Book Name:Sirat ul jinan jild 6

’’ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا‘‘(بنی اسرائیل:۹۳)

تم فرماؤ:میرا رب پاک ہے میں  تو صرف  اللہ کا بھیجا ہوا ایک آدمی ہوں ۔( فتاوی رضویہ ،  ۱۴ / ۳۵۸)

            تیسری بات یہ کہ قرآنِ کریم میں  جا بجا کفار کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ وہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اپنے جیسا بشرکہتے تھے اور اسی سے وہ گمراہی میں  مبتلا ہوئے لہٰذا جس مسلمان کے دل میں  سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے محبت کی ادنیٰ رمق بھی باقی ہے ا س پر لازم ہے کہ وہ کفار کا طریقہ اختیار کرنے سے بچے اور حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اپنے جیسا بشر سمجھ کر گمراہوں  کی صف میں  داخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔

{اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ:تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔} یعنی مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں  تو جو اپنے ربعَزَّوَجَلَّ سے ملاقات کی امید رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں  کسی کو شریک نہ کرے۔ شرکِ اکبر سے بھی بچے اور ریاء سے بھی جس کو شرکِ اصغر کہتے ہیں ۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۱۰ ،  ۳ / ۲۲۸ ،  مدارک ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۱۰ ،  ص۶۶۵-۶۶۶ ،  ملتقطاً)

ریاکاری کی مذمت پر 4 اَحادیث:

            موضوع کی مناسبت سے یہاں  ریاکاری کی مذمت پر 4 اَحادیث بھی ملاحظہ ہوں :

(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا’’ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’میں  شریک سے بے نیاز ہوں  ،  جس نے کسی عمل میں  میرے ساتھ کسی غیر کو شریک کیا میں  اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں ۔( مسلم ،  کتاب الزہد والرقائق ،  باب من اشرک فی عملہ غیر اللّٰہ ،  ص۱۵۹۴ ،  الحدیث: ۴۶(۲۹۸۵))

(2)…حضرت ابو سعید بن ابو فضالہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ جب قیامت کے دن جس میں  کوئی شک و شبہ نہیں  ،  لوگوں  کو جمع فرمائے گا تو ایک پکارنے والا پکارے گا: جس نے کسی ایسے عمل میں  جو اس نے  اللہ کے لئے کیا تھا  ، کسی کو شریک ٹھہرایا تو اسے اس کا ثواب اسی غیرِ خدا سے طلب کرنا چاہئے کیونکہ  اللہ تعالیٰ تمام شریکوں  کے شرک سے بے نیاز ہے۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ الکہف ،  ۵ / ۱۰۵ ،  الحدیث: ۳۱۶۵)

(3)…حضرت محمود بن لَبید رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے د ن جب  اللہ عَزَّوَجَلَّ بندوں  کو ان کے اعمال کابدلہ دے گا توریاکاروں  سے فرمائے گا: ان کے پاس جاؤ جنہیں  دکھانے کے لئے تم دنیا میں  عمل کیا کرتے تھے اور دیکھو! کیا تم ان کے پاس کوئی بدلہ یا بھلائی پاتے ہو؟( شعب الایمان ،  الخامس والاربعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۵ / ۳۳۳ ،  الحدیث: ۶۸۳۱)

(4)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جُبُّ الْحُزْن‘‘ سے  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگو۔ صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے عرض کی: ’’جُبُّ الْحُزْن‘‘ کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: جہنم کی ایک وادی ہے جس سے جہنم (بھی) روزانہ سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ ہم نے عرض کی: اس میں  کون لوگ داخل ہوں  گے؟ ارشاد فرمایا: ’’وہ قاری جو اپنے اعمال لوگوں  کو دکھانے کے لئے کرتے تھے(ترمذی ، کتاب الزھد  ،  باب ما جاء فی الریاء والسمعۃ ،  ۴ / ۱۷۰ ،  الحدیث: ۲۳۹۰)۔([1])

سورۂ مریم

سورۂ مریم کا تعارف

مقامِ نزول:

            سورۂ مریم مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن ،  تفسیر سورۃ مریم۔۔۔ الخ ،  ۳ / ۲۲۸)

رکوع اور آیات کی تعداد:

             اس سورت میں  6 رکوع اور98 آیتیں ہیں ۔

’’مریم ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            اس سورت میں  حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کی عظمت  ،  آپ کے واقعات اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیاہے  ، اس مناسبت سے اس سورت کانام ’’سورۂ مریم‘‘ رکھا گیا ہے۔

سورۂ مریم سے متعلق اَحادیث:

(1) …جب چند مسلمانوں  نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو کفارِ مکہ نے تحائف دے کر اپنے دو نمائندے حبشہ بھیجے تاکہ وہ ان مسلمانوں  کو وہاں  سے واپس لے آئیں  جب وہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں  پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو اس نے کہا کہ میں  پہلے ان مسلمانوں  کا مَوقف معلوم کر لوں  ،  چنانچہ مسلمانوں  کو جب ا س کے دربار میں  بلایا گیا اور حضرت جعفر بن ابو طالب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے اس کی گفتگو ہوئی تو اس نے کہا :کیا آپ کے پاس اس کلام کا کوئی حصہ ہے جو  اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا۔ حضرت جعفر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُنے فرمایا  ، ہاں  ہے ،  پھر اس کے سامنے آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُنے سورہ ٔ مریم کی تلاوت کی  ،  حضرت اُمِّ سلمہرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا فرماتی ہیں  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! نجاشی سورۂ مریم سن کر اتنا رویا کہ اس کی داڑھی بھیگ گئی اور اس کے دربار میں  موجود وہ لوگ جن کے سامنے مَصاحف کھلے ہوئے تھے اتنا روئے کہ ان کے مصاحف بھیگ گئے  ، پھر نجاشی نے کہا: بے شک یہ دین اور جو دین حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لے کر آئے یہ ایک ہی طاق سے نکلے ہیں  اور کفار کے نمائندوں  سے کہا: تم لوگ یہاں  سے چلے جاؤ  ، خدا کی قسم ! میں  کبھی بھی انہیں  تمہارے حوالے



[1] ۔۔۔۔ ریاکاری سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’ریاکاری‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ بہت مفید ہے۔



Total Pages: 235

Go To