Book Name:Sirat ul jinan jild 6

سے روم اور ایران جیسی اپنے وقت کی سپر پاورز کو قدموں  تلے روند کر رکھ دیا ، عراق اور مصر پر قبضہ کر لیا اور افریقی ممالک میں  بھی دین ِاسلام کے جھنڈے گاڑ دئیے۔اتنا عظیم اِقتدار اور اتنی بڑی سلطنت رکھنے کے باوجود ان صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی سیرت پہلے کی طرح پاکیزہ رہی بلکہ اس کی پاکیزگی اور طہارت میں  مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔ خلافت ملنے کے بعد بھی انہوں  نے  اللہ تعالیٰ کے فرائض کو پابندی سے ادا کیا ،  نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے باقاعدہ نظام بنائے  ،  لوگوں  کو نیک کام کرنے کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے اہم ترین فریضے کو بڑی خوبی سے ادا کیا ، الغرض ان کی پاکیزہ سیرت کاحال یہ ہے کہ ان کے تقویٰ و پرہیز گاری ، دنیا سے بے رغبتی ،  اللہ تعالیٰ کے خوف سے گریہ و زاری ، عاجزی واِنکساری ، حِلم و بُردباری ،  شفقت ورحم دلی ، جرأت و بہادری ، امت کی خیر خواہی ، غیرت ِ ایمانی اور عدل و انصاف کے اتنے واقعات ہیں  جنہیں  جمع کیا جائے تو ہزاروں  صفحات بھر جائیں ۔  اللہ تعالیٰ ان عظیم ہستیوں  کے صدقے آج کے مسلم حکمرانوں  کو بھی عقلِ سلیم عطا فرمائے اور انہیں  اسلام کے زریں  اصولوں  کے مطابق حکومت کانظام چلانے کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔

صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی دین ِاسلام پر اِستقامت:

            اس آیت میں  دی گئی خبر سے معلوم ہو اکہ جب ہجرت کرنے والے صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو زمین میں  اقتدار ملے گا تو ا س کے بعد بھی وہ اسی دین پر قائم ہوں  گے جسے انہوں  نے حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لا کر اختیار کیا تھا ، لہٰذا قرآن مجید کی ا س سچی خبر کے مطابق حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصالِ ظاہری کے بعد جب حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ مسلمانوں  کے خلیفہ بنے تو اس وقت صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ مَعَاذَ اللہ مُرتَد نہیں  ہوئے تھے بلکہ وہ دین ِاسلام پر ہی مضبوطی سے قائم تھے اور انہوں  نے اسلام کے اصول و قوانین پر ہی عمل کیا اور ہر جگہ انہی اصولوں  کو نافذ کیا ، اس سے ان لوگوں  کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو یہ کہتے ہیں  کہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کی بیعت کر کے مَعَاذَ اللہ سب صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ مُرتَد ہو گئے تھے۔  اللہ تعالیٰ انہیں  عقلِ سلیم عطا فرمائے ۔

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ(۴۲) وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ(۴۳) وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَۚ-وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْۚ-فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر یہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں  تو بیشک ان سے پہلے جھٹلا چکی ہے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود۔ اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم۔ اور مدین والے اور موسیٰ کی تکذیب ہوئی تو میں  نے کافرو ں  کو ڈھیل دی پھر انہیں  پکڑا تو کیسا ہوا میرا عذاب ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر یہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں  تو بیشک ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود تکذیب کرچکے ہیں۔ اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم۔ اور مدین والے اور موسیٰ کی تکذیب کی گئی تو میں  نے کافرو ں  کو ڈھیل دی پھر انہیں  پکڑا تو میرا عذاب کیسا ہوا؟

{وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ: اوراگر یہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں ۔}اس آیت ا ور ا س کے بعد والی دو آیات میں  پچھلی کافر قوموں  کا اپنے اپنے رسولوں  کے ساتھ طرزِ عمل بیان کر کے حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقدس دل کو تسلی دی گئی ہے ،  چنانچہ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  اگر یہ کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں  تو آپ تسلی رکھیں  اور ان کی طرف سے آنے والی اَذِیَّتوں  پر صبر کریں  ، کفار کا یہ پرانا طریقہ ہے اور پچھلے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ بھی ان کا یہی دستور رہا ہے  ، چنانچہ کفار ِمکہ سے پہلے حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ،  حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم یعنی عاد ،  حضرت صالح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم یعنی ثمود ،  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم  ، حضرت لوط عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم اورحضرت شعیب عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگ اپنے اپنے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کرچکے ہیں  اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھی جھٹلایا گیا ہے ، تومیں  نے ان کافرو ں  کو ڈھیل دی اور ان کے عذاب میں  تاخیر کی اور انہیں  مہلت دی  ،  پھر میں  نے انہیں  پکڑا اور مختلف عذابوں  سے ان کے کفر و سرکشی کی سزا دی تو ان پر میرا عذاب کیسا ہَولْناک اور دردناک ہوا!۔اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ کی تکذیب کرنے والوں  کو چاہیے کہ اپنے انجام کے بارے میں سوچیں  اور پچھلوں  کے انجام سے عبرت حاصل کریں  ، اگر یہ اپنی حرکتوں  سے باز نہ آئے تو ان کا انجام بھی بہت خوفناک ہو گا۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۲-۴۴ ،  ص۷۴۲ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۲-۴۴ ،  ۶ / ۴۲ ،  ملتقطاً)

{وَ كُذِّبَ مُوْسٰى: اور موسیٰ کی تکذیب کی گئی۔} یہاں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  السَّلَام کے بارے میں  یہ نہیں  فرمایا گیاکہ آپ کی قوم نے آپ کی تکذیب کی  ، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  السَّلَام کی قوم بنی اسرائیل نے آپ کی تکذیب نہ کی تھی بلکہ فرعون کی قوم قبطیوں  نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  السَّلَام کی تکذیب کی تھی۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ص۷۴۲)

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کتنی ہی بستیاں  ہم نے کھپادیں  کہ وہ ستم گار تھیں  تو اب وہ اپنی چھتوں  پر ڈھئی  پڑی ہیں  اور کتنے کنویں  بیکار پڑے اور کتنے محل گچ کئے ہوئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کتنی ہی بستیوں  کو ہم نے ہلاک کردیا اور وہ ظالم تھیں  تو اب وہ اپنی چھتوں  کے بل پر گری پڑی ہیں  اور کتنے کنویں  بیکار پڑے ہوئے اور کتنے بلندو بالامضبوط محل (ہم نے برباد کردئیے)۔

{فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا: اور کتنی ہی بستیوں  کو ہم نے ہلاک کردیا۔} ارشاد فرمایا کہ اور کتنی ہی بستیوں  کو ہم نے برباد کر دیا اور ان میں  رہنے والے لوگوں  کوہلاک کردیا کیونکہ ان بستیوں  میں  رہنے والے کافر تھے  ، تو اب وہ بستیاں  اپنی چھتوں  کے بل پر گری پڑی ہیں  اورکتنے کنویں  بیکار پڑے ہیں  کہ ان سے کوئی پانی بھرنے والا نہیں  اور کتنے بلندو بالامحل خالی اور ویران پڑے ہیں  کیونکہ ان میں  رہنے والے مر چکے ہیں ۔(مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۵ ،  ص۷۴۲ ،  جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۵ ،  ص۲۸۳ ،  ملتقطاً)

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَاۚ-فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا زمین میں  نہ چلے کہ ان کے دل ہوں  جن سے سمجھیں  یا کان ہوں  جن سے سُنیں  تو یہ کہ آنکھیں  اندھی نہیں  ہوتیں  بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں  جو سینو ں  میں  ہیں ۔

 



Total Pages: 235

Go To