Book Name:Sirat ul jinan jild 6

تعالیٰ کی بارگاہ میں  دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  مجھے بے اولاد نہ چھوڑ بلکہ وارث عطا فرما اور تو سب سے بہتر وارث ہے یعنی  اللہ تعالیٰ مخلوق کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے والا ہے۔ مُدَّعا یہ ہے کہ اگر تو مجھے وارث نہ دے تو بھی کچھ غم نہیں  کیونکہ تو بہتر وارث ہے۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۹ ،  ۳ / ۲۹۳ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۹ ،  ص۷۲۵ ،  ملتقطاً)

 حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا سے معلوم ہونے والی باتیں :

            اس سے دو باتیں  معلوم ہوئیں  ۔

(1)… دین کی خدمت کے لئے بیٹے کی دعا اور فرزند کی تمنا کرنی سنت ِنبی ہے۔

(2)… جیسی دعا مانگے ،  اسی قسم کے نام سے  اللہ تعالیٰ کو یاد کرے۔چونکہ ان کافرزند اُن کے کمال کا وارث ہونا تھا ،  لہٰذا رب عَزَّوَجَلَّ کو وارث کی صفت سے یاد فرمایا۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ٘-وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًاؕ-وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لئے اس کی بی بی سنواری بیشک وہ بھلے کاموں  میں  جلدی کرتے تھے اور ہمیں  پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لیے اس کی بیوی کو قابل بنا دیا۔ بیشک وہ نیکیوں میں  جلدی کرتے تھے اور ہمیں  بڑی رغبت سے اور بڑے ڈر سے پکارتے تھے اور ہمارے حضور دل سے جھکنے والے تھے۔

{فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ:تو ہم نے اس کی دعا قبول کی۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا قبول کی اور انہیں  سعادت مند فرزند حضرت یحییٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامعطا فرمایا اورحضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے لئے آپ کی زوجہ کا بانجھ پن ختم کر کے اسے اولاد پیدا کرنے کے قابل بنا دیا۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۰ ،  ص۷۲۵)

{اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ:بیشک وہ نیکیوں میں  جلدی کرتے تھے۔} یعنی جن انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ذکر ہوا ان کی دعائیں  اس وجہ سے قبول ہوئیں  کہ وہ نیکیوں میں  جلدی کرتے تھے اور  اللہ تعالیٰ کو بڑی رغبت سے اور بڑے ڈر سے پکارتے تھے اور  اللہ تعالیٰ کے حضور دل سے جھکنے والے تھے۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۰ ،  ص۷۲۵)

دعائیں  قبول ہونے والا بننے کے لئے تین کام کئے جائیں :

            اس سے بخوبی معلوم ہوا کہ جو شخص ایسا ہونا چاہے کہ اس کی ہر دعا مقبول ہو  ، اسے چاہئے کہ وہ یہ تین کام کرے (1) نیک کام کرنے میں  دیر نہ لگائے۔

(2) امید اور خوف کے درمیان رہتے ہوئے ہر وقت  اللہ تعالیٰ سے دعائیں  مانگے۔

(3) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  عاجزی اور اِنکساری کا اظہار کرے۔

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۹۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس عورت کوجس نے اپنی پارسائی نگاہ رکھی تو ہم نے اس میں  اپنی روح پھونکی اور اسے اور اس کے بیٹے کو سارے جہاں  کے لیے نشانی بنایا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس عورت کو (یاد کرو) جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں  اپنی خاص روح پھونکی اور اسے اور اس کے بیٹے کو سارے جہان والوں  کیلئے نشانی بنادیا۔

{وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا:اور اس عورت کو (یاد کرو) جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی ۔} یہاں  سے حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکا واقعہ بیان کیا جا رہاہے ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  اس مریم کو یاد کریں  جس نے پورے طور پر اپنی پارسائی کی حفاظت کی کہ کسی طرح کوئی بشر اس کی پارسائی کو چھو نہ سکا تو ہم نے اس میں  اپنی خاص روح پھونکی اور اس کے پیٹ میں  حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکوپیدا کیا اور اسے اور اس کے بیٹے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سارے جہان والوں  کیلئے اپنی قدرت کے کمال کی نشانی بنادیا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکے پیٹ سے بغیر باپ کے پیدا کیا۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۹۱ ،  ۳ / ۲۹۳)

 پاک دامنی عورت کے لئے بہترین وصف ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے بہترین وصف یہ ہے کہ وہ پاک دامن رہے اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرے۔ پاک دامن رہنے والی عورت کے بارے میں  حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ عورت جب اپنی پانچ نمازیں  پڑھے  ،  اپنے ماہ رمضان کا روزہ رکھے  ،  اپنی پارسائی کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازہ سے چاہے داخل ہوجائے۔( حلیۃ الاولیاء ،  ذکر طوائف من النساک والعباد ،  الربیع بن الصبیح ،  ۶ / ۳۳۶ ،  الحدیث: ۸۸۳۰)

            اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جو عورت اپنے رب سے ڈرے  ،  اپنی پارسائی کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں  دروازے کھول دئیے جائیں  گے اور ا س سے کہا جائے گا کہ تم جس دروازے سے چاہو جنت میں  داخل ہو جاؤ۔( معجم الاوسط ،  باب العین ،  من اسمہ: عبد الرحمٰن ،  ۳ / ۳۱۹ ،  الحدیث: ۴۷۱۵)

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﳲ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ(۹۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں  تمہارا رب ہوں  تو میری عبادت کرو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک یہ (اسلام) تمہارا دین ہے  ، ایک ہی دین ہے اور میں  تمہارا رب ہوں  تو تم میری عبادت کرو۔

{اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ:بیشک یہ (اسلام) تمہارا دین ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! بیشک یہ اسلام تمہارا دین ہے اور یہی تمام انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دین ہے ،  اس کے سوا جتنے اَدیان ہیں  وہ سب باطل ہیں  اور سب کو اسی دین اسلام پر قائم رہنا لازم ہے اور میں  تمہارا رب ہوں  ،  نہ میرے سوا کوئی دوسرا ربّ ہے نہ میرے دین کے سوا اور کوئی دین ہے تو تم صرف میری



Total Pages: 235

Go To