Book Name:Sirat ul jinan jild 6

س کی قیمت اتنی بتائی جا رہی ہے کہ عام طور پر ایسا جانور اس قیمت پر نہیں  ملتا۔ لہٰذا ایسی صورت میں  قیمت کم کروانا درست ہے۔

{فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ:تو یہ دلوں  کی پرہیزگاری سے ہے ۔} یعنی  اللہ تعالیٰ کی نشانیوں  کی تعظیم کرنا دلوں  کے پرہیز گار ہونے کی علامت ہے۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۶ / ۳۲)

پرہیز گاری کا مرکز:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ دل پرہیزگاری کا مرکز ہے اور جب دل میں  تقویٰ و پرہیز گاری جم جائے گی تو ا س کا اثر دیگر اَعضا میں  خود ہی ظاہر ہو جائے گا۔ حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ شُبہے والی چیزیں  ہیں  جنہیں بہت سے لوگ نہیں  جانتے تو جو شبہات سے بچے گا وہ اپنا دین اور اپنی آبرو بچالے گا اور جوشبہات میں  پڑے گا وہ حرام میں  مبتلا ہو جائے گا ،  جیسے جو چرواہا شاہی چراگاہ کے آس پاس چرائے تو قریب ہے کہ اس چراگاہ میں  جانور چرلیں  ۔ آگاہ رہو کہ ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور  اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں  ہیں ۔ آگاہ رہو کہ جسم میں  ایک گوشت کا ٹکڑاہے  ، جب وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے ،  خبردار وہ دل ہے۔(بخاری ،  کتاب الایمان ،  باب فضل من استبرأ لدینہ ،  ۱ / ۳۳ ،  الحدیث: ۵۲)

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :دل بادشاہ کی طرح ہے اور ا س کا جو لشکر آنکھ سے دکھائی دیتا ہے وہ ہاتھ ،  پاؤں  ،  آنکھ ،  زبان اور باقی تمام ظاہری و باطنی اَعضاہیں   ،  یہ تمام دل کے خادم اور ا س کے قابو میں  ہیں   ، وہی ان سب میں  تَصَرُّف کرتا ہے اور انہیں  ادھر ادھر پھیرتا ہے ،  وہ تمام اس کی اطاعت پر مجبور ہیں  اور نہ اس سے اختلاف کرنے کی طاقت رکھتے ہیں  نہ اس سے سر کشی اختیار کر سکتے ہیں   ،  جب وہ آنکھ کو کھلنے کا حکم دیتا ہے تو وہ کھل جاتی ہے ،  جب وہ پاؤں  کو حرکت کرنے کا حکم دیتا ہے تو وہ حرکت کرتا ہے اور جب وہ زبان کو بولنے کا حکم دیتا ہے تو وہ بولتی ہے اور اسی طرح دیگر اَعضا کا معاملہ ہے۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب شرح عجائب القلب ،  بیان جنود القلب ،  ۳ / ۶)

             لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے دل کی اصلاح کی طرف بھر پور توجہ دے کیونکہ اس کی اصلاح کے بغیر دیگر اعضاء کی اصلاح مشکل ترین ہے۔

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: تمہارے لیے چوپایوں  میں  فائدے ہیں  ایک مقرر میعاد تک پھر اُن کا پہنچنا ہے اس آزاد گھر تک۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تمہارے لیے ان جانوروں  میں  ایک مقررہ مدت تک بہت سے فائدے ہیں  پھر ان کے ذبح کرنے کی جگہ آزادگھر کے پاس ہے۔

{لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ:تمہارے لیے ان جانوروں  میں  بہت سے فائدے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ تمہارے لئے ان جانوروں  میں  ان کے ذبح کے وقت تک بہت سے فائدے ہیں  جیسے ضرورت کے وقت ان پر سوار ہو سکتے ہو اور حاجت کے وقت ان کا دودھ پی سکتے ہو ،  پھر انہیں  حرم شریف تک پہنچنا ہے جہاں  وہ ذبح کئے جائیں  گے۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ص۷۳۹)

            خیال رہے کہ یہاں  ہَدی یعنی اس جانور کا ذکر ہے جو صرف حرم شریف میں  ہی ذبح ہو سکتا ہے جبکہ وہ قربانی جو مالداروں  پر عید الاضحی کے موقع پر واجب ہوتی ہے وہ ہر جگہ کی جائے گی۔

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِۙ-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ  اللہ کا نام لیں  اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں  پر تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں  کو۔ کہ جب  اللہ کا ذکر ہوتا ہے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں  اور جو افتاد پڑے اس کے          سہنے والے اور نماز برپا رکھنے والے اور ہمارے دئیے سے خرچ کرتے ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی تا کہ وہ اس بات پر  اللہ کا نام یاد کریں  کہ اس نے انہیں  بے زبان چوپایوں  سے رزق دیا تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور عاجزی کرنے والوں  کیلئے خوشخبری سنادو۔ وہ لوگ ہیں کہ جب  اللہ کا ذکر ہوتا ہے توان کے دل ڈرنے لگتے ہیں  اور انہیں  جو مصیبتپہنچے اس پر صبرکرنے والے ہیں  اور نماز قائم رکھنے والے ہیں  اور ہمارے دیئے ہوئے رزق میں  سے خرچ کرتے ہیں ۔

{وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی۔} یعنی گزشتہ ایماندار اُمتوں  میں  سے ہر امت کے لئے  اللہ تعالیٰ نے ایک قربانی مقرر فرمائی تا کہ وہ جانوروں  کو ذبح کرتے وقت ان پر  اللہ تعالیٰ کا نام لیں  ،  تو اے لوگو! تمہارا معبود ایک معبود ہے اس لئے ذبح کے وقت صرف اسی کا نام لو اور اسی کے حضور گردن جھکاؤ اور اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کرو اور اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ عاجزی کرنے والوں  کو خوشخبری سنا دیں ۔(خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ۳ / ۳۰۹ ،  مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ص۷۳۹ ،  ملتقطاً)

جانور ذبح کرتے وقت  اللہ تعالٰی کا نام ذکر کرنا شرط ہے:

            اس آیت میں  اس بات پر دلیل ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت  اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرنا شرط ہے اور  اللہ تعالیٰ نے ہر ایک امت کے لئے مقرر فرما دیا تھا کہ وہ اس کے لئے تَقَرُّب کے طور پر قربانی کریں  اور تمام قربانیوں  پر صرف اسی کا نام لیا جائے۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ص۷۳۹)

{اَلَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ:وہ لوگ ہیں کہ جب  اللہ کا ذکر ہوتا ہے توان کے دل ڈرنے لگتے ہیں ۔} یعنی عاجزی کرنے والے وہ لوگ ہیں  کہ جب ان کے سامنے  اللہ تعالیٰ



Total Pages: 235

Go To