Book Name:Sirat ul jinan jild 6

(2)…قربانی کے جانور میں  جو شرطیں  ہیں  وہ ہدی کے جانور میں  بھی ہیں  مثلاً اونٹ پانچ سال کا ،  گائے دوسال کی ،  بکری ایک سال کی مگر بھیڑ اور دُنبہ چھ مہینے کا اگر سا ل بھر والی بکری کی مثل ہو تواس کی قربانی ہو سکتی ہے اور اونٹ گائے میں  یہاں  بھی سات آدمیوں  کی شرکت ہوسکتی ہے۔

(3)…ہَدی یعنی قربانی کے لیے حرم میں  لے جایا جانے والا جانور اگر حجِ قِران یا تَمَتُّع کی قربانی کا ہو تو قربانی کرنے کے بعد اس کے گوشت میں  سے کچھ کھا لینا بہتر ہے ،  اسی طرح اگر قربانی نفلی ہو اور جانور حرم میں  پہنچ گیا ہو تو اس کا گوشت بھی کھا سکتا ہے البتہ اگر جانور حرم میں  نہ پہنچا تو اس کا گوشت خود نہیں  کھا سکتا بلکہ اب وہ فُقرا کا حق ہے۔ اگر وہ جانور حج قران  ،  تمتع اور نفلی قربانی کے علاوہ کسی اور جیسے کَفّارے کی قربانی کے لئے ہو تو ا س کا گوشت خود نہیں  کھا سکتا اور جس قربانی کا گوشت قربانی کرنے والا خود کھا سکتا ہے وہ مالداروں  کو بھی کھلا سکتا ہے اور جس کا گوشت خود نہیں  کھا سکتا وہ نہ مالداروں  کو کھلا سکتا اور نہ ہی ا س کی کھال وغیرہ سے نفع لے سکتا ہے۔

(4)…ہَدی کا گوشت حرم کے مسکینوں  کو دینا بہتر ہے ،  اس کی نکیل اور جھول کو خیرات کردیں  اور قصاب کو اس کے گوشت میں  سے کچھ نہ دیں ۔ ہاں  اگر اُسے صدقہ کے طور پر کچھ گوشت دیں  تو ا س میں  حرج نہیں ۔( بہار شریعت ،  حصہ ششم ،  ہدی کا بیان ،  ۱ /  ۱۲۱۳-۱۲۱۴ ، ملخصاً)

            نوٹ: ہدی سے متعلق مزید شرعی مسائل کی معلومات حاصل کرنے کے لئے بہار شریعت جلد 1 حصہ 6 سے ’’ہدی کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ(۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اپنا میل کچیل اُتاریں  اور اپنی منتیں  پوری کریں  اور اس آزاد گھر کا طواف کریں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر انہیں  چاہیے کہ اپنا میل کچیل اتاریں  اور اپنی منتیں  پوری کریں  اور اس آزاد گھر کا طواف کریں ۔

{ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ:پھر انہیں  چاہیے کہ اپنا میل کچیل اتاریں ۔} ارشاد فرمایا کہ پھر انہیں  چاہیے کہ اپنا میل کچیل اتاریں  ،  مونچھیں  کتروائیں   ،  ناخن تراشیں   ،  بغلوں  اور زیرِ ناف کے بال دور کریں  اور جو منتیں  انہوں  نے مانی ہوں  وہ پوری کریں  اور اس آزاد گھر کا طواف کریں ۔ اس سے طوافِ زیارت مراد ہے۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ص۷۳۷)

خانہ کعبہ کی شان :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کو بڑی عظمت و شان عطا فرمائی ہے کہ کوئی ظالم و جابر شخص اس گھر پر قبضہ نہیں  کر سکتا ،  کوئی اس کا مالک ہونے کا دعویٰ نہیں  کرسکتا  ، یہ لوگوں  کے قبضے اور ملکیت سے آزاد ہے اور جس نے بھی ا س پر قبضہ کرنے کی کوشش کی  اللہ تعالیٰ نے اسے تباہ و برباد کر دیا جیساکہ ابرہہ اور ا س کے لشکر نے جب خانہ کعبہ پر قبضہ کرنے کی نیت سے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا تو اس کا جو حشر ہوااِس سے شاید ہی کوئی مسلمان ناواقف ہو۔

ذٰلِكَۗ-وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ-وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بات یہ ہے اور جو  اللہ کی حرمتوں  کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں  بھلا ہے اور تمہارے لیے حلال کیے گئے بے زبان چوپائے سوا اُن کے جن کی ممانعت تم پر پڑھی جاتی ہے تو دور ہو بتوں  کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: حکمِ الہٰی یہ ہے اور جو  اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کیلئے اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے اور تمہارے لیے بے زبان چوپائے حلال کئے گئے سوائے ان کے جن کا (حرام ہونا) تمہارے سامنے بیان کیا جاتا ہے۔ پس تم بتوں  کی گندگی سے دور رہو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔

{ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ: اور جو  اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں  کی تعظیم کرنے پر ابھارتے ہوئے فرمایا گیا کہ جو شخص ان چیزوں  کی تعظیم کرے جنہیں   اللہ تعالیٰ نے عزت و حرمت عطا کی ہے تو یہ تعظیم اُس کے لئے بہتر ہے کہ اِس پر  اللہ تعالیٰ اُسے آخرت میں  ثواب عطا فرمائے گا۔( البحر المحیط ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۶ / ۳۳۹ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۶ / ۲۹ ،  ملتقطاً)

              اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں  کے بارے میں  مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد  اللہ تعالیٰ کے اَحکام ہیں  خواہ وہ حج کے مَناسِک ہوں  یا ان کے علاوہ اور احکام ہوں  اوران کی تعظیم سے مراد یہ ہے کہ جو کام کرنے کا  اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وہ کئے جائیں  اورجن کاموں  سے منع کیا انہیں  نہ کیا جائے ۔ دوسراقول یہ ہے کہ یہاں  حرمت والی چیزوں  سے حج کے مناسک مراد ہیں  اور ان کی تعظیم یہ ہے کہ حج کے مناسک پورے کئے جائیں  اور انہیں  ان کے تمام حقوق کے ساتھ ادا کیا جائے ۔تیسرا قول یہ ہے کہ ان سے وہ مقامات مراد ہیں  جہاں  حج کے مناسک ادا کئے جاتے ہیں  جیسے بیت ِحرام  ،  مَشْعَرِ حرام ،  بلد ِحرام اور مسجد ِحرام وغیرہ اور ان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ ان کے حقوق اور ان کی عزت و حرمت کی حفاظت کی جائے۔(مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ص۷۳۸ ،  خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۳ / ۳۰۷ ،  ملتقطاً)

مکہ مکرمہ کی بے حرمتی کرنے والے کا انجام:

            حضرت عیاش بن ابو ربیعہ مخزومی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میری امت کے لوگ (تب تک) ہمیشہ بھلائی پر ہوں  گے جب تک وہ مکہ کی تعظیم کاحق ادا کرتے رہیں  گے اور جب وہ اس حق کوضائع کردیں  گے توہلاک ہوجائیں  گے۔( سنن ابن ماجہ ،  کتاب المناسک ،  باب فضل مکّۃ ،  ۳ / ۵۱۹ ،  الحدیث: ۳۱۱۰)

            مفتی احمد یار خان نعیمیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  اس حدیث پاک کی شرح میں  فرماتے ہیں  ’’تجربہ سے بھی ثابت ہے کہ جس بادشاہ نے کعبہ معظمہ یا حرم شریف کی بے حرمتی کی  ،  ہلاک و برباد ہوگیا ،  یزید پلید کے زمانہ میں  جب حرم شریف کی بے حرمتی ہوئی (تو) یزید ہلاک ہوا (اور) اس کی سلطنت ختم ہوگئی۔(مراۃ المناجیح ،  باب حرم مکہ حرسہا  اللہ تعالیٰ ،  تیسری فصل ،  ۴ / ۲۴۲-۲۴۳ ،  تحت الحدیث: ۲۶۰۵)

 



Total Pages: 235

Go To