Book Name:Sirat ul jinan jild 6

’’حج ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

             اس سورۂ مبارکہ میں  حج کے اعلانِ عام اورحج کے اَحکام کا ذکر ہے ،  اسی مناسبت کی وجہ سے اس سورت کو ’’سورۃ الحج‘‘ کے نام سے مَوسوم کیا گیا ہے ۔

سورۂ حج کے بارے میں  حدیث:

            حضر ت عقبہ بن عامر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں   ، میں  نے عرض کی :یا رسولَ  اللہ ! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  کیا سورۂ حج کو اس طرح بزرگی دی گئی ہے کہ ا س میں  دو سجدے ہیں ۔ ارشاد فرمایا ’’ہاں ! اور جو شخص یہ دو سجدے نہ کرے وہ ان دونوں  کو نہ پڑھے۔( ترمذی ،  کتاب السفر ،  باب ما جاء فی السجدۃ فی الحج ،  ۲ / ۹۵ ،  الحدیث: ۵۷۸) مفتی احمد یار خاں  نعیمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یہ حدیث حضرت امام شافعی (رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ )کی دلیل ہے کہ سورہ ٔحج میں  دو سجدے ہیں  ۔ امام اعظم (رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ)کے نزدیک (مجموعی اعتبار

سے تودو سجدے ہیں  کہ ایک سجدہ ِ تلاوت اور دوسرا سجدہِ نماز لیکن خاص سجدہ ِ تلاوت کے اعتبار سے ) سورۂ حج میں  صرف ایک سجدہ ہے یعنی پہلا  ،  دوسری آیت میں  سجدہ ِنماز مراد ہے نہ کہ سجدہِ تلاوت  ،  کیونکہ وہاں  ارشاد ہوا ’’اِرْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا‘‘ یعنی سجدہ کا رکوع کے ساتھ ذکر ہوا اور جہاں  رکوع سجدہ مل کرآویں  وہاں  سجدۂ نماز مراد ہوتا ہے ،  رب تعالیٰ فرماتا ہے ’’وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ‘‘ نیز طحاوی نے حضرت ابنِ عباس(رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا) سے روایت کی کہ سورۂ حج میں  پہلا سجدہ عزیمت ہے اور دوسرا سجدہ تعلیم نیز یہ حدیث علاوہ ضعیف ہونے کے امام شافعی رَحْمَۃُ  اللہ عَلَیْہِ  کے بھی خلاف ہے کیونکہ وہ قرآنی سجدے واجب نہیں  مانتے سنت مانتے ہیں  اور اس حدیث سے وجوب ثابت ہوتا ہے کہ فرمایا جو یہ سجدے نہ کرے وہ یہ سورت ہی نہ پڑھے۔ بہرحال اس حدیث سے اِستدلال قوی نہیں ۔(مراٰۃ المناجیح  ،  قرآنی سجدوں  کا باب ،  دوسری فصل ،  ۲ / ۱۴۲)

سورۂ حج کے مَضامین:

            اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  حج کی فرضیت ، حج کے مَناسِک ، جہاد کی مشروعِیَّت دینِ اسلام کے بنیادی عقائد کو دلائل کے ساتھ بیان کیاگیا ہے اور ا س سورت میں  مزید یہ چیزیں  بیان کی گئی ہیں :

(1) …اس سورت کی ابتداء میں  لوگوں  کو  اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا گیا اور قیامت کے ہَولناک مَناظر بیان کئے گئے۔

(2) …مخلوق کی موت کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرنے پر  اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل بیان کی گئی کہ جو رب تعالیٰ مردہ نطفے سے زندہ انسان اور بنجر زمین کو پانی برسا کر سرسبز کرنے پر قادر ہے تو وہ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔

(3) …دینِ اسلام کے بارے میں  شک اور تَرَدُّد میں  رہنے والوں  کا حال بیان کیاگیا۔

(4) …پانچ قسم کے کفار کو ہونے والا عذاب اور مسلمانوں  کو ملنے والی جزاء بیان کی گئی ۔

(5) …حج کے اعلانِ عام کا ذکر کیا گیا اور حج اور حرم سے متعلق چند اَحکام بیان کئے گئے۔

(6) …کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی۔

(7) …کفارِ مکہ کو پچھلی امتوں  کے اَحوال سے ڈرایاگیا کہ جب انہوں  نے ا یمان کی دعوت قبول نہ کی وہ عذاب میں  گرفتار ہوگئے۔

(8) …نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور مسلمانوں  کو اس بات پر تسلی دی گئی کہ وہ شیطان کی گمراہ کن باتوں  سے

نہ گھبرائیں  کیونکہ وہ ہر نبی اور رسول کی دینی سرگرمیوں  میں  رخنہ اندازی کرتا رہا ہے اور  اللہ تعالیٰ شیطان کی ہر سازش ناکام بنا دیتا ہے۔

(9) …مکہ مکرمہ سے ہجرت کے دوران شہید کر دئیے جانے والوں  اور انتقال کر جانے والوں  کی جزاء بیان کی گئی ۔

(10) …قرآن پاک کی عظمت و شان بیان کی گئی اور یہ بتایاگیا کہ کفار و مشرکین قرآن مجید کو پسند نہیں  کرتے اور وہ اَنبیاء و مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بغض رکھتے ہیں  ۔

(11) …یہ بتایاگیا کہ  اللہ تعالیٰ نے چند فرشتوں  کو دیگر فرشتوں  پر اور چند انسانوں  کو دیگر انسانوں  پر فضیلت دی ہے۔

سورۂ اَنبیاء کے ساتھ مناسبت:

            سورۂ حج کی اپنے سے ماقبل سورت ’’الانبیاء‘‘ سے مناسبت یہ ہے کہ سورۃ الانبیاء میں  بھی قیامت کی ہولناکیوں  کابیان تھا اوراس سورت کاآغازبھی قیامت کی ہولناکیوں  کے بیان سے ہورہاہے  ، نیز سورۃ الانبیاء میں   اللہ عَزَّوَجَلَّ کے واحدویکتاہونے کابیان تھا اوراس سورت میں  بھی  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت کابیان ہے ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان:  اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللّٰہکے نام سے شروع جو نہایت مہربان  ،  رحمت والاہے ۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگو اپنے رب سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو  ، بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔

{یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔} اس سورۂ  مبارکہ کی پہلی آیت میں   اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا کیونکہ تقویٰ اور خوفِ خدا ہی ایسی چیزیں  ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے اَعمال واَخلاق کی اصلاح کرتا ہے اور معاشرہ میں  ایک اچھا انسان بن کر رہتا ہے۔ اور چونکہ تقویٰ اور خوفِ خداوندی پر سب سے زیادہ ابھارنے



Total Pages: 239

Go To