Book Name:Sirat ul jinan jild 6

عَنْہُمْاور اکثر مفسرین نے فرمایا کہ  اللہ تعالیٰ نے آپ کی تمام اولاد کو زندہ فرما دیا اور آپ کو اتنی ہی اولاد اور عنایت کی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا کی دوسری روایت میں  ہے کہ’’  اللہ تعالیٰ نے آپ کی زوجہ محترمہ کو دوبارہ جوانی عنایت کی اور ان کے ہاں  کثیر اولادیں  ہوئیں ۔

             اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر یہ عطا اپنی طرف سے ان پررحمت فرمانے اور عبادت گزاروں  کو نصیحت کرنے کیلئے فرمائی تاکہ وہ اس واقعہ سے آزمائشوں  اور مصیبتوں  پر صبر کرنے اور اس صبرکے عظیم ثواب سے باخبر ہوں  اور صبر کرکے اجر وثواب پائیں ۔(خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۴ ،  ۳ / ۲۹۱ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۴ ،  ص۷۲۴ ،  ملتقطاً)

مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب:

            آیت کی مناسبت سے یہاں  مصیبت پر صبر کرنے کے ثواب پر مشتمل 3 اَحادیث ملاحظہ ہوں :

(1)…حضر ت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ مومن مرد اور مومنہ عورت کو اس کی جان ،  اولاد اور مال کے بارے میں  آزمایاجاتارہے گایہاں  تک کہ وہ  اللہ تعالیٰ سے

اس حال میں  ملاقات کرے گا کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہ ہوگا۔( ترمذی ،  کتاب الزہد ،  باب ما جاء فی الصبر علی البلاء ،  ۴ / ۱۷۹ ،  الحدیث: ۲۴۰۷)

(2)…حضرت ابو ذررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’دنیا سے بے رغبتی صرف حلال کو حرام کر دینے اور مال کو ضائع کردینے کا ہی نام نہیں  ، بلکہ دنیا سے بے رغبتی یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ میں  ہے وہ اس سے زیادہ قابلِ اعتماد نہ ہو جو  اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور جب تجھے کوئی مصیبت پہنچے تواس کے ثواب (کے حصول) میں  زیادہ رغبت رکھے اور یہ تمنا ہو کہ کاش یہ میرے لئے باقی رہتی۔( ترمذی ،  کتاب الزہد ،  باب ما جاء فی الزہادۃ فی الدنیا ،  ۴ / ۱۵۲ ،  الحدیث: ۲۳۴۷)

(3)…سنن ابو داؤد میں  ہے ،  حضور پُر نورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’جب  اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بندے کے لیے کوئی درجہ مقدر ہوچکا ہو جہاں  تک یہ اپنے عمل سے نہیں  پہنچ سکتاتو  اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم یا مال یا اولاد کی آفت میں  مبتلا کردیتا ہے ،  پھر اسے اس پر صبر بھی دیتا ہے حتّٰی کہ وہ اس درجے تک پہنچ جاتا ہے جو  اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے مقدر ہوچکا۔( ابوداؤد ،  کتاب الجنائز ،  باب الامراض المکفّرۃ للذنوب ،  ۳ / ۲۴۶ ،  الحدیث: ۳۰۹۰)

             اللہ تعالیٰ ہمیں  آفات وبَلِیّات سے محفوظ فرمائے اور ہر آنے والی مصیبت پر صبر کر کے اجر وثواب کمانے کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِؕ-كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ(۸۵) وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَاؕ-اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو وہ سب صبر والے تھے ۔ اور انہیں  ہم نے اپنی رحمت میں  داخل کیا بیشک وہ ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں  میں  ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (یاد کرو) وہ سب صبر کرنے والے تھے۔ اور انہیں  ہم نے اپنی رحمت میں  داخل فرمایا ،  بیشک وہ ہمارے قربِ خاص کے لائق لوگوں  میں  سے ہیں ۔

{وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ:اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (یاد کرو)۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ حضرت اسماعیل  ،  حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو یاد کریں  ،  وہ سب عبادات کی مشقتوں  اور آفات و بَلِیّات کو برداشت کرنے پر کامل صبر کرنے والے تھے ۔ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے ذبح کئے جانے کے وقت صبر کیا ،  غیرآباد بیابان میں  ٹھہرنے پر صبر کیا اور اس کے صِلے میں   اللہ تعالیٰ نے انہیں  یہ مقام عطا کیا کہ ان کی نسل سے اپنے حبیب اور آخری نبی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ظاہر فرمایا۔ حضرت ادریس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے درس دینے پر صبر کیا اور حضرت ذوالکفل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دن کاروزہ رکھنے  ، رات کوقیام کرنے اور اپنے دورِ حکومت میں  لوگوں  کی طرف سے دی گئی تکلیفوں  پرصبرکیا۔

            اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص  اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اوراس کی نافرمانی سے بچنے پر صبر کرے  ،  یونہی جو شخص اپنے مال ، اہل اور جان میں  آنے والی کسی مصیبت پر صبر کرے تو وہ اپنے صبر کی مقدارکے مطابق نعمت ، رتبہ اور مقام پاتا ہے اور اسی حساب سے و ہ  اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حق دار ہوتا ہے۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۵ ،  ۵ / ۵۱۵)

حضرت ذوالکفل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی تھے یا نہیں ؟

             حضرت ذوالکفلعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت میں  اختلاف ہے  ، جمہور علماء کے نزدیک آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی نبی تھے۔( تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۵ ،  ۸ / ۱۷۷)

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں  بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں  گے تو اندھیریوں  میں  پکاراکوئی معبود نہیں  سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں  گے تو اس نے اندھیروں  میں  پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں  تو ہرعیب سے پاک ہے  ،  بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔

{وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔} یہاں  سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں  نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے ،  تو حضرت یونس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں  کے ساتھ بغض اور  اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے ،  لیکن آپ نے اس ہجرت میں   اللہ



Total Pages: 235

Go To