Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کے مقابلے میں  اس کی مدد کی جنہوں  نے ہماری آیتوں  کی تکذیب کی  ، بیشک وہ برے لوگ تھے تو ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔

{وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ:اورنوح کوجب پہلے اس نے ہمیں  پکارا۔} یہ اس سورت میں  بیان کئے گئے واقعات میں  سے چوتھا واقعہ ہے  ، چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کویاد کریں  جب انہوں  نے حضرت ابراہیم اور حضرت لوط عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے ہمیں  پکارا اور ہم سے اپنی قوم پر عذاب نازل کرنے کی دعا کی تو ہم نے اس کی دعا قبول فرما لی اور اسے اور کشتی میں  موجود اس کے گھر والوں  کو طوفان سے اور سرکش لوگوں  کے جھٹلانے سے نجات دی اور ہم نے ان لوگوں  کے مقابلے میں  اس کی مدد کی جنہوں  نے ہماری ان آیتوں  کی تکذیب کی جو حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی رسالت پر دلالت کرتی تھیں  ، بیشک وہ برے لوگ تھے ،  تو ہم نے ان سب کو غرق کر دیا کیونکہ جو قوم جھٹلانے پر قائم رہے اور شر ،  فساد میں  ہی مشغول رہے تو اسے  اللہ تعالیٰ ہلاک کر دیتا ہے۔(جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۶-۷۷ ،  ص۲۷۵ ،  روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۶-۷۷ ،  ۵ / ۵۰۳ ،  ملتقطاً)

آیت’’ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ‘‘سے دعا کے بارے میں  معلوم ہونے والے دو اَحکام :

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)…جب دعا دل کے اخلاص کے ساتھ ہو جیسے انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِم کی دعا ،  تو وہ قبول ہوتی ہے ۔لہٰذا جب بھی دعا مانگیں  تو دل کے اخلاص اور پوری توجہ کے ساتھ مانگیں  تاکہ اسے قبولیت حاصل ہو۔

(2)…دعا نجات کے اسباب میں  سے ایک سبب ہے اور اسے اختیار کرنا نجات حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِۚ-وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ(۷۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے جب رات کو اس میں  کچھ لوگوں  کی بکریاں  چھوٹیں  اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب وہ دونوں  کھیتی کے بارے میں  فیصلہ کررہے تھے جب رات کو اس میں  کچھ لوگوں  کی بکریاں  چھوٹ گئیں  اور ہم ان کے فیصلے کا مشاہدہ کر رہے تھے۔

{وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ:اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو۔} یہاں  سے پانچواں  واقعہ بیان کیا جا رہا ہے جس میں  حضرت داؤد اور حضرت سلیمان عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ذکر ہے ،  چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کے پہلے حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وہ واقعہ یاد کریں  جب وہ دونوں  کھیتی کے بارے میں  فیصلہ کررہے تھے۔ جب رات کے وقت کچھ لوگوں  کی بکریاں  کھیتی میں  چھوٹ گئیں  ،  ان کے ساتھ کوئی چَرانے والا نہ تھا اور وہ کھیتی کھا گئیں  تو یہ مقدمہ حضرت داؤد عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے پیش ہوا ،  آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے تجویز کی کہ بکریاں  کھیتی والے کو دے دی جائیں  کیونکہ بکریوں  کی قیمت کھیتی کے نقصان کے برابر ہے اور ہم ان کے فیصلے کا مشاہدہ کر رہے تھے اور ہم نے وہ معاملہ حضرت سلیمان

عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سمجھا دیا ۔جب یہ معاملہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ فریقین کے لئے اس سے زیادہ آسانی کی شکل بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر شریف گیارہ سال کی تھی ۔ حضرت داؤد عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے آپ سے فرمایا کہ وہ صورت بیا ن کریں  ،  چنانچہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ تجویز پیش کی کہ بکری والا کاشت کرے اور جب تک کھیتی اس حالت کو پہنچے جس حالت میں  بکریوں  نے کھائی ہے اس وقت تک کھیتی والا بکریوں  کے دودھ وغیرہ سے نفع اٹھائے اور کھیتی اس حالت پر پہنچ جانے کے بعد کھیتی والے کو کھیتی دے دی جائے  ،  بکری والے کو اس کی بکریاں  واپس کر دی جائیں  ۔ یہ تجویز حضرت داؤد عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے پسند فرمائی ۔

            یاد رہے کہ اس معاملہ میں  یہ دونوں  حکم اجتہادی تھے اور ان کی شریعت کے مطابق تھے ۔ ہماری شریعت میں  حکم یہ ہے کہ اگر چَرانے والا ساتھ نہ ہو تو جانور جو نقصانات کرے اس کا ضمان لازم نہیں  ۔امام مجاہدرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کا قول ہے کہ حضرت داؤدعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جو فیصلہ کیا تھا وہ اس مسئلہ کا حکم تھا اور حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جو تجویز فرمائی یہ صلح کی صورت تھی۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۹ ،  ص۷۲۳)

کھیتی والے واقعے سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس واقعے سے6 مسئلے معلوم ہوئے :

(1)… اِجتہاد برحق ہے اور اجتہاد کی اہلیت رکھنے والے کو اجتہاد کرنا چاہیے۔

(2)… نبی عَلَیْہِ  السَّلَام بھی اجتہاد کرسکتے ہیں  کیونکہ ان دونوں  حضرات کے یہ حکم اجتہاد سے تھے نہ کہ وحی سے ۔

(3)… نبی عَلَیْہِ  السَّلَامکے اجتہاد میں  خطا بھی ہوسکتی ہے تو غیر نبی میں  بدرجہ اَولیٰ غلطی کا اِحتمال ہے۔

(4)… خطا ہونے پر اجتہاد کرنے والا گنہگار نہیں  ہوگا۔

(5)… ایک اجتہاد وسرے اجتہاد سے ٹوٹ سکتا ہے البتہ نَص اِجتہاد سے نہیں  ٹوٹ سکتی۔

(6)… نبی عَلَیْہِ  السَّلَامخطاءِ اِجتہادی پر قائم نہیں  رہتے۔  اللہ تعالیٰ اصلاح فرما دیتا ہے۔

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَۚ-وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا٘-وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَؕ-وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ(۷۹)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھا دیا اور دونوں  کو حکومت اور علم عطا کیا اور داؤد کے ساتھ پہاڑ مسخر فرما دئیے کہ تسبیح کرتے اور پرندے اور یہ ہمارے کام تھے۔

 



Total Pages: 235

Go To