Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اللہ عنہ ،  ۴ / ۵۸ ،  الحدیث: ۱۱۲۳۳)

             اور دوسری روایت میں  ہے کہ اگر وہ گرز پہاڑ پر مارا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائے۔ (گرز لگنے کے بعد) پھربندے کو پہلی حالت میں  لوٹا دیا جائے گا۔( مسند امام احمد ،  مسند ابی سعید الخدری رضی  اللہ عنہ ،  ۴ / ۱۶۶ ،  الحدیث: ۱۱۷۸۶)

            حضرت حسن بصری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرمایا کرتے تھے: جہنم کا ذکر کثرت سے کیا کرو کیونکہ اس کی گرمی بہت شدید ہے ،  اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور اس کے گرز لوہے کے ہیں ۔ (یعنی اس یاد سے خوفِ خدا پیدا ہوگا۔)( مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب ذکر النار ،  ما ذکر فیما اعدّ لاہل النار وشدّتہ ،  ۸ / ۹۷ ،  الحدیث: ۴۰)

             اللہ تعالیٰ ہمیں  جہنم کے اس خوفناک عذاب سے پناہ عطا فرمائے ،  اٰمین۔

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَاۗ-وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: جب گھٹن کے سبب اس میں  سے نکلنا چاہیں  گے پھر اس میں  لوٹا دیئے جائیں  گے اور حکم ہوگا کہ چکھو آگ کا عذاب۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب گھٹن کے سبب اس میں  سے نکلنا چاہیں  گے توپھر اسی میں  لوٹا دیے جائیں  گے اور انہیں  کہا جائے گا کہ آگ کا عذاب چکھو۔

{كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ:جب گھٹن کے سبب اس میں  سے نکلنا چاہیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ جب وہ کفار گھٹن کے سبب جہنم میں  سے نکلنا چاہیں  گے تو گرزوں  سے مار کرپھر اسی میں  لوٹا دیے جائیں  گے اور انہیں  کہا جائے گا کہ آگ کا عذاب چکھو جس کا جلانا انتہائی شدید ہے۔( جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ص۲۸۰)

جہنم کو پیدا فرمانے میں  حکمت:

            جہنم  اللہ تعالیٰ کے جلال کا مظہر ہے اور  اللہ تعالیٰ نے جہنم کو ا س لئے پیدا فرمایا ہے تاکہ مخلوق کو  اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کی کبریائی کا اندازہ ہو جائے اور لوگ اس سے ڈرتے رہیں  اور ا س کے خوف کی وجہ سے گناہوں  سے باز رہیں۔(روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۶ / ۱۹) افسوس! آج لوگوں  کے دل کی سختی کا یہ حال ہے کہ قرآنِ مجید میں  جہنم کے انتہائی دردناک عذابات کے بارے میں  پڑھنے کے باوجود ان سے ڈرتے نہیں  اور بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ گناہوں  میں  مصروف ہیں ۔  اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے ، اٰمین۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًاؕ-وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ(۲۳)وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِۚۖ-وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک  اللہ داخل کرے گا انہیں  جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے بہشتوں  میں  جن کے نیچے نہریں  بہیں  اس میں  پہنائے جائیں  گے سونے کے کنگن اور موتی اور وہاں  ان کی پوشاک ریشم ہے۔  اور انہیں  پاکیزہ بات کی ہدایت کی گئی اور سب خوبیوں  سراہے کی راہ بتائی گئی ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک  اللہ ایمان والوں  کو اور نیک اعمال کرنے والوں  کو ان باغوں  میں  داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں  جاری ہیں ۔ انہیں  ان باغوں  میں  سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں  گے اور جنتوں  میں  ان کا لباس ریشم ہوگا۔ اور انہیں  پاکیزہ بات کی ہدایت دی گئی اور انہیں  تمام تعریفوں  کے لائق (اللّٰہ) کا راستہ دکھایا گیا۔

{اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:بیشک  اللہ ایمان والوں  کو داخل فرمائے گا ۔}اس سے پہلی آیات میں  کفار کا عبرتناک انجام بیان کیا گیا اور اب یہاں  سے قیامت کے دن ایمان والوں  اور نیک اعمال کرنے والوں  پر ہونے والے انعامات بیان کئے جا رہے ہیں   ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک  اللہ تعالیٰ ایمان والوں  کو اور نیک اعمال کرنے والوں  کو ان باغوں  میں

داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں  جاری ہیں ۔ انہیں  ان باغوں  میں  سونے کے کنگن اور ایسے موتی پہنائے جائیں  گے جن کی چمک مشرق سے مغرب تک روشن کر ڈالے گی اور جنتوں  میں  ان کا لباس ریشم ہوگا جسے پہننا دنیا میں  مَردوں  پر حرام ہے۔(خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۳ / ۳۰۴ ،  ملتقطاً)

آیت میں  بیان کی گئی جنتی نعمتوں  سے متعلق3 اَحادیث:

            اس آیت میں  جنت کی جن نعمتوں  کے بارے میں  بیان ہوا ان سے متعلق 3 اَحادیث ملاحظہ ہوں  ،

(1)…حضرت حکیم بن معاویہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جنت میں  پانی کا دریا ، شہد کا دریا ، دودھ کا دریا اور شراب کا دریا ہے  ، پھر ان سے نہریں  نکلتی ہیں  ۔( ترمذی ،  کتاب صفۃ الجنّۃ ،  باب ما جاء فی صفۃ انہار الجنّۃ ،  ۴ / ۲۵۷ ،  الحدیث: ۲۵۸۰)

(2)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مومن کے اَعضا میں  وہاں  تک زیور پہنایاجائے گاجہاں  تک اس کے وضوکوپانی پہنچے گا۔( مسلم ،  کتاب الطہارۃ ،  باب تبلغ الحلیۃ حیث یبلغ الوضو ء ،  ص۱۵۱ ،  الحدیث: ۴۰(۲۵۰))

(3)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ  سے روایت ہے ،  رسولِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جنتیوں  کے سر پر تاج ہوں  گے اور ان تاجوں  کا ادنیٰ موتی مشرق سے مغرب تک کو روشن کر دے گا۔( ترمذی ،  کتاب صفۃ الجنّۃ ،  باب ما جاء لادنی اہل الجنّۃ من الکرامۃ ،  ۴ / ۲۵۳ ،  الحدیث: ۲۵۷۱)

مَردوں  کے لئے ریشم پہننے کی وعیدیں :

            اَحادیث میں  ریشم پہننے والے مردکے لئے سخت وعیدیں  بیان ہوئی ہیں  ، ان میں  سے چند درج ذیل ہیں  ،

(1)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں  ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے دائیں  ہاتھ میں  ریشم اور بائیں  ہاتھ میں  سونا لے کر ارشاد فرمایا ’’بے شک یہ دونوں  میری امت کے مَردوں  پر حرام ہیں ۔( ابو داؤد ،  کتاب اللباس ،  باب فی الحریر للنساء ،  ۴ / ۷۱ ،  الحدیث: ۴۰۵۷)

(2)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے دنیا میں  ریشم پہنا وہ آخرت میں  ریشم نہیں  پہنے گا۔( بخاری ،  



Total Pages: 235

Go To