Book Name:Sirat ul jinan jild 6

             تفسیر روح البیان میں  اَکابِر بزرگانِ دین کے حوالے سے مذکور ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوتمام جہانوں  کے لئے خواہ وہ عالَمِ ارواح ہوں  یا عالَمِ اجسام  ،  ذوی العقول ہوں  یا غیر ذوی العقول سب کے لئے مُطْلَق ،  تام ،  کامل ،  عام ،  شامل اور جامع رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور جو تمام عالَموں  کے لئے رحمت ہو تو لازم ہے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہو۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۷ ،  ۵ / ۵۲۸)

(2)…اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَدونوں  جہاں  کی سعادتیں  حاصل ہونے کا ذریعہ ہیں  کیونکہ جو شخص دنیا میں  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ایمان لائے گا اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت و پیروی کرے گا اسے دونوں  جہاں  میں  آپ کی رحمت سے حصہ ملے گا اور وہ دنیا وآخرت میں  کامیابی حاصل کرے گا اور جو آپ پر ایمان نہ لایا تو وہ دنیا میں  آپ کی رحمت کے صدقے عذاب سے بچ جائے گا لیکن آخرت میں  آپ کی رحمت سے کوئی حصہ نہ پا سکے گا۔ امام فخرالدین رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’لوگ کفر  ، جاہلیت اور گمراہی میں  مبتلا تھے  ،  اہلِ کتاب بھی اپنے دین کے معاملے میں  حیرت زدہ تھے کیونکہ طویل عرصے سے ان میں  کوئی نبی عَلَیْہِ  السَّلَام تشریف نہ لائے تھے اور ان کی کتابوں  میں  بھی (تحریف اور تبدیلیوں  کی وجہ سے) اختلاف رو نما ہو چکاتھا تو  اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو مبعوث فرمایا جب حق کے طلبگار کو کامیابی اور ثواب حاصل کرنے کی طرف کوئی راہ نظر نہ آ رہی تھی ، چنانچہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے لوگوں  کوحق کی طرف بلایا اور ان کے سامنے درست راستہ بیان کیااور ان کے لئے حلال و حرام کے اَحکام مقرر فرمائے  ، پھر اس رحمت سے(حقیقی) فائدہ اسی نے اٹھایا جو حق طلب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا (اور وہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ایمان لا کر دنیا و آخرت میں  کامیابی سے سرفراز ہوا اور جو ایمان نہ لایا) وہ دنیا میں  آپ کے صدقے بہت ساری مصیبتوں  سے بچ گیا۔( تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۷ ،  ۸ / ۱۹۳ ،  ملخصاً)

تم ہو جواد و کریم تم ہو رؤف و رحیم        بھیک ہو داتا عطا تم پہ کروڑوں  درود

حضرت عیسٰی عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رحمت میں  فرق:

            ویسے تو  اللہ تعالیٰ کے تمام رسول اور اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامرحمت ہیں  لیکن  اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عین رحمت اور سراپا رحمت ہیں   ، اسی مناسبت سے یہاں  حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رحمت میں  فرق ملاحظہ ہو ، چنانچہ تفسیر روح البیان میں  ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں  حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  ارشاد فرمایا:

’’ وَ رَحْمَةً مِّنَّا‘‘(مریم:۲۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنی طرف سے ایک رحمت (بنادیں )۔

             اور اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حق میں  ارشاد فرمایا

’’ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے تمہیں  تمام جہانوں  کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔‘‘

            ان دونوں  کی رحمت میں  بڑا عظیم فرق ہے اور وہ یہ کہ  اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رحمت ہونے کو حرف ’’مِنْ‘‘ کی قید کے ساتھ ذکر فرمایا اور یہ حرف کسی چیز کا بعض حصہ بیان کرنے کے لئے آتا ہے اور اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامان لوگوں  کے لئے رحمت ہیں  جو آپ پر ایمان لائے اور اس کتاب و شریعت کی پیروی کی جو آپ لے کر آئے اور ان کی رحمت کا یہ سلسلہ سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مبعوث ہونے تک چلا ،  پھر آپ کا دین منسوخ ہونے کی وجہ سے اپنی امت پر آپ کا رحمت ہونا منقطع ہو گیا جبکہ  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  مُطْلَق طور پر تمام جہانوں  کے لئے رحمت ہونا بیان فرمایا ، اسی وجہ سے عالَمین پر آپ کی رحمت کبھی منقطع نہ ہو گی ،  دنیا میں  کبھی آپ کا دین منسوخ نہ ہو گا اور آخرت میں  ساری مخلوق یہاں  تک کہ (حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور) حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی شفاعت کے محتاج ہوں  گے۔(روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۷ ،  ۵ / ۵۲۸)

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا نہیں  مگر ایک  اللہ تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ :مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک معبود ہے تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟

{قُلْ:تم فرماؤ۔} اس سے پہلی آیات میں   اللہ تعالیٰ کے واحد معبود ہونے پرکئی دلائل پیش کئے گئے اور فرمایا گیا کہ  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو تمام جہانوں  کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے ،  اب یہاں  یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ کافروں  سے فرما دیں  کہ معبود کے معاملے میں  میری طرف یہی وحی کی جاتی ہے  اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں  لہٰذاتم  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لا کر مسلمان ہو جاؤ۔( تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۸ ،  ۸ / ۱۹۴ ،  خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۸ ،  ۳ / ۲۹۷ ،  ملتقطاً)

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ-وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ(۱۰۹)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اگر وہ منہ پھیریں  تو فرمادو میں  نے تمہیں  لڑائی کا اعلان کردیا برابری پر اور میں  کیا جانوں  کہ پاس ہے یا دور ہے وہ جو تمہیں  وعدہ دیا جاتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرمادو: میں  نے تمہیں  برابری کی بنیاد پر خبردار کردیا ہے اور میں  نہیں  جانتا کہ تمہیں  جو وعدہ دیا جاتاہے وہ قریب ہے یا دور ہے؟

{فَاِنْ تَوَلَّوْا:پھر اگر وہ منہ پھیریں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ پھر اگر وہ کفار اسلام قبول کرنے سے منہ پھیریں  تو آپ ان سے فرما دیں  کہ میں  نے تم سے لڑائی کا اعلان کر دیا



Total Pages: 235

Go To