Book Name:Sirat ul jinan jild 6

بدمذہبوں  سے دوستی اور تعلقات رکھنے کی ممانعت:

            اس آیت سے معلوم ہواکہ بدمذہبوں  سے دوستی اور تعلق نہیں  رکھنا چاہئے اور نہ ہی ان کے ساتھ رشتہ داری قائم کرنی چاہئے کیونکہ یہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں  اور اپنی چکنی چپڑی باتوں   ،  ظاہری عبادت و ریاضت اور دکھلاوے کی پرہیز گاری کے ذریعے دوسروں  کو بھی گمراہ کر دیتے ہیں ۔ صحیح مسلم شریف میں  حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ عنقریب میری امت کے آخر میں  کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں  گے جو تم سے ایسی باتیں  کریں  گے جنہیں  نہ تم نے سنا ہو گا اور نہ تمہارے باپ دادا نے ،  تو تم ان سے دور رہنا اور انہیں  (خود سے) دور رکھنا۔( مسلم ،  باب النہی عن الروایۃ عن الضعفائ۔۔۔ الخ ،  ص۹ ،  الحدیث: ۶(۶))

            اسی کتاب کی دوسری روایت میں  ہے  ، حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’آخری زمانے میں  دَجّال اور کذّاب ظاہر ہوں  گے  ، وہ تمہارے پاس ایسی باتیں  لے کر آئیں  گے جنہیں  تم اور تمہارے باپ دادا نے نہ سنا ہو گا تو تم ان سے دور رہنا اور انہیں  دور رکھنا ،  کہیں  وہ تمہیں  گمراہ نہ کر دیں  اور تمہیں  فتنے میں  نہ ڈال دیں ۔(مسلم ،  باب النہی عن الروایۃ عن الضعفائ۔۔۔ الخ ،  ص۹ ،  الحدیث: ۷(۷))

            بد مذہبوں  سے دور رہنے اور انہیں  خود سے دور رکھنے کے ساتھ ساتھ متعدد اَحادیث میں  ان سے زندگی اور موت کے تمام تعلقات ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ  ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ ،  ان کے ساتھ پانی نہ پیو ،  ان کے پاس نہ بیٹھو  ،  ان سے رشتہ نہ کرو ،  وہ بیمار پڑیں  تو پوچھنے نہ جاؤ ،  مر جائیں  تو ان کی میت کے پاس نہ جاؤ ،  ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھواور نہ ہی ان کے ساتھ نماز پڑھو۔( کنز العمال ،  کتاب الفضائل ،  الباب الثالث فی ذکر الصحابۃ وفضلہم۔۔۔الخ ،  الفصل الاول  ،  ۶ / ۲۴۶  ،  الجزء الحادی عشر  ،  الحدیث : ۳۲۵۲۵  ،   ۳۲۵۲۶  ،  تاریخ بغداد  ،  حرف الواو من آباء الحسینین  ،  ۴۲۴۰- الحسین بن الولید ۔۔۔ الخ  ،  ۸ / ۱۳۹ ،  ملتقطاً)  اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں  کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْؕ-وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْۚ-وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْــٴًـاؕ-وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگو اگر تمہیں  قیامت کے دن جینے میں  کچھ شک ہو تو یہ غور کرو کہ ہم نے تمہیں  پیدا کیا مٹی سے پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹک سے پھر گوشت کی بوٹی سے نقشہ بنی اور بے بنی تاکہ ہم تمہارے لئے اپنی نشانیاں  ظاہر فرمائیں  اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں  ماؤں  کے پیٹ میں  جسے چاہیں  ایک مقرر میعاد تک پھر تمہیں  نکالتے ہیں  بچہ پھر اس لئے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں  کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب میں  نکمی عمر تک ڈالا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تر و تازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑا اُگا لائی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو! اگر تمہیں  قیامت کے دن اُٹھنے کے بارے میں  کچھ شک ہو تو(اس بات پر غور کرلو کہ) ہم نے تمہیں  مٹی سے پیدا کیا پھر پانی کی ایک بوند سے پھرجمے ہوئے خون سے پھر گوشت کی بوٹی سے جس کی شکل بن چکی ہوتی ہے اور ادھوری بھی ہوتی ہے تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی قدرت کو ظاہر فرمائیں  اور ہم ماؤں  کے پیٹ میں  جسے چاہتے ہیں  اسے ایک مقرر مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں  پھر تمہیں  بچے کی صورت میں  نکالتے ہیں  پھر (عمر دیتے ہیں ) تا کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں  کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تاکہ (بالآخر) جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور تو زمین کو مرجھایا ہوا دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں  تو وہ (تر و تازہ ہوکر)لہلہاتی ہے اور بڑھتی ہے اور وہ ہرقسم کا خوبصورت سبزہ اگاتی ہے۔

{یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ:اے لوگو!۔} اس سے پہلی آیت میں شیطان کی پیروی کرنے پر ڈانٹا گیا اور ا س آیت میں  ان لوگوں  پر حجت قائم فرما ئی جا رہی ہے جومرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے منکر ہیں   ، چنانچہ اس کی پہلی دلیل یہ ارشاد فرمائی کہ اے لوگو! اگر تمہیں  قیامت کے دن اٹھنے کے بارے میں  کچھ شک ہو تواس بات پر غور کرلو کہ ہم نے تمہاری نسل کی اصل یعنی تمہارے جَدِّ اعلیٰ  ، حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مٹی سے پیدا کیا ،  پھران کی تمام اولاد کو منی کے قطرے سے ،  پھر جمے ہوئے خون سے کہ نطفہ گاڑھا خون ہو جاتا ہے  ، پھر گوشت کی بوٹی سے جس کی شکل بن چکی ہوتی ہے اور ادھوری بھی ہوتی ہے سے پیدا کیا۔ انسان کی پیدائش کا حال اس لئے بیان فرمایا گیا تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی قدرت کو ظاہر فرمائیں  اور تم  اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے کمال کو جان لو اور اپنی پیدائش کے ابتدائی حالات پر نظر کر کے سمجھ لو کہ جو قادرِ برحق بے جان مٹی میں  اتنے اِنقلاب کر کے جاندار آدمی بنا دیتا ہے وہ مرے ہوئے انسان کو زندہ کردے تو یہ اس کی قدرت سے کیا بعید ہے۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۳ / ۲۹۹-۳۰۰)

انسانی تخلیق کے مَراحل:

             اللہ تعالیٰ انسان کی پیدائش کس طرح فرماتا ہے اور اس کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف کس طرح منتقل کرتا ہے  ، اس کا کچھ بیان تو اس آیت میں  ہوا اوراس کی مزید تفصیل صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں  ہے ، چنانچہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم لوگوں  کی پیدائش کا مادہ ماں  کے پیٹ میں  چالیس دن تک نطفہ کی صورت میں  رہتا ہے ،  پھر اتنی ہی مدت جما ہوا خون ہو جاتا ہے ،  پھر اتنی ہی مدت گوشت کی بوٹی کی طرح رہتا ہے ،  پھر  اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کا رزق  ، اس کی عمر  ،  اس کے عمل  ،  اس کا بدبخت یا سعادت مند ہونا لکھتا ہے ،  پھر اس میں  روح پھونک دیتاہے۔( بخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب خلق آدم صلوات  اللہ علیہ وذرّیتہ ، ۲ / ۴۱۳ ، الحدیث: ۳۳۳۲ ،  مسلم ،  کتاب القدر ،  باب کیفیّۃ الخلق الادمیّ فی بطن امّہ۔۔۔ الخ ،  ص۱۴۲۱ ،  الحدیث: ۱(۲۶۴۳))

{وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ:اور ہم ماؤں  کے پیٹ میں  جسے چاہتے ہیں  ٹھہرائے رکھتے ہیں ۔} مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایک دلیل قائم کرنے کے بعدپیدائش کے بعد کا حال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم ماؤں  کے پیٹ میں  جسے چاہتے ہیں  اسے ولادت کی مقررہ مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں   ، پھر تمہیں  بچے کی صورت میں  نکالتے ہیں  ، پھر تمہیں  عمر



Total Pages: 235

Go To