Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ہے اور اس سے متعلق جاننے میں  ہم اور تم برابر ہیں  لیکن میں  نہیں  جانتا  کہ مجھے  اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم سے جنگ کرنے کی اجازت کب ملے گی۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  پھر اگر وہ کفار منہ پھیریں  اور اسلام نہ لائیں  تو آپ ان سے فرما دیں :  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے متعلق جس چیز کا مجھے حکم دیا گیا میں  نے تمہیں  برابری کی بنیاد پر ا س کے بارے میں  خبردار کردیا ہے اور رسالت کی تبلیغ کرنے اور نصیحت کرنے میں  تمہارے درمیان کوئی فرق نہیں  کیا ہے اور میں   اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر نہیں  جانتا کہ تمہیں  عذاب یا قیامت کاجو وعدہ دیا جاتاہے وہ قریب ہے یا دور ہے۔( تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۹ ،  ۸ / ۱۹۵ ،  روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۹ ،  ۵ / ۵۳۰ ،  جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۹ ،  ص۲۷۸ ،  ملتقطاً)

{وَ اِنْ اَدْرِیْ:اور میں  نہیں  جانتا ۔} آیت کے اس حصے کے بارے میں  صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے خزائن العرفان میں  جو کلام فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں  دِرایت کی نفی فرمائی گئی ہے۔ درایت ’’اندازے اور قِیاس سے جاننے ‘‘کو کہتے ہیں  جیسا کہ امام راغب اصفہانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مفرداتِ امام راغب میں  اور علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے ردُّالمحتار میں  ذکر کیا ہے ،  اور قرآن کریم کے اِطلاقات اس پر دلالت کرتے ہیں  جیسا کہ فرمایا:

’’ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ‘‘(شوریٰ:۵۲)

(ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس سے پہلے نہ تم کتاب کوجانتے تھے نہ شریعت کے احکام کی تفصیل کو۔)

            اسی لئے  اللہ تعالیٰ کے لئے درایت کالفظ استعمال نہیں  کیا جاتا  ، لہٰذا یہاں اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر محض اپنی عقل اور قیاس سے جاننے کی نفی ہے نہ کہ مُطْلق علم کی اور مطلق علم کی نفی کیسے ہو سکتی ہے جب کہ اسی رکوع کے شروع میں  آ چکا ہے ’’وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ‘‘یعنی اور سچا وعدہ قریب آگیا۔ تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وعدے کا قریب اور دور ہونا کسی طرح معلوم نہیں  ۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہاں  اپنی عقل اور قیاس سے جاننے کی نفی ہے نہ کہ  اللہ تعالیٰ کے بتانے سے جاننے کی نفی ہے۔(خزائن العرفان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۹ ،  ص۶۱۷)

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ(۱۱۰)وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(۱۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک  اللہ جانتا ہے آواز کی بات اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔ اور میں  کیا جانوں  شاید وہ تمہاری جانچ ہو اور ایک وقت تک برتوانا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک  اللہ بلند آواز سے کہی گئی بات کو جانتا ہے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو ۔ اور میں  نہیں  جانتا کہ شاید وہ تمہاری آزمائش ہو اور ایک وقت تک کیلئے فائدہ دینا ہے۔

{اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ:بیشک  اللہ بلند آواز سے کہی گئی بات کو جانتا ہے۔}یعنی اے کافرو! تم جو بلند آواز سے قرآنِ مجید کی آیات کو جھٹلاتے اور اسلام پر اعتراضات کرتے ہو بے شک  اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مسلمانوں  سے جو حسد و عداوت تم چھپاتے ہو اسے بھی  اللہ تعالیٰ جانتا ہے تو وہ تمہیں  ا س پر جہنم کی دردناک سزا دے گا۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۱۰ ،  ۵ / ۵۳۰)

{وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ:اور میں  نہیں  جانتا کہ شایدوہ تمہاری آزمائش ہو ۔} یعنی میں  نہیں  جانتا کہ شاید دنیا میں  عذاب کو مُؤخَّر کرنا تمہاری آزمائش ہو جس سے تمہارا حال ظاہر ہو جائے اور  اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت کے مطابق موت کے وقت تک کیلئے تمہیں فائدہ دینا ہو تاکہ یہ تم پر حجت ہو جائے۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۱۱ ،  ۵ / ۵۳۰)

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّؕ-وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠(۱۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: نبی نے عرض کی کہ اے میرے رب حق فیصلہ فرمادے اور ہمارے رب رحمٰن ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں  پر جو تم بتاتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: نبی نے عرض کی: اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ فرمادے اور ہمارا رب رحمٰن ہی ہے جس سے ان باتوں  کے خلاف مدد طلب کی جاتی ہے جو تم کرتے ہو۔

{قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ:نبی نے عرض کی: اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے۔} یہاں  حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی دعا کا ذکر ہے کہ آپ نے  اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی :اے میرے رب! میرے اور ان کے درمیان جو مجھے جھٹلاتے ہیں  اس طرح حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے کہ میری مدد کر اور ان پر عذاب نازِل فرما ۔ چنانچہ حضور انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی یہ دعا قبول ہوئی اور جنگ ِبدر ،  جنگ ِاَحزاب اور جنگ ِحُنَین وغیرہ میں  کفار مبتلائے عذاب ہوئے۔ آیت کے آخر میں  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا گیاکہ آپ کافروں  کو وعید بیان کرتے ہوئے فرما دیں  کہ ’’ہمارا رب رحمٰن ہی ہے جس سے شرک و کفر اور بے ایمان کی ان باتوں  کے خلاف مدد طلب کی جاتی ہے جو تم کرتے ہو۔(خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۱۲ ،  ۳ / ۲۹۸)

سورۂ حج

سورۂ حج کا تعارف

مقامِ نزول:

            سورۂ حج کے مکی یا مدنی ہونے میں  اختلاف ہے ،  ایک قول یہ ہے کہ ’’هٰذٰنِ خَصْمٰنِ‘‘ سے لے کر ’’وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ‘‘ تک 6 آیتیں  مدنی ہیں  اور باقی آیتیں  مکی ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا اور امام مجاہد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کا ایک قول یہ ہے کہ سورۂ حج مکی ہے البتہ ’’ هٰذٰنِ خَصْمٰنِ‘‘سے لے کر تین آیتیں  مدنی ہیں  ۔ جمہور کے نزدیک سورۂ حج کی بعض آیتیں  مکی ہیں  اور بعض مدنی ہیں  اور یہ متعین نہیں  ہے کہ کون سی آیتیں  مکی ہیں  اور کون سی آیتیں  مدنی ہیں ۔( خازن ،  تفسیر سورۃ الحج ،  ۳ / ۲۹۸ ،  قرطبی ،  تفسیر سورۃ الحج ،  ۶ / ۳ ،  الجزء الثانی عشر ،  ملتقطاً)

رکوع اور آیات کی تعداد:

            اس سورت میں  10 رکوع  اور 78 آیتیں ہیں ۔

 



Total Pages: 235

Go To