Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ہوں  گے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ اس سے کفار کی زمینیں  مراد ہیں  جنہیں  مسلمان فتح کریں  گے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے شام کی زمین مراد ہے جس کے وارث  اللہ تعالیٰ کے وہ نیک بندے ہوں  گے جو اس وقت شام میں  رہنے والوں  کے بعد آئیں  گے۔(خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۵ ،  ۳ / ۲۹۷)

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ(۱۰۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک یہ قرآن کافی ہے عبادت والوں  کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اس قرآن میں  عبادت کرنے والوں  کیلئے کافی سامان ہے۔

{اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا:بیشک اس قرآن میں  کافی سامان ہے۔} یعنی قرآن کریم مومن عبادت گزاروں  کو ہدایت و رہبری کے لئے کافی ہے بشرطیکہ اسے صاحب ِقرآن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعلیم و تفہیم کے ماتحت سمجھا جائے ،  محض عقل سے سمجھنا کافی نہیں  اور جو اس کی پیروی کرے اور اس کے مطابق عمل کرے وہ مراد کو پہنچے اور جنت پائے گا۔ عباد ت کرنے والوں  سے مراد مومنین ہیں  جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں  کرتے اور ایک قول یہ ہے کہ اُمتِ مُحمدیَّہ مراد ہے جو پانچوں  نمازیں  پڑھتے ہیں  رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور حج کرتے ہیں ۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۶ ،  ۳ / ۲۹۷)

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تمہیں  نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ہم نے تمہیں  تمام جہانوں  کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔

{وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ:اور ہم نے تمہیں  تمام جہانوں  کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  ہم نے آپ کو تمام جہانوں  کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔

حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رحمت:

            تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنبیوں  ،  رسولوں  اور فرشتوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے رحمت ہیں  ،  دین و دنیا میں  رحمت ہیں  ،  جِنّات اور انسانوں  کے لئے رحمت ہیں  ،  مومن و کافر کے لئے رحمت ہیں   ،  حیوانات ،  نباتات اور جمادات کے لئے رحمت ہیں  الغرض عالَم میں  جتنی چیزیں  داخل ہیں   ،  سیّدُ المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان سب کے لئے رحمت ہیں ۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَافرماتے ہیں  کہ حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا رحمت ہونا عام ہے ،  ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا ۔ مومن کے لئے تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَدنیا و آخرت دونوں  میں  رحمت ہیں  اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَدنیامیں  رحمت ہیں  کہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بدولت اس کے دُنْیَوی عذاب کو مُؤخَّر کر دیا گیا اور اس سے زمین میں  دھنسانے کا عذاب ،  شکلیں  بگاڑ دینے کا عذاب اور جڑ سے اکھاڑ دینے کا عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۷ ،  ۳ / ۲۹۷)

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’عالَم ماسوائے  اللہ کو کہتے ہیں  جس میں  انبیاء وملائکہ سب داخل ہیں ۔ تو لاجَرم (یعنی لازمی طور پر) حضور پُر نور ،  سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان سب پر رحمت و نعمت ِربُّ الارباب ہوئے  ،  اور وہ سب حضور کی سرکارِ عالی مدار سے بہرہ مند وفیضیاب ۔ اسی لئے اولیائے کاملین وعلمائے عاملین تصریحیں  فرماتے ہیں  کہ’’ ازل سے ابد تک  ، ارض وسماء میں  ،  اُولیٰ وآخرت میں   ، دین ودنیا میں  ،  روح وجسم میں  ،  چھوٹی یا بڑی  ،  بہت یا تھوڑی  ،  جو نعمت ودولت کسی کو ملی یا اب ملتی ہے یا آئندہ ملے گی سب حضور کی بارگاہ ِجہاں  پناہ سے بٹی اور بٹتی ہے اور ہمیشہ بٹے گی۔(فتاوی رضویہ ،  رسالہ: تجلی الیقین ،  ۳۰ / ۱۴۱)

            اور فرماتے ہیں  ’’حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ وَسَلَّمَ رحمۃٌ لِّلْعالَمین بنا کر بھیجے گئے اور مومنین پربالخصوص کمال مہربان ہیں  ،  رؤف رحیم ہیں  ،  ان کامشقت میں  پڑنا ان پرگراں  ہے ،  ان کی بھلائیوں  پرحریص ہیں   ، جیسے کہ قرآن عظیم ناطق:

’’لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ‘‘(توبہ:۱۲۸)

(ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک تمہارے پاس تم میں  سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں  پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے ،  وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے ،  مسلمانوں  پر بہت مہربان ،  رحمت فرمانے والے ہیں ۔)

            تمام عاصیوں  کی شفاعت کے لئے تو وہ مقررفرمائے گئے:

’’وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ‘‘(سورۂ محمد:۱۹)

(ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے حبیب!اپنے خاص غلاموں  اور عام مسلمان مردوں  اور عورتوں  کے گناہوں  کی معافی مانگو۔)( فتاوی رضویہ ،  ۲۴ / ۶۷۴-۶۷۵)

آیت’’وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ‘‘ اور عظمت ِمصطفٰی :

            یہ آیتِ مبارکہ تاجدارِ رسالتصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان پر بہت بڑی دلیل ہے ،  یہاں  اس سے ثابت ہونے والی دو عظمتیں  ملاحظہ ہوں :

(1)…اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمخلوق میں  سب سے افضل ہیں ۔ چنانچہ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’جب حضور انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتمام عالَمین کے لئے رحمت ہیں  تو واجب ہو اکہ وہ ( اللہ تعالیٰ کے سوا) تمام سے افضل ہوں ۔( تفسیرکبیر ،  البقرۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۵۳ ،  ۲ / ۵۲۱)

 



Total Pages: 235

Go To