Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں  کے لئے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں  ختم نہ ہوں  گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرمادو: اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی ہو جاتا تو ضرور سمندر ختم ہوجاتااور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوتیں ،  اگرچہ ہم اس کی مدد کیلئے اُسی سمندر جیسا اور لے آتے۔

{قُلْ:تم فرمادو۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر  اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کے کلمات لکھے جائیں  اور اُن کے لئے تمام سمندروں  کا پانی سیاہی بنادیا جائے اور تمام مخلوق لکھے تو وہ کلمات ختم نہ ہوں  اور یہ تمام پانی ختم ہوجائے اور اتنا ہی اور بھی ختم ہوجائے ۔ مُدَّعا یہ ہے کہ اس کے علم و حکمت کی کوئی انتہاء نہیں ۔ شانِ نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَافرماتے ہیں  کہ یہودیوں  نے کہا: اے محمد! (صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) آپ کا خیال ہے کہ ہمیں  حکمت دی گئی اور آپ کی کتاب میں  ہے کہ جسے حکمت دی گئی اُسے خیرِ کثیر دی گئی ،  پھر آپ کیسے فرماتے ہیں  کہ تمہیں  تھوڑا علم دیا گیا ہے! اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔ ایک قول یہ ہے کہ جب آیت ِکریمہ ’’وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا‘‘ نازل ہوئی تو یہودیوں  نے کہا کہ ہمیں  توریت کا علم دیا گیا اور اس میں  ہر شے کا علم ہے ،  اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ مدعا یہ ہے کہ ہر شے کا علم بھی علمِ الہٰی کے حضور قلیل ہے اور یہ  اللہ تعالیٰ کے علم سے اتنی بھی نسبت نہیں  رکھتا جتنی ایک قطرے کو سمندر سے ہو۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۹ ،  ۳ / ۲۲۷-۲۲۸)

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠(۱۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو فرماؤ ظاہر صورتِ بشری میں  تو میں  تم جیسا ہوں  مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں  کسی کو شریک نہ کرے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: میں ( ظاہراً) تمہاری طرح ایک بشر ہوں  مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہےتو جو اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں  کسی کو شریک نہ کرے ۔

{قُلْ:تم فرماؤ۔} حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  ’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو عاجزی کی تعلیم دی اور انہیں  یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں  بھی تمہاری طرح آدمی ہوں  (یعنی جیسے تم انسان ہو اسی طرح میں  بھی انسان ہوں ) البتہ مجھے (تم پر) یہ خصوصیت حاصل ہے کہ میری طرف وحی آتی ہے اور وحی کے سبب  اللہ تعالیٰ نے مجھے اعلیٰ مقام عطا کیا ہے۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۱۰ ،  ۳ / ۲۲۸)

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’(کافر) انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنا سا بشر مانتے تھے اس لئے ان کی رسالت سے منکر تھے کہ

’’مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاۙ-وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍۙ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ‘‘(یس:۱۵)

تم تو ہمارے جیسے آدمی ہواور رحمٰن نے کوئی چیز نہیں  اتاری ،  تم صرف جھوٹ بول رہے ہو۔

واقعی جب ان خُبَثاء کے نزدیک وحی ِنبوت باطل تھی تو انہیں  اپنی اسی بشریت کے سواکیا نظر آتا؟لیکن اِن سے زیادہ دل کے اندھے وہ (ہیں  جو) کہ وحی ونبوت کا اقرار کریں  اور پھر انہیں  ( یعنی انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو) اپنا ہی سا بشر جانیں  ،  زید کو’’قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ‘‘ سوجھا اور ’’ یُوْحٰۤى اِلَیَّ‘‘ نہ سوجھا جو غیر متناہی فرق ظاہر کرتا ہے ،  زید نے اتناہی ٹکڑا لیا جوکافر لیتے تھے ،  انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بشریت جبریل عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مَلکیت سے اعلیٰ ہے ،  وہ ظاہری صورت میں  ظاہر بینوں  کی آنکھوں  میں  بشریت رکھتے ہیں  جس سے مقصود خلق کا اِن سے اُنس حاصل کرنا اور ان سے فیض پانا (ہے) ولہٰذا ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ‘‘(انعام)

اور اگرہم فرشتے کو رسول کرکے بھیجتے تو ضرور اسے مردہی کی شکل میں  بھیجتے اور ضرور انھیں  اسی شبہ میں  رکھتے جس دھوکے میں  اب ہیں ۔

                (اس سے) ظاہر ہوا کہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کی ظاہری صورت دیکھ کر انھیں  اوروں  کی مثل سمجھنا ان کی بشریت کو اپنا سا جاننا ،  ظاہر بینوں  (اور) کور باطنوں  کا دھوکا ہے (اور) یہ شیطان کے دھوکے میں  پڑے ہیں۔۔۔ ان کا کھانا پینا سونا یہ افعالِ بشری اس لئے نہیں  کہ وہ ان کےمحتاج ہیں  ،  حاشا (یعنی ہر گز نہیں   ،  آپ تو ارشاد فرماتے ہیں ) ’’لَسْتُ کَاَحَدِکُمْ اَنِّیْ اَبِیْتُ عِنْدَ رَبِّیْ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِیْ‘‘ میں  تمہاری طرح نہیں  ہوں  میں  اپنے رب کے ہاں  رات بسرکرتاہوں  وہ مجھے کھلاتابھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ (ت) (بلکہ) ان کے یہ افعال بھی اقامتِ سنت وتعلیمِ امت کے لئے تھے کہ ہر بات میں  طریقۂ محمودہ لوگوں  کو عملی طور سے دکھائیں   ، جیسے ان کا سَہوونِسیان ۔حدیث میں  ہے ’’اِنِّیْ لَااَنْسیٰ وَلٰکِنْ اُنْسیٰ لِیَسْتَنَّ بِیْ ‘‘میں  بھولتا نہیں  بھلایا جاتا ہوں  تاکہ حالتِ سہو میں  امت کوطریقۂ سنت معلوم ہو۔ عمرو نے سچ کہا کہ یہ قول (اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ) حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَسَلَّمَنے اپنی طرف سے نہ فرمایا بلکہ اس کے فرمانے پر مامور ہوئے ،  جس کی حکمت تعلیمِ  تواضع ،  وتانیسِ اُمت ،  و سدِّغُلُوِّنصرانیت (یعنی عاجزی کی تعلیم ، امت کے لئے اُنسیت کا حصول اور عیسائی جیسے اپنے نبی کی شان بیان کرنے میں  حد سے بڑھ گئے مسلمانوں  کو اس سے روکنا) ہے ،  اول  ، دوم ظاہر ،  اور سوم یہ کہ مسیح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی امت نے ان کے فضائل پر خدا اور خدا کا بیٹا کہا  ، پھر فضائل ِمحمدیہ عَلٰی صَاحِبِہَا اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّحِیَّۃ کی عظمت ِشان کا اندازہ کون کرسکتا ہے ،  یہاں  اس غلو کے سدِّباب (روکنے) کے لئے تعلیم فرمائی گئی کہ کہو’’ میں  تم جیسا بشرہوں  خدا یا خدا کابیٹا نہیں  ،  ہاں  ’’ یُوْحِیْۤ اِلَیَّ‘‘ رسول ہوں  ،  دفعِ اِفراطِ نصرانیت کے لئے پہلا کلمہ تھا اور دفعِ تفریط ِابلیسیَّت کے لئے دوسرا کلمہ ،  اسی کی نظیر ہے جو دوسری جگہ ارشادہوا: ’’قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا‘‘(بنی اسرائیل:۹۳) تم فرمادو پاکی ہے میرے رب کومیں  خدا نہیں ،  میں  تو ا نسان رسول ہوں ۔

            اِنہیں  دونوں  کے دفع کوکلمہ ٔشہادت میں  دونوں  لفظِ کریم جمع فرمائے گئے ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہْ‘‘ میں  اعلان کرتا ہوں  کہ حضرت محمدصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَسَلَّمَ  اللہ کے



Total Pages: 235

Go To