Book Name:Sirat ul jinan jild 6

پاس سے گزرے تو اس نے کہا : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اے حضرت داؤدعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹے! آپ کو  اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی بادشاہی عطا فرمائی ہے۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ بات سن کر فرمایا’’ مومن کے نامۂ اعمال میں  ایک تسبیح اُس سے بہتر ہے جو حضرت داؤد عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹے کو دیا گیا ہے کیونکہ جو کچھ اسے دیا گیا وہ چلا جائے گا جبکہ تسبیح باقی رہے گی۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب ذم الدنیا ،  ۳ / ۲۵۰-۲۵۱)

            اور ایک روایت میں  ہے کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک دن پر ندوں   ،  انسانوں   ،  جنوں  اور حیوانات سے فرمایا’’ نکلو !پس آپ دو لاکھ انسانوں  اور دولاکھ جنوں  میں  نکلے ،  آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اٹھایا گیا حتّٰی کہ آپ نے آسمانوں  میں  فرشتوں  کی تسبیح کی آواز سنی ،  پھر نیچے لایا گیا حتّٰی کہ آپ کے پاؤں  مبارک سمندر کو چھونے لگے۔ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک آواز سنی کہ اگر تمہارے آقا (حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے دل میں  ایک ذرے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو انہیں  جس قدر بلند کیا گیا ہے اس سے بھی زیادہ نیچے دھنسا دیا جاتا۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب ذمّ الکبر والعجب ،  الشطر الاول ،  بیان ذمّ الکبر ،  ۳ / ۴۱۳)

’’فلاں  کے حکم سے یہ کام ہوتا ہے‘‘ کہنا شرک نہیں :

            اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ یہ کہنا شرک نہیں  کہ فلاں  کے حکم سے یہ کام ہوتا ہے ،  جیسے یہاں   اللہ عَزَّوَجَلَّنے فرمایا کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے حکم سے ہوا چلتی تھی۔

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَۚ-وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ(۸۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور شیطانوں  میں  سے وہ جو اس کے لیے غوطہ لگاتے اور اس کے سوا اور کام کرتے اور ہم انہیں  روکے ہوئے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کچھ جنات کو (سلیمان کے تابع کردیا) جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے اور ہم ان جنات کو روکے ہوئے تھے۔

{وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ:اورکچھ جنات کو جو اس کے لیے غوطے لگاتے۔} یہاں  حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر کیا جانے والا دوسرا انعام بیان کیا گیا کہ  اللہ تعالیٰ نے کچھ جِنّات کو حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تابع کر دیا جو ان کے لیے غوطے لگاتے اور دریا کی گہرائی میں  داخل ہو کر سمندر کی تہ سے آپ کے لئے جواہرات نکال کر لاتے اور وہ اس کے علاوہ دوسرے کام جیسے عجیب و غریب مصنوعات تیار کرنا ،  عمارتیں   ،  محل  ،  برتن  ،  شیشے کی چیزیں   ،  صابن وغیرہ بنانا بھی کرتے اور ہم ان جنات کو روکے ہوئے تھے تاکہ وہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے حکم سے باہر نہ ہوں اور سرکشی و فساد نہ کریں ۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۲ ،  ۳ / ۲۸۶ ،  روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۲ ،  ۵ / ۵۱۱ ،  ملتقطاً)

            یاد رہے کہ یہاں  آیت میں  جنات سے کافر جنات مراد ہیں  مسلمان جنات مراد نہیں  ،  اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہاں  ’’شَیاطین‘‘ کا لفظ مذکور ہے (اور یہ لفظ کافر جنات کے لئے استعمال ہوتا ہے)دوسری دلیل یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’ہم ان جنات کو روکے ہوئے تھے تاکہ وہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے حکم کی خلاف ورزی اور فساد نہ کریں  ۔یہ بات کفارکی حالت کے مطابق ہے۔( تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۲ ،  ۸ / ۱۷۰ ،  ملخصاً)

 اللہ تعالٰی کے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان:

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے اپنی مشہور تفسیر ’’روح البیان‘‘ میں  ا س مقام پر بہت پیارا کلام نقل فرمایا ہے  ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤدعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے پہاڑوں   ، پرندوں   ، لوہے اور پتھروں  کو مُسَخّر کیا۔حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے لئے  ، ہوا ،  جن  ،  شَیاطین ، حیوانات ،  پرندے ،  معدنیات ، نباتات اور سورج کو مسخر کیا جبکہ ہمارے نبی اور اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لئے ہر چیز کو مسخر کر دیا ،  آپ کے لئے زمین کو لپیٹ دیاگیا حتّٰی کہ آپ نے  اس کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا۔آپ کی خاطرپوری زمین کو مسجد اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ، زمین کے خزانوں  کی چابیاں  آپ کو عطا کر دی گئیں  ، آپ کی انگلیوں  سے پانی کے چشمے جاری ہوئے ،  درخت آپ پر سلام بھیجتے ،  درخت آپ کااشارہ پاتے ہی اپنی جگہ سے اکھڑ کر آپ کی بارگاہ میں  حاضر ہو جاتے اور آپ کا اشارہ پا کر اپنی جگہ واپس لوٹ جاتے ،  جانور آپ کے ساتھ کلام کرتے اور آپ کی نبوت کی گواہی دیتے ،  آپ کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا ،  ڈوبا ہوا سورج آپ کا اشارہ پا کر پلٹ آیا ،  براق کو آپ کے لئے مسخر کر دیا گیا ،  ساتوں  آسمانوں  ،  جنت اور عرش و کرسی کو آپ نے عبور کیا حتّٰی کہ دو ہاتھ یا اس سے بھی کم فاصلے کے مقام پر فائز ہوئے۔ الغرض کائنات میں  جتنی مخلوقات موجود ہیں  سب کو  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے مسخر کر دیا۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۲ ،  ۵ / ۵۱۱-۵۱۲ ،  ملخصاً)

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ایوب کو جب اس نے ا پنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی اور تو سب مِہر والوں  سے بڑھ کر مِہر والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں  سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

{وَ اَیُّوْبَ:اور ایوب کو (یاد کرو)۔} حضرت ایوب عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت اسحاق عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد میں  سے ہیں  اور آپ کی والدہ حضرت لوط عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خاندان سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر طرح کی نعمتیں   عطا فرمائی تھیں ،  صورت کا حسن بھی ،  اولاد کی کثرت اور مال کی وسعت بھی عطا ہوئی تھی۔  اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکوآزمائش میں  مبتلا کیا ،  چنانچہ آ پ کی اولاد مکان گرنے سے دب کر مر گئی ،  تمام جانور جس میں  ہزارہا اونٹ اور ہزارہا بکریاں  تھیں   ، سب مر گئے ۔ تمام کھیتیاں  اور باغات برباد ہو گئے حتّٰی کہ کچھ بھی باقی نہ رہا ،  اور جب آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان چیزوں  کے ہلاک اور ضائع ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو آپ  اللہ تعالیٰ کی حمد بجا لاتے اور فرماتے تھے’’ میرا کیا ہے! جس کا تھا اس نے لیا ،  جب تک ا س نے مجھے دے رکھا تھا میرے پاس تھا ،  جب ا س نے چاہا لے لیا۔ اس کا شکر ادا ہو ہی نہیں  ہو سکتا اور میں  اس کی مرضی پر راضی ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بیمار ہوگئے  



Total Pages: 235

Go To