Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ہمیشہ رہنے والی عالی شان نعمتیں  عطا فرمائے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِؕ-وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُؕ-وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا تم نے نہ دیکھا کہ  اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہیں  وہ جو آسمانوں  اور زمین میں  ہیں  اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت آدمی اور بہت وہ ہیں  جن پر عذاب مقرر ہوچکا اور جسے  اللہ ذلیل کرے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں  بیشک  اللہ جو چاہے کرے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تم نے نہیں  دیکھا کہ جو آسمانوں  میں  ہیں  اورجو زمین میں  ہیں  اور سورج اور چاند اورستارے اور تمام پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے آدمی یہ سب  اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے لوگ وہ (بھی)ہیں  جن پر عذاب مقرر ہوچکا ہے اور جسے  اللہ ذلیل کرے تواسے کوئی عزت دینے والا نہیں  ،  بیشک  اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

{اَلَمْ تَرَ:کیا تم نے نہیں  دیکھا ۔} ارشاد فرمایا ’’اے حبیب ِاکرم! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  کیا آپ نے نہیں  دیکھا کہ جو آسمانوں  میں  ہیں  اور جو زمین میں  ہیں  اور سورج  ،  چاند  ، ستارے  ، تمام پہاڑ  ،  درخت اور چوپائے یہ سب جیسا  اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ویسا اسے سجدہ کرتے ہیں  اور بہت سے آدمی یعنی مسلمان طاعت و عبادت کا سجدہ بھی کرتے ہیں اور بہت سے وہ لوگ ہیں  جن پر ان کے کفر کی وجہ سے عذاب مقرر ہوچکا ہے لیکن ان کے بھی سائے  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔ اور جسے  اللہ تعالیٰ اس کی شقاوت کے سبب ذلیل کرے تواسے کوئی عزت دینے والا نہیں  ،  بیشک  اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔(مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ص۷۳۴ ،  خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۳ / ۳۰۲-۳۰۳ ،  ملتقطاً)

            نوٹ: یہ آیت ِ سجدہ ہے ،  اسے پڑھنے اور سننے والے پر سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہے۔

 عزت ونامْوَری کسی کی میراث نہیں  :

            اس سے معلوم ہو اکہ کسی قوم یاکسی فرد کویہ حق حاصل نہیں  کہ وہ عزت ونامْوَری کواپنی میراث سمجھ لے اوراسی فریب میں  مبتلا رہے کہ چاہے ہم جوکچھ کرتے رہیں  کتنے ہی اَعمالِ سیاہ سے اپنااعمال نامہ بھردیں  اور کردار اور سیرت کتنی ہی داغدار نہ کرلیں  ساری زندگی عزت کے ساتھ ہی رہیں  گے ،  ایسانہیں  ہے بلکہ جواپنے آپ کواس نعمت عظمیٰ کا اہل ثابت کردیتا ہے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اسے عزت دیتا ہے اور جو مسلسل نافرنیوں  میں  مبتلا رہتا ہے وہ ذلت کے عمیق گڑھے میں  گرا دیا جاتا ہے ۔

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ٘-فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍؕ-یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ(۱۹) یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ دو فریق ہیں  کہ اپنے رب میں  جھگڑے تو جو کافر ہوئے ان کے لئے آگ کے کپڑے بیونتے گئے ہیں  اور ان کے سروں  پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ جس سے گل جائے گا جو کچھ ان کے پیٹوں  میں  ہے اور ان کی کھالیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ دو فریق ہیں  جو اپنے رب کے بارے میں  جھگڑتے ہیں  تو کافروں  کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے گئے ہیں  اور ان کے سروں  پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا۔ جس سے جو کچھ ان کے پیٹوں  میں  ہے وہ سب اور ان کی کھالیں  جل جائیں  گی۔

{هٰذٰنِ خَصْمٰنِ:یہ دو فریق ہیں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مومنین اور پانچوں  قسم کے کفار جن کا اوپر ذکر کیا گیا  ، یہ دو فریق ہیں  جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے دین اور ا س کی ذات و صفات کے بارے میں  جھگڑتے ہیں  تو وہ لوگ جو کافر ہیں  انہیں  ہر طرف سے آگ گھیر لے گی اور ان کے سروں  پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا جس سے جو کچھ ان کے پیٹوں  میں  چربی وغیرہ ہے وہ سب اور ان کی کھالیں  جل جائیں  گی۔( جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۹-۲۰ ،  ص۲۸۱)

جہنم میں  کفار پر ڈالے جانے والے پانی کی کَیْفِیَّت:

            جہنم میں  کفار پر ڈالے جانے والے پانی کی کچھ کیفیت ان آیات میں  بیان ہوئی اور حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’انتہائی گرم پانی ان جہنمیوں  کے سر پر ڈالا جائے گا تو وہ سَرایت کرتے کرتے ان کے پیٹ تک پہنچ جائے گا اور جو کچھ پیٹ میں  ہو گا اسے کاٹ کر قدموں  سے نکل جائے گا اور یہ صَہر (یعنی گل جانا) ہے  ، پھر انہیں  ویسا ہی کر دیا جائے گا (اور بار بار ان کے ساتھ ایساہی کیا جائے گا۔)( سنن ترمذی ،  کتاب صفۃ جہنّم ،  باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النار ،  ۴ / ۲۶۲ ،  الحدیث: ۲۵۹۱)

            اور حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا ’’کافروں  پر ڈالا جانے والا پانی ایسا تیز گرم ہو گا کہ اگر اس کا ایک قطرہ دنیا کے پہاڑوں  پر ڈال دیا جائے تو ان کو گلا ڈالے۔(مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ص۷۳۵)

             اللہ تعالیٰ ہمارا ایمان سلامت رکھے اور ہمیں  جہنم کے ا س عذاب سے پناہ عطا فرمائے ، اٰمین۔

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہیں  ۔

{وَ لَهُمْ:اور ان کے لیے۔} ارشاد فرمایا کہ جہنم میں  کافروں  کو عذاب دینے کے لئے لوہے کے گرز ہیں  جن سے انہیں  مارا جائے گا۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۶ / ۱۸)

جہنم کے گُرز:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ جہنم میں  جن گرزوں  سے مار اجائے گا وہ لوہے کے ہیں  ،  ان کے بارے میں  حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے  ،  سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اگر وہ لوہے کا گرز زمین پررکھا جائے پھر جنّ واِنس سب جمع ہوجائیں  تواسے زمین سے نہ اٹھاسکیں  گے۔(مسند امام احمد ،  مسند ابی سعید الخدری رضی 



Total Pages: 235

Go To