Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اللہ تعالٰی کی حرمت والی چیزوں  کی تعظیم کی جائے:

            اس سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں  اور جن مقامات کو  اللہ تعالیٰ نے عزت و حرمت عطا کی ہے ان کی تعظیم کرنے والا بھلائی پاتا ہے اور ان کی بے حرمتی کرنے والا نقصان اٹھاتا اور تباہ وبرباد ہو جاتا ہے لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں  کی تعظیم کرے اور ان کی بے حرمتی کرنے سے بچے نیز جن ہستیوں  کو  اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں  قرب و شرف عطا فرما کر عزت و عظمت سے نوازا ہے جیسے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِموغیرہ ، ان کی اور ان سے نسبت رکھنے والی چیزوں  کی بھی تعظیم کرے اور کسی طرح ان کی بے ادبی نہ کرے ۔

{وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ:اور تمہارے لیے تمام جانور حلال کئے گئے ۔} آیت کے اس حصے کا معنی یہ ہے کہ قرآن پاک میں  جن جانوروں  کا حرام ہونا تمہارے سامنے بیان کیا جاتاہے ان کے علاوہ تمام جانور تمہارے لئے حلال ہیں   ،  تم انہیں  شرعی طریقے سے ذبح کر کے کھا سکتے ہو لہٰذا تم  اللہ تعالیٰ کی حدوں  کی حفاظت کرو اور اس نے جو چیز حلال فرمائی اسے حرام قرار نہ دو جیساکہ بعض لوگ بَحیرہ اور سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دیتے ہیں   ، اسی طرح جس چیز کو  اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اسے حلال قرار نہ دو جیساکہ بعض لوگ دھاری دار چیز کی چوٹ کے بغیر مارے ہوئے اور مردہ جانور کا گوشت کھانے کو حلال کہتے ہیں ۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ص۷۳۸)

            نوٹ: حرام جانوروں  سے متعلق تفصیلی بیان سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 3 کی تفسیر میں  گزر چکا ہے ،  وہاں  سے اس کا مطالعہ فرمائیں ۔

اولیاءِ کرام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْهِمْکی طرف منسوب جانوروں  کا شرعی حکم:

            یاد رہے کہ جن جانوروں  کو ذبح کرنے سے پہلے  اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں  کی طرف منسوب کیا جائے اور انہیں  ذبح شرعی طریقے کے مطابق کیا جائے تو وہ بھی حلال ہیں  اور قرآن و حدیث میں  کہیں  بھی ایسے جانوروں  کا حرام ہونا بیان نہیں  کیا گیا لہٰذا کسی شرعی دلیل کے بغیر انہیں  حرام کہنا اور اس پر شرک کے فتوے لگانا ہر گز درست نہیں  ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۸۷)وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ‘‘(مائدہ:۸۷  ،  ۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو!ان پاکیزہ چیزوں  کو حرام نہ قرار دوجنہیں   اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک  اللہ حد سے بڑھنے والوں  کو ناپسند فرماتا ہے۔اور جو کچھ تمہیں   اللہ نے حلال پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں  سے کھاؤ اوراس  اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔

            اور حضرت سلمان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’حلال وہ ہے جسے  اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں  حلال فرمایا اور حرام وہ ہے جسے  اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں  حرام فرمایا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی تو وہ معاف شدہ چیزوں  میں  سے ہے۔( ترمذی ،  کتاب اللباس ،  باب ما جاء فی لبس الفراء ،  ۳ / ۲۸۰ ،  الحدیث: ۱۷۳۲)

{فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ:پس تم بتوں  کی گندگی سے دور رہو۔} ارشاد فرمایا کہ پس تم بتوں  کی گندگی سے دور رہوجن کی پوجا کرنا بدترین گندگی سے آلودہ ہونا ہے اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ یہاں  جھوٹی بات سے کیا مراد ہے ،  اس کے بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد اپنی طرف سے چیزوں  کوحلال اور حرام کہنا ہے۔ دوسراقول یہ ہے کہ اس سے مراد جھوٹی گواہی دینا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد جھوٹ اور بہتان ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد دورِ جاہلیّت میں  تَلْبِیَہ میں  ایسے الفاظ ذکر کرنا جن میں  اللہ تعالیٰ کے لئے شریک کا ذکر ہو۔( تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۸ / ۲۲۳)

 جھوٹی گواہی دینے اورجھوٹ بولنے کی مذمت پر4اَحادیث:

            آیت کی مناسبت سے یہاں  جھوٹی گواہی دینے اورجھوٹ بولنے کی مذمت پر مشتمل4اَحادیث ملاحظہ ہوں :

(1)…حضرت خریم بن فاتک اسدی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ،  رسولُ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صبح کینماز پڑھ کر کھڑے ہوئے اور تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا ’’جھوٹی گواہی ہی شرک کے ساتھ برابر کر دی گئی۔ پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی:

’’فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰) حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پس تم بتوں  کی گندگی سے دور رہو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ایک  اللہ کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر (اور)اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے ۔( ابو داؤد ،  کتاب الاقضیۃ ،  باب فی شہادۃ الزور ،  ۳ / ۴۲۷ ،  الحدیث: ۳۵۹۹)

(2)… حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَاسے روایت ہے ،  رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں  گے کہ  اللہ تعالیٰ اُس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔( ابن ماجہ ،  کتاب الاحکام ،  باب شہادۃ الزور ،  ۳ / ۱۲۳ ،  الحدیث: ۲۳۷۲)

(3)…حضرت معاویہ بن حیدہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اس کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں  کو ہنسانے کے لئے جھوٹی بات کرتا ہے ،  اس کے لیے ہلاکت ہے ،  اس کے لیے ہلاکت ہے۔( ترمذی ،  کتاب الزہد ،  باب ما جاء من تکلّم بالکلمۃ لیضحک الناس ،  ۴ / ۱۴۱ ،  الحدیث: ۲۳۲۲)

(4)… حضرت ابوبکر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہ  فرماتے ہیں  ’’اے لوگو! جھوٹ سے بچو ،  کیونکہ جھوٹ ایمان کے مخالف  ہے۔( مسند امام احمد ،  مسند ابی بکر الصدیق رضی  اللہ  تعالی عنہ ،  ۱ / ۲۲ ،  الحدیث: ۱۶)

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖؕ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ(۳۱)

 



Total Pages: 235

Go To