Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: ایک  اللہ کے ہوکر کہ اس کا ساجھی کسی کو نہ کرو اور جو  اللہ کا شریک کرے وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اُسے اُچک لے جاتے ہیں  یا ہوا اُسے کسی دور جگہ پھینکتی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ایک  اللہ کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر (اور) اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے (بتوں  سے دور رہو) اور جو  اللہ کے ساتھ شرک کرے وہ گویا آسمان سے گرپڑا تو اسے پرندے اچک لے جاتے ہیں  یا ہوا اسے کسی دور کی جگہ پھینک دیتی ہے۔

{حُنَفَآءَ لِلّٰهِ:ایک  اللہ کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر۔} یعنی اے لوگو! تم ایک  اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے بتوں  کی گندگی سے دور رہو۔

{وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ:اور جو  اللہ کے ساتھ شرک کرے وہ گویا آسمان سے گرپڑا۔} اس آیت میں  ایک انتہائی نفیس تشبیہ سے شرک کا برا انجام سمجھایا گیا ہے  ،  اس تشبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص انتہائی بلندی سے زمین پر گر پڑے تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ پرندے اس کی بوٹی بوٹی نوچ کر لے جاتے ہیں  یا پھر ہوا اس کے اَعضا کو دور کسی وادی میں  پھینک دیتی ہے اور یہ ہلاکت کی ایک بد ترین صورت ہے۔ اسی طرح جو شخص ایمان ترک کر کے  اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے تو وہ ایمان کی بلندی سے کفر کی وادی میں  گر پڑتا ہے ،  پھر بوٹی بوٹی لے جانے والے پرندے کی طرح نفسانی خواہشات اس کی فکروں  کو مُنتَشر کر دیتی ہیں  یا ہوا کی طرح آنے والے شیطانی وسوسے اسے گمراہی کی وادی میں  پھینک دیتے ہیں  اور یوں  شرک کرنے والا اپنے آپ کو بد ترین ہلاکت میں  ڈال دیتا ہے۔( ابو سعود ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۴ / ۱۸ ،  ملخصاً)

ایمان کی اہمیت:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمان ایسی عظیم چیز ہے جسے اختیار کرنے والا عزت و عظمت کی بلندیوں  کو چھو لیتا ہے اور ایمان کو ترک کرنے والا اور دین ِاسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے دین کو اختیار کر لینے والا خود کو بد ترین ہلاکت میں  ڈال دیتا ہے کیونکہ اگر یہ مُرتَد ہونے والا صحیح توبہ کئے بغیر اسی کفر کی حالت میں  مر گیا تو اسے ہمیشہ کے لئے جہنم میں  ڈال دیا جائے گا ،  چنانچہ ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ‘‘(بقرہ: ۲۱۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم میں  جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہو جائے پھر کافر ہی مرجائے تو ان لوگوں  کے تمام اعمال دنیا و آخرتمیں  برباد ہوگئے اور وہ دوزخ والے ہیں  وہ اس میں  ہمیشہ رہیں  گے۔

            افسوس! فی زمانہ مسلمانوں  میں  ایمان کی قدر اور اہمیت کم ہوتی چلی جا رہی ہے اور بعض مسلمان دنیا کا نفع ،  دنیا کی سہولت و آسائش اور دنیا کا مال ودولت حاصل کرنے کی خاطراپنا ایمان ضائع کر دینے کی پرواہ بھی نہیں  کرتے اور چند ٹکوں  کے لئے ایمان جیسی قیمتی ترین دولت لٹا دیتے ہیں ۔  اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں  کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور انہیں  اپنے ایمان کی قدر اور اس کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔

ذٰلِكَۗ-وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بات یہ ہے اور جو  اللہ کے نشانوں  کی تعظیم کرے تو یہ دلوں  کی پرہیزگاری سے ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بات یونہی ہے اور جو  اللہ کی نشانیوں  کی تعظیم کرے تو یہ دلوں  کی پرہیزگاری سے ہے ۔

{وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ:اور جو  اللہ کی نشانیوں  کی تعظیم کرے۔} یہاں   اللہ تعالیٰ کی نشانیوں  سے کیا مراد ہے  ،  اس کے بارے میں  مفسرین کے تین قول ہیں  ،  (1)  اللہ تعالیٰ کی نشانیوں  میں  تمام عبادات داخل ہیں ۔ (2) ان سے حج کے مَناسِک مراد ہیں  ۔ (3) ان سے بُدنہ یعنی وہ اونٹ اور گائے مراد ہیں  جنہیں  قربانی کے لئے حرم میں  بھیجا جائے اور ان کی تعظیم یہ ہے کہ فربہ  ،  خوبصورت اور قیمتی لئے جائیں ۔( تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۸ / ۲۲۳ ،  جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ص۲۸۲ ،  ملتقطاً)

حج کے موقع پر کیسے جانور کی قربانی دی جائے؟

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ حج کے موقع پر جو جانور قربان کیا جائے وہ عمدہ  ،  موٹا ،  خوبصورت اور قیمتی ہو۔ امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ’’ ایک قول یہ ہے کہ ا س آیت میں  تعظیم سے مراد عمدہ اور موٹے جانور کی قربانی دینا ہے۔ (لہٰذا قربانی کا جانور خریدنے والے کو چاہئے کہ )اس کی خریداری میں  قیمت کم کرنے کے در پے نہ ہو ۔ بزرگانِ دین تین چیزوں  میں  قیمت زیادہ دیتے تھے اور اس میں  کمی کروانے کو پسند نہیں  کرتے تھے (1)حج کے موقع پر خریدا جانے والا قربانیکا جانور۔ (2) عید کی قربانی کا جانور۔ (3) غلام۔ کیونکہ قربانی میں  زیادہ قیمت والا جانور ان کے مالکوں  کے نزدیک زیادہ نفیس ہوتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ (حج کے موقع پر) ایک غیر عربی اونٹ قربانی کے لئے لے گئے  ، کسی نے آپ سے وہ اونٹ تین سو دیناروں  کے بدلے میں  طلب کیا ، آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُنے حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا کہ اسے بیچ کر ہلکا جانور خرید لوں  تو نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے آپ کو روک دیا اور ارشاد فرمایا کہ اسی کی قربانی کرو۔

            یہ اس لئے فرمایا کہ تھوڑی اور عمدہ چیز زیادہ اور ہلکی چیز سے بہتر ہوتی ہے اور تین سو دیناروں  میں  تیس اونٹ آ سکتے تھے اور ان میں  گوشت بھی زیادہ ہوتا لیکن مقصود گوشت نہیں  تھا بلکہ مقصد تو نفس کو بخل سے پاک کرنا اور  اللہ تعالیٰ کی تعظیم کے جمال سے مُزَیَّن کرنا ہے کیونکہ  اللہ تعالیٰ کو ہر گز ان کے گوشت اور خون نہیں  پہنچیں  گے بلکہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ،  اور یہ مقصد اسی صورت حاصل ہونا ممکن ہے جب قیمت (اور دیگر چیزوں ) میں  عمدگی کا لحاظ رکھا جائے ،  تعداد کم ہو یا زیادہ۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب اسرار الحج ،  الباب الثالث فی الآداب الدقیقۃ والاعمال الباطنۃ ،  ۱ / ۳۵۳)

            نوٹ: یاد رہے کہ جانور خریدتے وقت قیمت کم نہ کروائی جائے تو بہتر ہے لیکن اس میں  یہ ضرور دیکھ لیا جائے کہ وہ جانور اتنی قیمت کا بنتا بھی ہو ،  ایسا نہ ہو کہ جانور دبلا پتلا ہے اور ا



Total Pages: 235

Go To