Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اونٹ نحر کرنے سے متعلق دو شرعی مسائل:

            یہاں  آیت کی مناسبت سے اونٹ نحر کرنے سے متعلق دو شرعی مسائل ملاحظہ ہوں  ،

(1)…اونٹ کو نحر کرنا اور گائے بکری وغیرہ کو ذبح کرنا سنت ہے اور اگر اس کا عکس کیا یعنی اونٹ کو ذبح کیا اور گائے وغیرہ کو نحر کیا تو جانور اس صورت میں  بھی حلال ہو جائے گا مگر ایسا کرنا مکروہ ہے کہ سنت کے خلاف ہے۔

(2)…عوام میں  یہ مشہور ہے کہ اونٹ کو تین جگہ ( سے) ذبح کیا جاتا ہے  ،  (یہ) غلط ہے اور یوں  کرنا مکروہ ہے کہ بلا فائدہ اِیذا دینا ہے۔(بہار شریعت ،  حصہ پانزدہم ،  ذبح کابیان ،  ۳ / ۳۱۲)

            جانور ذبح کرنے سے متعلق شرعی مسائل کی تفصیل جاننے کے لئے بہار شریعت ،  جلد 3 حصہ 15 سے ’’ذبح کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔

{فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ:  تو ان میں  سے خود کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور بھیک مانگنے والے کو کھلاؤ۔} اس آیت میں  قربانی کے گوشت سے متعلق فرمایا گیا کہ اس میں  سے خود کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور بھیک مانگنے والے کو بھی کھلاؤ۔ قناعت کرنے والے سے وہ شخص مراد ہے جو کسی سے سوال نہ کرتا ہو اور بن مانگے اسے جو مل جائے اس پر اور اپنے پاس موجود مال پر راضی ہو۔

{ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ:اس طرح ہم نے ان جانوروں  کو تمہارے قابو میں  دے دیا۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان جانوروں  کو انتہائی طاقتور ہونے کے باجود ذبح کرنے اور سواری کرنے کے لئے تمہارے قابو میں  دے دیا تاکہ تم اپنے اوپر  اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا شکر ادا کرو۔(جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ص۲۸۲ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۶ / ۳۶ ،  ملتقطاً)

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ- كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْؕ-وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں  نہ ان کے خون ہاں  تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے یونہی ان کو تمہارے بس میں  کردیا کہ تم  اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ تم کو ہدایت فرمائی اور اے محبوب خوش خبری سناؤ نیکی والوں  کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اللہ کے ہاں  ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں  اورنہ ان کے خون ،  البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے ۔ اسی طرح اس نے یہ جانور تمہارے قابو میں  دیدئیے تا کہ تم اس بات پر  اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں  ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں  کو خوشخبری دیدو۔

{لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا:  اللہ کے ہاں  ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں  اورنہ ان کے خون۔}شانِ نزول: دورِجاہلیّت کے کفار اپنی قربانیوں  کے خون سے کعبہ معظمہ کی دیواروں  کو آلودہ کرتے تھے اور اسے قرب کا سبب جانتے تھے ، جب مسلمانوں  نے حج کیا اور یہی کام کرنے کا ارادہ کیا تواس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ہرگز نہ ان کی قربانیوں  کے گوشت پہنچتے ہیں  اورنہ ان کے خون ،  البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے اور قربانی کرنے والے صرف نیت کے اِخلاص اور تقویٰ کی شرائط کی رعایت کر کے  اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکتے ہیں ۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ص۷۴۰)

اچھی نیت اور اِخلاص کے بغیر نیک عمل مقبول نہیں :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو نیک عمل اچھی نیت اور ا خلاص کے بغیر کیا جائے وہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  مقبول نہیں  ۔ نیت و اِخلاص کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’اہلِ دل لوگوں  پر ایمانی بصیرت اور انوارِ قرآن کی وجہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اَبدی سعادت تک رسائی کے لئے علم اور عبادت ضروری ہے ، چنانچہ علم والوں  کے علاوہ تمام لوگ ہلاک ہونے والے ہیں  اور عمل کرنے والوں  کے علاوہ تمام علماء ہلاک ہونے والے ہیں  اور مخلص لوگوں  کے علاوہ تما م عمل کرنے والے بھی ہلاک ہونے والے ہیں  جبکہ مخلص لوگوں  کو بھی بڑ اخطرہ ہے(کیونکہ انہیں  اپنے خاتمے اور اپنے بارے میں   اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر کا علم نہیں ) اورنیت کے بغیر عمل محض مشقت اور اخلاص کے بغیر نیت ریاکاری ہے اور یہ منافقت کے لئے کافی اور گناہ کے برابر ہے جبکہ صداقت کے بغیر اخلاص گرد و غبار کے ذرّات ہیں  کیونکہ ہر وہ عمل جو  اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے ارادے سے کیا جائے اور اس میں  نیت خالص نہ ہو تواس کے بارے میں   اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:

’’وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا‘‘(فرقان:۲۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور انہوں  نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں  کی طرح (بے وقعت) بنادیں  گے جو روشندان کی دھوپ میں  نظر آتے ہیں ۔

            تو جو شخص نیت کی حقیقت سے واقف نہ ہو ا س کی نیت کیسے صحیح ہو گی؟ یا جس کی نیت درست ہو وہ اخلاص کی حقیقت سے آگاہ ہوئے بغیر مخلص کیسے ہو گا؟ یا وہ شخص جو صداقت کے مفہوم سے آگاہی نہ رکھتا ہو وہ اپنے نفس سے صداقت کا مطالبہ کیسے کرے گا؟ لہٰذا جو شخص  اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا ارادہ رکھتا ہو اس کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نیت کا علم حاصل کرے تاکہ اسے نیت کی معرفت حاصل ہو  ، پھر صداقت اور اخلاص کی حقیقت سے آگاہ ہو کر عمل کے ذریعے نیت کو صحیح کرے کیونکہ بندے کی نجات اور چھٹکارے کا وسیلہ یہی دو باتیں (صداقت اور اخلاص) ہیں ۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب النیۃ والاخلاص والصدق ،  ۵ / ۸۶)

            نیت  ، اخلاص اور صداقت کے بارے میں  تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کی تصنیف ’’احیاء العلوم ‘‘([1])     کی چوتھی جلد سے ان ابواب کا مطالعہ کریں  تاکہ ان کی معرفت حاصل ہو۔

{كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ:اسی طرح ہم نے یہ جانور تمہارے قابو میں  دیدئیے۔}ارشاد فرمایا کہ اسی طرح ہم نے یہ جانور تمہارے قابو میں  دیدئیے تا کہ اس سے تمہیں   اللہ تعالیٰ کی عظمت معلوم ہو کہ اس نے ان جانوروں  کو تمہارے قابو میں  دیدیا جنہیں  لوگوں  کے قابو میں  دینے پر ا س کے علاوہ اور کوئی قادر نہیں  اور اس بات پر تم  اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو کہ اس



[1] ۔۔۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے احیاء العلوم (مترجم) کی جلد 04 اورجلد 05 ہدیۃً حاصل کر کے مطالعہ فرمائیں ۔



Total Pages: 235

Go To