Book Name:Sirat ul jinan jild 6

چاہتاہے ۔

ہدایت حاصل ہونے کا ایک عظیم ذریعہ:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ قرآنِ عظیم ہدایت ملنے ،  ہدایت پر ثابت قدمی عطا ہونے اور ہدایت میں  اضافے کا ایک عظیم ترین ذریعہ ہے اور قرآنِ مجید سیکھنے میں  مشغول ہونا اور اس کے دئیے ہوئے احکامات پر عمل کرنا ہدایت کی علامات میں  سے ایک علامت ہے  ،  لہٰذا جسے  اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید پر ایمان لانے کی توفیق دی ہے اسے چاہئے کہ وہ قرآنِ کریم صحیح طریقے سے پڑھنا سیکھے  ،  اسے سمجھنے کی کوشش کرے  ،  اس میں  دئیے گئے تمام اَحکامات پر عمل کرے اور جن کاموں  سے منع کیا گیا ان سے باز رہے تاکہ اسے ہدایت پر ثابت قدمی نصیب ہو اور اس کی ہدایت میں  مزید اضافہ بھی ہو۔

            صحیح مسلم شریف میں  حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ، تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ اس قرآن کے ذریعے کچھ قوموں  کو سر بلند کرے گا اور کچھ کو گرادے گا۔(مسلم ، کتاب صلاۃالمسافرین وقصرہا ، باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ۔۔۔الخ ، ص۴۰۷ ، الحدیث:۲۶۹(۸۱۷))

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’وہ لوگ جو قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں  نے اس کے تقاضوں  کے مطابق عمل کیا انہیں   اللہ تعالیٰ سر بلند کرے گا اور جنہوں  نے قرآنِ عظیم پر ایمان لانے سے اِعراض کیا اور اس کے احکامات پر عمل نہ کیا انہیں   اللہ تعالیٰ گرا دے گا۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۶ / ۱۴)

            قرآن مجید کے سلسلے میں  صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کا حال یہ تھا کہ وہ قرآنِ کریم کی دس آیتیں  سیکھتے اور اس وقت تک دوسری آیات سیکھنے کی طرف متوجہ نہ ہوتے جب تک ان دس آیتوں  کے تمام تقاضوں  پر عمل نہ کر لیتے  ،  یونہی وہ انتہائی تنگدستی کے باوجود قرآنِ عظیم سننے سنانے اور اس کی آیات میں  غوروفکر کرنے میں  مصروف رہا کرتے تھے ۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’میں  غریب مہاجرین کی ایک جماعت میں  جا بیٹھا جو نیم برہنہ ہونے کے باعث ایک دوسرے سے بمشکل اپنا ستر چھپاتے تھے ۔ ہم میں  ایک قاری صاحب قرآنِ مجید پڑھ رہے تھے کہ حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے آئے  ،  جب رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمارے پاس کھڑےہوئے تو قاری صاحب خاموش ہو گئے ۔ آپ نے سلام کیا اور ارشاد فرمایا ’’تم کیا کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کی : یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  یہ ہمیں  قرآن سنا رہے ہیں  اور ہم غور سے  اللہ تعالیٰ کی کتاب کو سن رہے ہیں  ۔ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تمام تعریفیں   اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں  جس نے میری امت میں  ایسے لوگ بھی شامل فرمائے جن کے ساتھ ٹھہرے رہنے کا مجھے بھی حکم دیاگیا ہے۔( ابوداؤد ،  کتاب العلم ،  باب فی القصص ،  ۳ / ۴۵۲ ،  الحدیث: ۳۶۶۶)  اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں  کو قرآن مجید کے احکامات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے  ، آمین۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِـٕیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا ﳓ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک مسلمان اور یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی اور آتش پرست اور مشرک بیشک  اللہ ان سب میں  قیامت کے دن فیصلہ کرے گا بیشک ہر چیز  اللہ کے سامنے ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک مسلمان اور یہودی اور ستاروں  کی پوجا کرنے والے اور عیسائی اور آگ کی پوجا کرنے والے اور مشرک بیشک  اللہ ان سب میں  قیامت کے دن فیصلہ کردے گا بیشک  اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:بیشک مسلمان۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک وہ لوگ جومسلمان ہیں  اور جو یہودی ہیں  اور جو ستاروں  کی پوجا کرنے والے ہیں  او رجو عیسائی ہیں  اور جو آگ کی پوجا کرنے والے ہیں  اور جو مشرک ہیں  ،  بیشک  اللہ تعالیٰ ان سب میں  قیامت کے دن فیصلہ کردے گا اور ان میں  جو جنت کا مستحق ہو گا اسے جنت میں  اور جوجہنم کا حق دار ہو گا اسے جہنم میں  داخل کر دے گا۔ بیشک ہر چیز  اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے لہٰذا س فیصلے میں  کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہ ہوگا۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۶ / ۱۵ ،  خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۳ / ۳۰۲ ،  ملتقطاً)

آیت’’اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں

(1)…آج اگرچہ ہرشخص اپنے آپ کوحق اور ہدایت کاپیروکار کہتا ہے مگراس کاعملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا جب اہلِ حق کوعزت واحترام کے ساتھ جنت میں  بھیجا جائے گا اور اہلِ باطل کوذلت وخواری کے ساتھ اوندھے منہ دوزخ میں  ڈال دیا جائے گا۔ لیکن یہاں  یاد رہے کہ دین ِاسلام ہی حق ہے اور اسے ماننے والا حق پر ہے اور تمام انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دین ،  اسلام ہی تھا لیکن اب دین ِاسلام سے وہ دین مراد ہے جو حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لے کر آئے ہیں  ،  لہٰذا اب آپ کے دین کے علاوہ اور کوئی دین  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  معتبر نہیں  ،  چنانچہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ‘‘ (اٰل عمران:۱۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک  اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُۚ-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ‘‘(اٰل عمران:۸۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اوردینچاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں   نقصان اٹھانے والوں  میں  سے ہوگا۔

(2)…اس آیت میں  ہر ایک کے لئے بہت وعید ہے  ،  لہٰذا ہر عقل مند انسان کو چاہئے کہ وہ فیصلے اور قضا کے دن کو یاد رکھے اور وہ اعمال کرنے کی بھر پور کوشش کرے جن سے  اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل ہوتی ہے تاکہ قیامت کے دن  اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے اور اپنے فضل و رحمت سے ا س کے حق میں  اچھا فیصلہ فرمائے اور اسے جہنم کے دردناک عذاب سے بچا کر جنت کی



Total Pages: 235

Go To