بعض کفار کو وہ دن ایک ہزار سال کے برابر لگے گا اور بعض کفار کو پچاس ہزار سال کے برابر لگے گا۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَاۚ-وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کتنی بستیاں  کہ ہم نے ان کو ڈھیل دی اس حال پر کہ وہ ستم گار تھیں  پھر میں  نے انہیں  پکڑا اور میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کتنی ہی بستیاں  ہیں  جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں  نے انہیں ڈھیل دی پھر میں  نے انہیں  پکڑلیااور میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔

{وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا: اور کتنی ہی بستیاں  ہیں  جنہیں  میں  نے ڈھیل دی۔} ارشاد فرمایا کہ کثیر بستیاں  ایسی ہیں  جن میں  رہنے والے لوگوں  کو ظالم ہونے کے باوجود میں  نے ڈھیل دی اور ان سے عذاب کو مُؤخَّر کیا  ، پھر میں  نے مہلت ختم ہونے کے بعد انہیں  پکڑلیااور دنیا میں  ان پر عذاب نازل کیا ، اورآخرت میں  سب کو میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے تو میں  ان کے اَعمال کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کروں  گا۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ۶ / ۴۷)

ظلم  اللہ تعالٰی کے عذاب کاسبب ہے:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ  اللہ تعالیٰ ظالم شخص کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور فوری طور پر اس کی گرفت نہیں  فرماتا حتّٰی کہ وہ یہ گمان کرنے لگ جاتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ اس کی گرفت نہیں  فرمائے گا ، پھر  اللہ تعالیٰ اس کی وہاں  سے پکڑ فرماتا ہے جہاں  سے اسے وہم وگمان تک نہیں  ہوتا اور اس وقت اپنے آپ کو ملامت کرنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں  رہتا تو ظالم کی نجات اسی میں  ہے کہ وہ اپنے اوپر  اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونے سے پہلے پہلے ظلم سے باز آجائے اور اس کی بارگاہ میں  سچی توبہ کر کے جن پر ظلم کیا اور ان کے حقوق کو ضائع کیا ان سے معافی مانگ لے اور ان کے حقوق انہیں  ادا کر دے۔  اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمین۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ(۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرمادو کہ اے لوگو! میں  تو یہی تمہارے لیے صریح ڈر سُنانے والا ہوں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرمادو! اے لوگو!میں  توصرف تمہارے لیے کھلم کھلاڈر سنانے والا ہوں ۔

{قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ: تم فرمادو! اے لوگو!۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان کافروں  کو  اللہ تعالیٰ کی گرفت اور ا س کے عذاب سے مسلسل ڈراتے رہیں  اور ان کی طرف سے مذاق اڑانے کے طور پر جلدی عذاب نازل کرنے کے مطالبات کی وجہ سے انہیں  ڈرانا مَوقوف نہ فرمائیں  اور ان سے فرما دیں  کہ مجھے واضح طور پر  اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر سنانے کے لئے بھیجا گیا ہے اور تمہارا مذاق اڑانا مجھے ا س سے نہیں  روک سکتا۔( تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۸ / ۲۳۴)

مبلغین کے لئے نصیحت:

            اس میں  ان تمام مسلمانوں  کے لئے بھی بڑی نصیحت ہے جواسلام کے احکامات لوگوں  تک پہنچانے کی کوششوں  میں  مصروف ہیں  اور نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کر نے کے اہم ترین فریضے کو انجام دے رہے ہیں  ،  انہیں  چاہئے کہ ان کاموں  کے دوران دل مضبوط رکھیں  اور لوگوں  کی طرف سے ہونے والی طعن و تشنیع اور طنز ومذاق کو خاطر میں  نہ لائیں  اور ا س وجہ سے یہ کام چھوڑ نہ دیں  بلکہ اپنے پیش ِنظرصرف  اللہ تعالیٰ کی رضا کو رکھتے ہوئے ان کاموں  کو جاری رکھیں   ، اور ایسے لوگوں  کے لئے  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ہدایت کی دعا کرتے رہیں   ،  اللہ تعالیٰ نے چاہا تو انہیں  ہدایت مل جائے گی ۔

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ(۵۰)وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان: تو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی۔ اور وہ جو کوشش کرتے ہیں  ہماری آیتوں  میں  ہار جیت کے ارادہ سے وہ جہنمی ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جو لوگ ایمان لائے اورانہوں  نے نیک اعمال کئے ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ اور وہ لوگ جوہماری آیتوں  میں ہارجیت کے ارادے سے کوشش کرتے ہیں  وہ جہنمی ہیں ۔

{ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: تو جو لوگ ایمان لائے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اورانہوں  نے نیک اعمال کئے ان کے لیے گناہوں  سے بخشش اور جنت میں  عزت کی روزی ہے جو کبھی ختم نہ ہو گی اور وہ لوگ جو  اللہ تعالیٰ کی آیتوں  کا رد کرنے اور انہیں  جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں  کہ کبھی ان آیات کو جادو کہتے ہیں   ،  کبھی شعر اور کبھی پچھلوں  کے قصے  ، اور وہ یہ خیال کرتے ہیں  کہ اسلام کے ساتھ ان کا یہ مکر چل جائے گا  ،  وہ جہنمی ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۰-۵۱ ،  ۸ / ۲۳۵ ،  مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵۰-۵۱ ،  ص۷۴۳ ،  ملتقطاً)

            اس سے اشارۃًمعلوم ہوا کہ جو ضدی عالم جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرے اور سند کے طور پر قرآن مجید کی آیات پیش کرے  ،  وہ جہنمی ہے۔ اسی طرح مناظرہ محض اپنی جیت کے لئے کرنا جس میں  حق کو ثابت کرنا اور دین کی خدمت مقصود نہ ہو ،  کافروں  کا کام ہے جبکہ اظہار ِحق کے لئے مناظرہ کرنا انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖۚ-فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول یا نبی بھیجے سب پر یہ واقعہ گزرا ہے کہ جب انہوں  نے پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں  لوگوں  پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو مٹا



Total Pages: 235

Go To