Book Name:Sirat ul jinan jild 6

عبادت کرو۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۲ ،  ص۷۲۶ ،  خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۲ ،  ۳ / ۲۹۴ ،  ملتقطاً)

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْؕ-كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠(۹۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اَوروں  نے اپنے کام آپس میں  ٹکڑے ٹکڑے کرلئے سب کو ہماری طرف پھرنا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور لوگوں  نے اپنے دین کو آپس میں  ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ سب ہماری طرف لوٹنے والے ہیں ۔

{وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ:اور لوگوں  نے اپنے دین کو آپس میں  ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔} گزشتہ آیت میں  بتایا گیا کہ دین ایک ہی ہے اور سب انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اسی کی تبلیغ کی اور یہاں  بتایاجا رہاہے کہ لوگوں  نے دین میں  بھی اختلاف کیا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کواپنا دین بنالیا  ، خود بھی بکھر گئے اور ان کے اعمال بھی جداگانہ ہوگئے۔

 خود ساختہ اختلاف  اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سبب ہے:

            خیال رہے کہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دینی اعمال مختلف رہے مگر ان کا یہ اختلاف  اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا جس میں  ہزارہا حکمتیں  تھیں  ،  اس لئے یہ اختلاف پکڑ کا باعث نہیں  بلکہ لوگوں  کا خود ساختہ اختلاف  اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سبب ہے ،  لہٰذاآیت بالکل واضح ہے۔

{كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ:سب ہماری طرف لوٹنے والے ہیں ۔} یہاں دین کوٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں  کو خبردار کیاجا رہا ہے کہ دنیامیں  تو جو تمہارے جی میں  آتا ہے کرلو لیکن یاد رکھو کہ قیامت کادن آنے والا ہے اور اس دن تم سب کوہماری طرف لوٹناہے اس وقت تمہیں  ہرچیزکی حقیقت معلوم ہوجائے گی۔

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖۚ-وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ(۹۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو جو کچھ بھلے کام کرے اور ہو ایمان والا تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں  اور ہم اسے لکھ رہے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جو نیک اعمال کرے اوروہ ایمان والا ہو تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں  ہوگی اور ہم اسے لکھنے والے ہیں ۔

{فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ:تو جو نیک اعمال کرے ۔} اس آیت میں  بندوں  کو  اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی گئی ہے  ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جو نیک اعمال کرے اور وہ ایمان والا ہو تو اسے اس کے عمل کا ثواب نہ دے کر محروم نہ کیا جائے گا اور ہم اس کے عمل اَعمال ناموں  میں  لکھ رہے ہیں  جن میں  کچھ کمی نہ ہو گی اور  اللہ تعالیٰ نیک اعمال کرنے والوں  کا اجر ضائع نہیں  فرمائے گا۔( تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۴ ،  ۸ / ۱۸۴ ،  روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۴ ،  ۵ / ۵۲۲ ،  ملتقطاً)

آیت’’فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے چند مسئلے معلوم ہوئے

(1)… اعمال قبول ہونے کادارو مدار ایمان پر ہے  ، اگرایمان ہے تو سب کچھ ہے اور اگر ایمان نہیں  توپھر کچھ بھی نہیں ۔

(2)… کوئی شخص چاہے کسی بھی قبیلے اور قوم سے تعلق رکھتا ہو ،  اس کی رنگت گوری ہو یاکالی ہو  ، وہ دولت مند ہو یا مُفلس و غریب ہو ،  وہ مرد ہو یا عورت ،  اگر وہ ایمان والا ہے تو اس کے کئے ہوئے نیک اعمال کا ثواب  اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا۔

(3)…مومن بندے کے نیک عمل مقبول ہیں   ، البتہ ا س میں  ایمان کے ساتھ ساتھ دو اور چیزوں  کا ہونا بھی ضروری ہے (۱) نیک نیت۔ (۲) عمل کوحکم کے مطابق ادا کرنا ،  جیسا کہ ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا‘‘(بنی اسرائیل:۱۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں  جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔

(4)…بندے کے اعمال لکھنے کے لئے  اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں  کراماً کاتبین کو مقرر فرمایا ہے اور ان کا لکھنا چونکہ  اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے ا س لئے یہ لکھنا  اللہ تعالیٰ کا لکھنا ہے ،  اس سے معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں  کے بعض کام  اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو سکتے ہیں ۔

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ(۹۵)حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ(۹۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک کردیا کہ پھر لوٹ کر آئیں  ۔ یہاں  تک کہ جب کھولے جائیں  گے یاجوج و ماجوج اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا اس پر حرام ہے کہ لوٹ کرنہ آئیں ۔  یہاں  تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا اوروہ ہر بلندی سے تیزی سے اترتے ہوئے آئیں  گے۔

{وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ:اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا اس پر حرام ہے کہ لوٹ کرنہ آئیں ۔} مفسرین نے اس آیت کے مختلف معنی بیان کئے ہے (1) جس بستی کے لوگوں  کو ہم نے ہلاک کر دیا ان کا اپنے اَعمال کی تَلافی اور اپنے اَحوال کے تَدارُک کے لئے دنیا کی طرف واپس آنا ناممکن ہے۔ (2) جس بستی والوں  کو ہم نے ہلاک کرنے

کا فیصلہ کر دیا ان کا شرک اور کفر سے واپس آنا محال ہے۔ (3) جس بستی کے لوگوں  کو ہم نے ہلاک کر دیا ان کاقیامت کے دن زندہ ہونے کی طرف نہ لوٹنا ناممکن ہے یعنی وہ قطعاً قیامت کے دن لوٹ کر آئیں  گے۔( تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۵ ،  ۸ / ۱۸۵ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۵ ،  ص۷۲۶ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 235

Go To