Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ:وہ اس کو پوجتے ہیں  جس کانقصان اس کے نفع سے زیادہ ہے۔} اس آیت میں  نقصان سے مراد واقعی نقصان ہے  ،  یعنی دنیا میں  قتل اور آخر ت میں  دوزخ کا عذاب۔ اور نفع سے مراد ان کا خیالی نفع یعنی بتوں  کی شفاعت وغیرہ ہے یعنی یہ کفار بتوں  سے جس نفع کی امید رکھتے ہیں  وہ تو بہت دور ہے کہ ناممکن ہے جبکہ ان کا حقیقی نقصان عنقریب ضرور دیکھ لیں  گے۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک  اللہ داخل کرے گا انہیں  جو ایمان لائے اور بھلے کام کئے باغوں  میں  جن کے نیچے نہریں  رواں  بیشک  اللہ کرتا ہے جو چاہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک  اللہ ایمان والوں  اور نیک اعمال کرنے والوں  کو ان باغوں  میں  داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں  رواں  ہیں ۔ بیشک  اللہ جوچاہتا ہے کرتا ہے۔

{اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:بیشک  اللہ ایمان والوں  کو داخل فرمائے گا ۔}اس سے پہلی آیات میں  ایمان اور اسلام کے متعلق شکوک وشُبہات رکھنے والوں  کا اور مُرتد ہونے کے بعد جن کی وہ پوجا کرتے تھے ان کا حال بیان کیا گیا اور اب یہاں  سے ایمان پرثابت قدم رہنے والوں  کا حال اور ان کے حقیقی معبود کی شان بیان کی جا رہی ہے ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک  اللہ تعالیٰ ایمان والوں  اور نیک اعمال کرنے والوں  کو ان باغوں  میں  داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں  رواں  ہیں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ جوچاہتا ہے کرتا ہے اوراسی میں  سے یہ بھی ہے کہ وہ فرمانبرداروں  پر انعام اور نافرمانوں  پر عذاب فرماتا ہے۔( تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،   ۸ / ۲۱۰ ،  ابوسعود ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۴ / ۱۱ ،  ملتقطاً)

 ایمان جنت میں  داخلے کا سبب ہے اور نیک اعمال وہاں  کی نعمتوں  اور درجات میں  اضافے کا باعث ہیں ۔

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: جو یہ خیال کرتا ہو کہ  اللہ اپنے نبی کی مدد نہ فرمائے گا دنیا اور آخرت میں  تو اسے چاہیے کہ اوپر کو ایک رسّی تانے پھر اپنے آپ کو پھانسی دے لے پھر دیکھے کہ اس کا یہ دانؤں  کچھ لے گیا اس بات کو جس کی اسے جلن ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو یہ خیال کرتا ہے کہ  اللہ دنیا اور آخرت میں  اپنے نبی کی مدد نہیں  فرمائے گا تو اسے چاہیے کہ اوپر کی طرف ایک رسی دراز کرلے پھر اپنے آپ کو پھانسی دیدے پھر دیکھے کہ کیا اس کے داؤپیچ نے وہ چیز مٹادی جس پر اسے غصہ آتا ہے۔

{مَنْ كَانَ یَظُنُّ:جو یہ خیال کرتا ہے۔} اس آیت میں  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور آپ کے دین کی مخالفت کرنے اور ان سے دشمنی رکھنے والوں  کی ناکامی اور محرومی کو بیان کیا گیا ہے  ، چنانچہ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ دنیا میں  اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دین کو غلبہ عطا فرما کر اور آخرت میں  ان کے درجے بلند فرما کر ان کی مدد نہیں  فرمائے گا ، لیکن اس کا خیال غلط ثابت ہوتا ہے اور وہ یوں  غصے میں  آجاتا ہے تو اسے چاہیے کہ غصہ دلانے والی چیز کو ختم کرنے کیلئے ہر طرح کی کوشش کرلے حتّٰی کہ گھر میں  چھت سے رسی باند ھ کراپنے آپ کو پھانسی دے لے  ،  پھر اس بات پر غور کرے کہ کیا اس کی کوئی تدبیر  اللہ تعالیٰ کی وہ مدد روک سکتی ہے جس پر اسے غصہ آتا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں  اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور ان کے دین کا مدد گار ہے اور ان کے حاسدین اور دشمنوں  میں  سے جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں  اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے دین کی مدد نہیں  فرمائے گا ، پھر اپنامطلب پورا نہ ہونے کی وجہ سے وہ جل بھُن گیا تو اسے چاہئے کہ کسی طرح آسمان تک پہنچ کراس مدد کو مَوقوف کروا دے جو ا س کے غیظ و غضب کا باعث ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی

کر ہی نہیں  سکتا تو اس کا غضب میں  آنا اور غصہ کرنا بیکار ہے۔( تفسیرکبیر ، الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۸ / ۲۱۰-۲۱۱ ،  ابوسعود ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۴ / ۱۱ ،  البحر المحیط ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۶ / ۳۳۲ ،  ملتقطاً)

 اللہ تعالٰی مسلمانوں  کا مددگار ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ عاجزہر گز نہیں  بلکہ وہ اپنے بندوں  پر غالب ہے اور اپنے محبوب بندوں  کی مدد فرماتا ہے ۔یاد رہے کہ کفار دین ِاسلام کو صفحہ ِ ہستی سے مٹانے اور اس کے نور کو بجھانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے سچے غلاموں  کی مدد فرمائی ، کفار کو نیست و نابود کیا اور ان کے لشکروں  کو شکست و ہزیمت سے دوچار کر دیا ، اسی طرح آج بھی کفار دین ِاسلام کو ختم کرنے کے ناپاک عَزائم اور ارادے رکھتے ہیں  اور ا س کے لئے ہر طرح کے ذرائع بھی استعمال کر رہے ہیں  لیکن ان کی یہ تمام تر کوششیں  اسلام کو مٹا نہیں  سکتیں  کیونکہ  اللہ تعالیٰ دین ِاسلام اور اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے غلاموں  کا مددگار ہے البتہ مسلمانوں  کو چاہئے کہ جب وہ کفار کی طرف سے کسی مشکل میں  گرفتار ہو جائیں  اور  اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوری طور پر انہیں  مدد نہ پہنچے تو وہ  اللہ تعالیٰ کی رضاپر راضی رہیں  اور دشمنوں  کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں  پر صبر کریں  کیونکہ حق غالب رہے گا کبھی مغلوب نہ ہو گا اور  اللہ تعالیٰ نے چاہا تو عنقریب مسلمانوں  سے یہ مشکلات دور ہو جائیں  گی اور کفار و مشرکین کی راحتیں  ختم ہو کر رہ جائیں  گی۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍۙ-وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بات یہی ہے کہ ہم نے یہ قرآن اُتارا روشن آیتیں  اور یہ کہ  اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو روشن آیتوں  کی صورت میں  نازل فرمایااور یہ کہ  اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

{وَ كَذٰلِكَ:اور اسی طرح۔} یعنی  اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں  ایسے دلائل نازل فرمائے جن میں  کچھ اِبہام نہیں  اور جو شخص ان میں  غور کرے اس شخص پرحق واضح ہوجائے  ، نیزاس پر عقیدۂ توحید ،  قیامت اور سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت واضح ہو جائے ،  اور دلائل خواہ کتنے ہی واضح اورروشن کیوں  نہ ہوں  ،  ہدایت اسے ہی ملتی ہے جس کے لئے  اللہ تعالیٰ



Total Pages: 235

Go To