Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ:یہاں  تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا۔} یاجوج ماجوج دو قبیلوں  کے نام ہیں  ،  جب قیامت آنے کا وقت قریب ہو گا تو یاجوج اور ماجوج کو روک کر رکھنے والی دیوار کو کھول دیا جائے گا اور وہ زمین کی ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ لوگوں  کی طرف اترتے ہوئے آئیں  گے۔(جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۶ ،  ص۲۷۷ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۶ ،  ص۷۲۶ ،  ملتقطاً)

            نوٹ: یاجوج اور ماجوج سے متعلق تفصیلی کلام سورۂ کہف کی آیت نمبر 94 تا 99 کی تفسیر میں  ملاحظہ فرمائیں ۔

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(۹۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور قریب آیا سچا وعدہ تو جبھی آنکھیں  پھٹ کر رہ جائیں  گی کافروں  کی کہ ہائے ہماری خرابی بیشک ہم اس سے غفلت میں  تھے بلکہ ہم ظالم تھے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور سچا وعدہ قریب آگیا تو جبھی اس وقت کافروں  کی آنکھیں  کھلی کی کھلی رہ جائیں  گی کہ ہائے ہماری خرابی! بیشک ہم اس سے غفلت میں  تھے بلکہ ہم ظالم تھے۔

{وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ:اور سچا وعدہ قریب آگیا۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہو گی تواس وقت اس دن کی ہَولناکی اور دہشت سے کافروں  کی آنکھیں  کھلی کی کھلی رہ جائیں  گی اور وہ کہیں  گے کہ ہائے ہماری خرابی! بیشک ہم دنیا کے اندر اس سے غفلت میں  تھے بلکہ ہم اپنی جانوں  پرظلم کرنے والے تھے کہ رسولوں  کی بات نہ مانتے تھے اور انہیں  جھٹلاتے تھے۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۷ ،  ۳ / ۲۹۵ ،  جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۷ ،  ص۲۷۷ ،  ملتقطاً)

کفار کے انجام میں  عبرت و نصیحت:

            اس آیت میں  کفار کا جو حال بیان کیا گیا اس میں  ہر عقلمند انسان کے لئے بڑی عبرت اور نصیحت ہے کہ دنیا میں   اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید اور اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ذریعے تمام لوگوں  کو اپنی رحمت و انعام اور اس کے حق داروں  کے بارے میں  بشارت اور خبر دے دی ،  اسی طرح  اللہ تعالیٰ نے اپنی پکڑ ،  گرفت ،  عذاب ،  موت کی سختیوں  اور قیامت و جہنم کی ہَولناکیوں  کے بارے میں  بھی بتا دیا اور ان لوگوں  کی بھی خبر دے دی جو ان میں  مبتلاہوں  گے ،  اس کے باجود جو انسان غفلت سے کام لے اور دنیا میں   اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت نہ کرے تو قیامت کے دن وہ لاکھ حیلے بہانے کر لے اور کتنے ہی عذر پیش کر دے  ،  ا س کا کوئی حیلہ اور عذر قبول نہ ہو گا۔

            حضرت عکرمہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میں  تمہارے پاس تمہارے مال طلب کرنے اور تم میں  عزت و مرتبہ چاہنے نہیں  آیا بلکہ  اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجاہے اور مجھ پر ایک عظیم کتاب نازل فرمائی ہے اور مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں  تمہارے لئے( اللہ تعالیٰ کے ثواب کی) خوشخبری دینے والا اور ( اللہ تعالیٰ کے عذاب سے) ڈرانے والا بنوں   ، تو میں  نے تم تک اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں  نصیحت کردی ،  اب اگر تم اُسے قبول کرو جسے میں  تمہارے پاس لایا ہوں  تو وہ تمہارے لئے دنیا و آخرت میں  ایک حصہ ہے اور اگر تم اسے رد کر دو تو میں   اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے صبر کروں  گا یہاں  تک کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی فیصلہ فرما دے۔( خلق افعال العباد ،  باب ما جاء فی قول اللّٰہ: بلّغ ما انزل الیک من ربّک ،  ص۸۱)

            ایک بزرگ نے لوگوں  کو دیکھا کہ وہ جنازے کے پیچھے میت پر بڑی شفقت کر رہے ہیں  ،  تو انہوں  نے فرمایا ’’اگر تم اپنی جانوں  پر رحم کھاؤ (یعنی میت سے زیادہ اپنے اوپر رحم کھاؤ) تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے کیونکہ جس کا جنازہ تم لے کر جا رہے ہو وہ فوت ہو گیا اور تین ہَولناکیوں   ،  مَلکُ الموت کو دیکھنے ،  موت کی سختی اور مرنے کے خوف سے نجات پاگیا (جبکہ تمہیں  ابھی ان تینوں  ہولناکیوں  کا سامنا کرنا ہے۔)( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۷ ،  ۵ / ۵۲۳)

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَؕ-اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ(۹۸) لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَاؕ-وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۹۹)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک تم اور جو کچھ  اللہ کے سوا تم پوجتے ہو سب جہنم کے ایندھن ہو تمہیں  اس میں  جانا۔اگر یہ خدا ہوتے جہنم میں  نہ جاتے اور ان سب کو ہمیشہ اس میں  رہنا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک تم اور جن کی تم  اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو سب جہنم کے ایندھن ہیں ۔ تم اس میں  جانے والے ہو۔اگر یہ معبود ہوتے تو جہنم میں  داخل نہ ہوتے اور ان سب کو ہمیشہ اس میں  رہناہے۔

{اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ:بیشک تم اور جن کی تم  اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔}ارشاد فرمایا کہ اے مشرکو! بیشک تم اور  اللہ تعالیٰ کے سوا جن بتوں  کی تم عبادت کرتے ہو  ، سب جہنم کے ایندھن ہیں  اور تم اس میں  ہمیشہ کے لئے جانے والے ہو۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۸ ،  ۵ / ۵۲۳-۵۲۴)

            یاد رہے کہ مشرکین کے بت عذاب پانے کے لئے جہنم میں  نہ جائیں  گے بلکہ ان مشرکوں  کو عذاب دینے کے لئے جائیں  گے کیونکہ ان کی پوجا کرنے میں  قصور تو مشرکوں  کا ہے نہ کہ ان بتوں  کا ۔

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ(۱۰۰)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ اس میں  رینکیں  گے اور وہ اس میں  کچھ نہ سنیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جہنم میں  ان کی گدھے جیسی آوازیں  ہوں  گی اور وہ اس میں  کچھ نہ سنیں  گے۔

{لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ:جہنم میں  ان کی گدھے جیسی آوازیں  ہوں  گی۔} ارشاد فرمایا کہ وہ مشرک جہنم میں  گدھے جیسی آوازیں  نکالیں  گے اور عذاب کی شدت سے چیخیں  گے اور دھاڑیں  گے اور وہ جہنم کے جوش کی شدت کی وجہ سے اس میں  کچھ نہ سنیں  گے۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۰ ،  ص۷۲۷ ،  جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۰۰ ،  ص۲۷۷ ،  ملتقطاً)

             حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا’’ جب جہنم میں  وہ لوگ رہ جائیں  گے جنہیں  اس میں  ہمیشہ رہنا ہے تو وہ آ گ کے تابوتوں  میں  بند کر دئیے جائیں  گے ،  وہ تابوت دوسرے تابوتوں  میں  ،  پھر وہ تابوت اور تابوتوں  میں  بند کر دئیے جائیں  گے اور ان تابوتوں  پر آ گ کی میخیں  لگادی جائیں  گی تو وہ کچھ نہ سنیں  گے اور نہ کوئی ان میں  کسی کو دیکھے گا۔( خازن ،  



Total Pages: 235

Go To