Book Name:Sirat ul jinan jild 6

نے تمہیں  ان جانوروں  کو مُسَخَّر کرنے اور ان کے ذریعے تقرب حاصل کرنے کے طریقے کی ہدایت دی اور اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان لوگوں  کو اعمال مقبول ہونے کی خوشخبری اور جنت کی بشارت دے دیں  جو نیک کام کرنے میں  مخلص ہیں ۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۶ / ۳۶)

حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  اور ایک حاجی:

            یہاں  حج سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو ، چنانچہ حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : میں  مکہ مکرمہ کی طرف نکلا تو راستے میں  ایک نوجوان کو دیکھا  ، جس کا معمول یہ تھا کہ رات کے وقت اپنے چہرے کو آسمان کی طرف اٹھا کر کہتا:اے وہ ذات ! جو نیکیوں  سے راضی ہو تی ہے اور بندوں  کے گناہ اسے کوئی نقصان نہیں  دیتے  ، مجھے ان اعمال کی توفیق دے جن سے تو راضی ہو جائے اور میرے ان اعمال کو بخش دے جن سے تیرا کوئی نقصان نہیں  ہوتا۔ پھر جب لوگوں  نے اِحرام باندھا اور تَلْبِیَہ پڑھا تو میں  نے ا س نوجوان سے کہا:تم تلبیہ کیوں  نہیں  پڑھتے؟اس نے عرض کی: یا شیخ!پچھلے گناہوں  اور لکھ دئیے گئے جرموں  کے مقابلے میں تلبیہ کافی نہیں   ،  میں  اس بات سے ڈرتا ہوں  کہ میں  لبیک کہوں  اور مجھ سے یہ کہہ دیا جائے کہ تیری حاضری قبول نہیں  ،  تیرے لئے کوئی سعادت نہیں   ، میں  نہ تیرا کلام سنوں  گا اور نہ تیری طرف نظر ِرحمت فرماؤں  گا۔پھر وہ نوجوان چلا گیا اور اس کے بعد میں  نے اسے مِنیٰ میں  ہی دیکھا اور اس وقت وہ کہہ رہاتھا:اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ ،  مجھے بخش دے  ، بے شک لوگوں  نے قربانیاں  کر لیں  اور تیری بارگاہ میں  نذرانہ پیش کر دیا اور میرے پاس میری جان کے علاوہ اورکوئی چیز نہیں  جسے میں  تیری بارگاہ میں  نذر کروں  تو تُو میری طرف سے میری جان قبول فرما لے۔پھر اس نوجوان نے ایک چیخ ماری اور اس کی روح قَفسِ عُنْصُری سے پرواز کر گئی۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۶ / ۳۶-۳۷)

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان:بیشک  اللہ بلائیں  ٹالتا ہے مسلمانوں  کی بیشک  اللہ دوست نہیں  رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک  اللہ مسلمانوں  سے بلائیں  دور کرتا ہے ۔ بیشک  اللہ ہر بڑے بددیانت  ،  ناشکرے کو پسند نہیں  فرماتا۔

{اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: بیشک  اللہ مسلمانوں  سے بلائیں  دور کرتا ہے ۔} مشرکوں  نے حُدَیْبیہ کے سال سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو حج کرنے سے روک دیاتھا اور جو صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ مکہ مکرمہ میں  موجود تھے انہیں وہ طرح طرح کی اَذِیَّتیں  اور تکلیفیں  دیاکرتے تھے ،  چنانچہ حج کے لَوازمات اور مَناسِک بیان فرمانے کے بعد ان آیات میں   اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں  کو یہ بشارت دی کہ بیشک  اللہ تعالیٰ مسلمانوں  پر آنے والی بلائیں  ان سے دور کردے گا اور مشرکوں  کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔(البحر المحیط ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۶ / ۳۴۶)

 عزت ونصرت بالآخر مسلمانوں  کے لئے ہے:

            علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  کہ اس آیت کے نزول کا سبب اگرچہ خاص ہے لیکن اعتبار الفاظ کے عموم کا ہے  ، اس لئے مسلمان اگرچہ بلاؤں  اور مصیبتوں  وغیرہ سے آزمائے جائیں  بالآخر عزت ، نصرت اور بڑی کامیابی مسلمانوں  کے لئے ہے اور یہ مصیبتیں  ان کے گناہوں  کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں ۔( صاوی ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۴ / ۱۳۴۰-۱۳۴۱) خیال رہے کہ نیک اعمال کی برکت سے یا محبوب بندوں  کے طفیل اور بارہامحض اپنے کرم سے  اللہ تعالیٰ دنیا میں  بھی مسلمانوں  سے بلائیں  ٹالتا ہے اور آخرت میں  بھی ٹالے گا ، جیسا کہ قرآنی آیات اور صحیح اَحادیث سے ثابت ہے۔

{اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ:بیشک  اللہ ہر بڑے بددیانت  ،  ناشکرے کو پسند نہیں  فرماتا۔} یعنی  اللہ تعالیٰ ان کفار کو پسند نہیں  فرماتا جو  اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ کفر کر کے ان کی خیانت  اور خدا کی نعمتوں  کی ناشکری کرتے ہیں  اور  اللہ تعالیٰ انہیں  اس عمل پر سزا دے گا۔( جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ص۲۸۲ ،  خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۳ / ۳۱۰ ،  ملتقطاً)

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙﰳ (۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: پروانگی عطا ہوئی انہیں  جن سے کافر لڑتے ہیں  اس بنا پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بیشک  اللہ اُن کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جن سے لڑائی کی جاتی ہے انہیں  اجازت دیدی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک  اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔

{اُذِنَ:اجازت دیدی گئی ہے۔} شانِ نزول: کفار ِمکہ صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو ہاتھ اور زبان سے شدید اِیذائیں  دیتے اور تکلیفیں  پہنچاتے رہتے تھے اورصحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس اس حال میں  پہنچتے تھے کہ کسی کا سر پھٹا ہے  ، کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہے اورکسی کا پاؤں  بندھا ہوا ہے۔ روزانہ اس قسم کی شکایتیں  بارگاہِ اقدس میں  پہنچتی تھیں  اورصحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ حضور انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربار میں  کفار کے ظلم و ستم کی فریادیں  کیا کرتے اور آپ یہ فرما دیا کرتے کہ’’ صبر کرو ،  مجھے ابھی جہاد کا حکم نہیں  دیا گیا ہے۔ جب حضور اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی  ، تب یہ آیت نازل ہوئی اور یہ وہ پہلی آیت ہے جس میں  کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین کی طرف سے جن مسلمانوں  سے لڑائی کی جاتی ہے انہیں  مشرکین کے ساتھ جہاد کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک  اللہ تعالیٰ اِن مسلمانوں  کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۶ / ۳۸)

الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُؕ-وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًاؕ-وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان:وہ جو اپنے گھروں  سے ناحق نکالے گئے صرف اتنی بات پر کہ انہوں  نے کہا ہمارا رب  اللہ ہے اور  اللہ اگر آدمیوں  میں  ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور



Total Pages: 235

Go To