Book Name:Sirat ul jinan jild 6

بارے میں  نازل ہوئی جو  اللہ تعالیٰ کی صفات میں  جھگڑا کرتے تھے اور اس کی طرف ایسے اوصاف منسوب کرتے تھے جو اس کی شان کے لائق نہیں ۔ چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ کافروں  میں  کوئی آدمی وہ ہے جو  اللہ تعالیٰ کی شان و صفت کے بارے میں  یوں  جھگڑتا ہے کہ اس کے پاس نہ تو علم ہے ،  نہ کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی روشن تحریر ہے  ،  اس کے باوجود اس کا انداز یہ ہے کہ وہ اپنی بات پر اِصرار کئے ہوئے اورتکبر کی بنا پر حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے ہے تاکہ وہ لوگوں  کو  اللہ تعالیٰ کی راہ سے بھٹکا دے اور اس کے دین سے مُنحرف کر دے ، اس کے لیے دنیا میں  رسوائی ہے اور قیامت کے دن  اللہ تعالیٰ اسے آگ کا عذاب چکھائے گا اور ا س سے کہا جائے گا کہ یہ اس کفر و تکذیب کا بدلہ ہے جو تو نے دنیا میں  کیا اور  اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ بندوں  پر ظلم نہیں  کرتااور کسی کو جرم کے بغیر پکڑتا ہے اور نہ ہی کسی کے جرم کے بدلے گرفت فرماتا ہے۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۸-۱۰ ،  ۳ / ۳۰۰ ،  مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۸-۱۰ ،  ص۷۳۲ ،  ملتقطاً)

آیت’’وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ‘‘ سے معلوم ہونے والے اَحکام:

            اس آیت سے دو اَحکام معلوم ہوئے

(1)… آدمی کو کوئی بات علم اور سند و دلیل کے بغیر نہیں  کہنی چاہئے اور خاص طور پر  اللہ تعالیٰ کی شان میں  ہر گز ایسی کوئی بات نہ کرے جو اس کی عظمت و شان کے لائق نہ ہو اور علم  ، سند اور دلیل کے بغیر ہو۔

(2)…علم والے کے خلاف جو بات بے علمی سے کہی جائے گی وہ باطل ہوگی ۔

            ہمارے آج کے زمانے کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ ہر آدمی اپنی عقل سے جو چاہتا ہے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے بارے میں  کہتا ہے اور پھراس پر اِصرار کرتا ہے بلکہ دوسروں  کو مجبور کرتا ہے کہ اُس کی بات مانیں  اگرچہ اس کی بات عقل و نقل سے دور ،  قرآن و حدیث کے خلاف اور جہالت و حماقت سے بھرپور ہو۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍۚ- فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ ﰳاطْمَاَنَّ بِهٖۚ- وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ ﰳانْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ۫ۚ -خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَؕ- ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کچھ آدمی  اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں  پھر اگر انہیں  کوئی بھلائی بن گئی جب تو چین سے ہیں  اور جب کوئی جانچ آ پڑی منہ کے بل پلٹ گئے دنیا اور آخرت دونوں  کا گھاٹا یہی ہے صریح نقصان۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کوئی آدمی وہ ہے جو  اللہ کی عبادت ایک کنارے پرہو کر کرتاہے پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچے تو وہ اس پرمطمئن ہوجاتاہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آجائے تو منہ کے بل پلٹ جاتا ہے۔ ایسا آدمی دنیا اور آخرت دونوں  میں  نقصان اٹھاتا ہے۔یہی کھلا نقصان ہے۔

{وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ:اور کوئی آدمی وہ ہے جو  اللہ کی عبادت ایک کنارے پرہو کر کرتا ہے۔} شانِ نزول:یہ آ یت دیہات میں  رہنے والے عربوں  کی ایک جماعت کے بارے میں  نازل ہوئی جو اَطراف سے آ کر مدینہ میں  داخل ہوتے اور اسلام لاتے تھے  ،  ان کی حالت یہ تھی کہ اگر وہ خوب تندرست رہے اور ان کی دولت بڑھی اور ان کے ہاں  بیٹا ہوا تب تو کہتے تھے کہ اسلام اچھا دین ہے ،  اس میں  آ کر ہمیں  فائدہ ہوا اور اگر کوئی بات اپنی امید کے خلاف پیش آئی ،  مثلاً بیمار ہو گئے  ، یا ان کے ہاں  لڑکی پیداہو گئی ،  یا مال کی کمی ہوئی تو کہتے تھے :جب سے ہم اس دین میں  داخل ہوئے ہیں  ہمیں  نقصان ہی ہوا اور اس کے بعد دین سے پھر جاتے تھے ۔ ان کے بارے میں  بتایا گیا کہ انہیں  ابھی دین میں  ثابت قدمی حاصل ہی نہیں  ہوئی اور یہ دین کے معاملے میں  اس طرح شک و تَرَدُّد میں  رہتے ہیں  جس طرح پہاڑ کے کنارے کھڑا ہوا شخص حرکت کی حالت میں  ہوتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ اگر انہیں  کوئی بھلائی پہنچے تو مطمئن ہوجاتے ہیں  اور اگر انہیں  کوئی آزمائش آجائے اور کسی قسم کی سختی پیش آئے تو مُرتد ہو کر منہ کے بل پلٹ جاتے اور کفر کی طرف لوٹ جاتے ہیں ۔ ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں  میں  نقصان اٹھاتے ہیں ۔ دنیا کا نقصان تو یہ ہے کہ جو ان کی امیدیں  تھیں  وہ پوری نہ ہوئیں  اور مرتد ہو جانے کی وجہ سے ان کا خون مباح ہوا اور آخرت کا نقصان ہمیشہ کا عذاب ہے اوریہی کھلا نقصان ہے۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،   ۳ / ۳۰۰-۳۰۱ ،  مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ص۷۳۳ ،  ملتقطاً)

دین ِاسلام دُنْیَوی منفعت کی وجہ سے نہیں  بلکہ حق سمجھ کر قبول کیا جائے:

            اس سے معلوم ہواکہ انسان دین ِاسلام کوحق سمجھ کرقبول کرے اور پھر اس پرڈٹ جائے چاہے نفع ہو یا نقصان ،  ہرحال میں  خوش رہے اور  اللہ عَزَّوَجَلَّ کاشکرا دا کرتا رہے کہ اس نے اسے اسلام جیسی عظیم لازوال دولت سے نوازا۔ اسی طرح نماز و عبادت وغیرہ کو دُنْیَوی نفع ونقصان کے ساتھ نہ تولا جائے بلکہ عبادت کی حیثیت ہی سے کیا جائے۔

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗؕ-ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ(۱۲) یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖؕ-لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ(۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان:  اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہیں  جو ان کا بُرا بھلا کچھ نہ کرے یہی ہے دور کی گمراہی۔ ایسے کو پوجتے ہیں  جس کے نفع سے نقصان کی توقع زیادہ ہے بیشک کیا ہی بُرا مولیٰ اور بیشک کیا ہی بُرا رفیق۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ  اللہ کے سوا اس (بت) کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے اور نہ اسے نفع دے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ وہ اسے پوجتے ہیں  جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ ہے بیشک وہ کیا ہی برا مولیٰ ہے اور بیشک کیا ہی برا ساتھی ہے۔

{یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ: وہ  اللہ کے سوا اس (بت) کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے۔}

ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ مُرتد ہونے کے بعد بت پرستی کرتے ہیں  اور  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے اس کی عبادت کرتے ہیں  جو نہ انہیں  نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے کیونکہ وہ بے جان ہے  ، ایسے خداؤں  کی پوجاانتہا درجے کی گمراہی ہے۔(مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ص۷۳۳ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۶ / ۱۲ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 235

Go To