Book Name:Sirat ul jinan jild 6

دیتے ہیں  تا کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تمہاری عقل و قوت کامل ہو اور تم میں  کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور اس کو اتنا بڑھاپا آ جاتا ہے کہ عقل و حواس بجا نہیں  رہتے اوربالآخر ایسا ہو جاتا ہے کہ اس کی نظر کمزور ،  عقل ناقص اور فہم و سمجھ کم ہو جاتی ہے اور جو باتیں  اسے معلوم ہوتی ہیں  وہ بھول جاتا ہے۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۳ / ۳۰۰ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۶ / ۶-۷ ،  ملتقطاً)

انتہائی ضعیفی کی عمر میں  عقل و حواس ختم ہونے سے محفوظ لوگ:

            یاد رہے کہ اس آیت میں  بڑھاپے کے وقت انسان کی جو حالت بیان کی گئی اس سے انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام محفوظ تھے کیونکہ اگر انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی بڑھاپے میں  اس حال کو پہنچ جایا کرتے تو ان پر تبلیغ فرض نہ رہتی اور نبوت سَلب کر لی جاتی کہ اس صورت میں  تبلیغ میں  غلطی کا احتمال تھا لیکن چونکہ وہ حضرات آخری دم تک صاحبِ وحی نبی رہے اس لئے وہ اس حال سے محفوظ تھے۔ نیز  اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خاص اولیاء ِکرام کو بھی اس حال سے جدا رکھتا ہے اور ان کے علاوہ بھی کچھ لوگ ایسے ہیں  جنہیں  انتہائی ضعیفی کے عالم میں  ا س حال سے بچا لیا جاتا ہے  ،  چنانچہ حضرت عکرمہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’جو شخص تلاوتِ قرآن کا عادی ہو گا وہ اس حالت کو نہ پہنچے گا (کہ اس کی عقل اور حواس قائم نہ رہیں )۔( جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ص۲۷۸)

            اور علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’ علماءِ کرام پر بھی یہ حالت طاری نہیں  ہوتی بلکہ جیسے جیسے ان کی عمر میں  اضافہ ہوتا جاتا ہے ان کی عقل بھی بڑھتی جاتی ہے۔( صاوی ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۴ / ۱۳۲۷)

            نوٹ: انتہائی ضعیفی اور نکمے پن کی عمر سے متعلق کچھ کلام سورۂ نحل کی آیت نمبر 70 کی تفسیر میں  گزر چکا ہے  ،  اسے وہاں  ملاحظہ فرمائیں ۔

{وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً:اور تو زمین کو مرجھایا ہوا دیکھتا ہے۔} یہاں  سے مرنے کے بعد اٹھنے پر دوسری دلیل قائم کی

جا رہی ہے  ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے انسان! تو زمین کو مرجھایا ہوا اور خشک دیکھتا ہے ،  پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں  تو وہ تر و تازہ ہوکرلہلہاتی ہے اور بڑھتی ہے اور وہ ہرقسم کا خوبصورت سبزہ اگاتی ہے تو جو قادرو برحق رب تعالیٰ مرجھائی ہوئی زمین کو سرسبز و شاداب کر سکتاہے تو وہ ان بندوں  کو بھی زندہ کر سکتا ہے جن کے اجزا موت کے بعد بکھر چکے ہوں۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۳ / ۳۰۰ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۶ / ۸ ،  ملتقطاً)

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ اس لئے ہے کہ  اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ وہ مردے جِلائے گا اور یہ کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اس لیے ہے کہ  اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ وہ مردوں  کو زندہ کرے گا اور یہ کہ وہ ہرشے پر قادر ہے۔

{ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ:یہ اس لیے ہے کہ  اللہ ہی حق ہے۔}مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر دو دلیلیں  بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں  ان کا نتیجہ مُرَتَّب فرمایا جارہا ہے کہ آدمی کی پیدائش کے ابتدائی حالات اور مرجھائی ہوئی خشک زمین کو سرسبز و شاداب کر دینے کے بارے ذکر کیا گیا تاکہ تم جان لو کہ  اللہ تعالیٰ موجود ہے اور یہ چیزیں  اس کی حکمت کی دلیلیں  ہیں  اور یہ بھی جان لو کہ جس طرح ا س نے مردہ زمین کو زندہ کیا اسی طرح وہ مردوں  کو زندہ کرے گا اوریہ کہ  اللہ تعالیٰ ہر ممکن چیزپر قادر ہے۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ۳ / ۳۰۰ ،  مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ص۷۳۲ ،  ملتقطاً)

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَاۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس لئے کہ قیامت آنے والی اس میں  کچھ شک نہیں  اور یہ کہ  اللہ اُٹھائے گا انہیں  جو قبروں  میں  ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں  کچھ شک نہیں اور یہ کہ  اللہ انہیں  اٹھائے گا جو قبروں  میں  ہیں ۔

{وَ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ:اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ یہ دلائل ا س لئے ذکر کئے گئے تاکہ تمہیں  معلوم ہو جائے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس کے آنے میں  کچھ شک نہیں اور یہ معلوم ہو جائے کہ  اللہ تعالیٰ ان مردوں  کو اٹھائے گا جو قبروں  میں  ہیں  اور مرنے کے بعد اٹھایا جانا حق ہے۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۳ / ۳۰۰)

            خیال رہے کہ قبر سے مراد عالَمِ برزخ ہے جو موت اور حشر کے بیچ میں  ہے ، نہ کہ محض وہ غار جو مُردوں  کا مَدفن ہو ،  لہٰذا جلنے والے ،  ڈوبنے والے وغیرہ سب ہی قیامت کے دن اٹھائے جائیں  گے۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ(۸) ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ(۹)ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کوئی آدمی وہ ہے کہ  اللہ کے بارے میں  یوں  جھگڑتا ہے کہ نہ تو علم نہ کوئی دلیل اور نہ کوئی روشن نوشتہ۔ حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے تاکہ  اللہ کی راہ سے بہکادے اس کے لئے دنیا میں  رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں  گے ۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو تیرے ہاتھوں  نے آگے بھیجا اور  اللہ بندوں  پر ظلم نہیں  کرتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کوئی آدمی وہ ہے جو  اللہ کے بارے میں  بغیر علم اور بغیر ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑتا ہے ۔ اس حال میں  کہ وہ حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے ہے تاکہ  اللہ کی راہ سے بھٹکا دے  ، اس کے لیے دنیا میں  رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں  گے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو تیرے ہاتھوں  نے آگے بھیجا اور (اس لیے) کہ اللہ بندوں  پر ظلم نہیں  کرتا۔

{وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ:اورکوئی آدمی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں  بغیرعلم کے جھگڑتا ہے۔} شانِ نزول :یہ آیت ابوجہل وغیرہ کفار کی ایک جماعت کے



Total Pages: 235

Go To