Book Name:Sirat ul jinan jild 6

عبادت کرنے والے تھے۔

{وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىٕمَّةً:اور ہم نے انہیں  امام بنایا۔} ارشاد فرمایا :ہم نے انہیں  امام بنایا کہ بھلائی کے کاموں  میں  ان کی پیروی کی جاتی ہے اور وہ ہمارے حکم سے لوگوں  کوہمارے دین کی طرف بلاتے ہیں  اور ہم نے ان کی طرف اچھے کام کرنے  ،  نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی کیونکہ نماز بدنی عبادات میں  سب سے افضل ہے اور زکوٰۃ مالی عبادات میں  سب سے افضل ہے اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۳ ،  ۳ / ۲۸۳)

انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر زکوٰۃ فرض نہیں :

            یاد رہے کہ انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو امتیوں  پر یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کے مال پر زکوٰۃ فرض نہیں  ہوتی۔چنانچہ علامہ احمد طحطاوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ۔انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر زکوٰۃ واجب نہیں  کیونکہ ان کا سب کچھ  اللہ تعالیٰ کی ملک ہے اور جو کچھ ان کے قبضے میں  ہے وہ امانت ہے اور یہ اسے خرچ کرنے کے مقامات پر خرچ کرتے ہیں  اور غیر محل میں  خرچ کرنے سے رکتے ہیں  اور ا س لئے کہ زکوٰۃ اس کے لئے پاکی ہے جو گناہوں  کی گندگی سے پاک ہونا چاہے جبکہ انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہونے کی وجہ سے گناہوں  کی گندگی سے پاک ہیں۔(حاشیہ الطحطاوی علی المراقی ،  کتاب الزکاۃ ،  ص۷۱۳)

            علامہ ابنِ عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  دُرِّ مختار کی اس عبارت’’اس پر اجماع ہے کہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر زکوٰۃ واجب نہیں  ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں  ’’ کیونکہ زکوٰۃ اس کے لئے پاکی ہے جو گندگی( یعنی مال کے میل) سے پاک ہونا چاہے جبکہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس سے بری ہیں  ۔ (یعنی ان کے مال ابتدا سے ہی میل سے پاک ہیں ۔)( رد المحتار علی الدر المختار ،  کتاب الزکاۃ ،  ۳ / ۲۰۲)

             لہٰذا جن آیات میں  انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو زکوٰۃ دینے کا فرمایا گیا ان سے یا تو تزکیۂ نفس یعنی نفس کو ان چیزوں  سے پاک رکھنا مراد ہے جو شانِ نبوت کے خلاف ہیں  یاان سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی امت کو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیں ۔

حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر  اللہ تعالٰی کے احسانات:

            خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پرطرح طرح کے احسانات فرمائے  ،  پہلا تو یہ کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بچپن سے ہی رشد وہدایت سے نوازا۔ دوسرا یہ کہ ظالم وجابر بادشاہ کے مقابلہ میں  آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو غلبہ عطا فرمایا۔ تیسرا یہ کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے شہر کی طرف ہجرت کروائی  ، چوتھا یہ کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کونیک صالح اولاد عطا کی اور پانچواں  یہ کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد کوبھی نبوت عطاکی ۔

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓىٕثَؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ(۷۴) وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَاؕ-اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠(۷۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور لوط کو ہم نے حکومت اور علم دیا اور اسے اس بستی سے نجات بخشی جو گندے کام کرتی تھی بیشک وہ برے لوگ بے حکم تھے۔ اور ہم نے اسے اپنی رحمت میں  داخل کیا ،  بیشک وہ ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں  میں  ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور لوط کو ہم نے حکومت اور علم دیا اور اسے اس بستی سے نجات بخشی جو گندے کام کرتی تھی بیشک وہ برے لوگ نافرمان تھے۔ اور ہم نے اسے اپنی رحمت میں  داخل فرمایا  ، بیشک وہ ہمارے خاص مقربین میں  سے تھا۔

{وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا:اور لوط کو ہم نے حکومت اور علم دیا ۔} یہاں  سے تیسرا واقعہ حضرت لوط عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بیان فرمایا گیا اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر کئے گئے احسانات کاذکر کرنے کے بعد یہاں  حضرت لوط عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر کئے جانے والے احسانات کا تذکرہ کیا جارہا ہے  ،  چنانچہ پہلا احسان یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حکومت عطا فرمائی ۔بعض مفسرین کے نزدیک یہاں  ’’حکم ‘‘سے مراد حکمت یا نبوت ہے۔ اگر حکومت والا معنی مراد ہو تو اس کا مطلب لوگوں  کے باہمی جھگڑوں  میں  حق کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ دوسرا احسان یہ ہے کہ انہیں  ان کی شان کے لائق علم عطا کیا گیا۔تیسرا احسان یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے انہیں  اس بستی سے نجات بخشی جہاں  کے رہنے والے لواطت وغیرہ گندے کام کیا کرتے تھے کیونکہ وہ برے لوگ اور نافرمان تھے۔( تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۴ ،  ۸ / ۱۶۲ ،  بیضاوی ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۴ ،  ۴ / ۱۰۱ ،  جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۴ ،  ص۲۷۵ ،  ملتقطاً)

            اس سے معلوم ہوا کہ برے پڑوس سے نجات مل جانا  اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور ا س کا انتہائی عظیم احسان ہے۔  اللہ تعالیٰ ہمیں  نیک ساتھی اور پرہیزگار ہم نشین عطا فرمائے اور برے ساتھیوں  سے محفوظ فرمائے ، اٰمین۔

{وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا:اور ہم نے اسے اپنی رحمت میں  داخل فرمایا۔} یہاں  حضرت لوط عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر کئے گئے چوتھے احسان کا ذکر فرمایاگیاکہ  اللہ تعالیٰ نے انہیں  اپنی خاص رحمت میں  داخل فرمایا اوربیشک وہ  اللہ تعالیٰ کے خاص مقرب بندوں  میں  سے تھے۔

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ(۷۶) وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور نوح کو جب اس سے پہلے اس نے ہمیں  پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں  کو بڑی سختی سے نجات دی۔ اور ہم نے ان لوگوں  پر اس کو مدد دی جنہوں  نے ہماری آیتیں  جھٹلائیں  بیشک وہ برے لوگ تھے تو ہم نے ان سب کو ڈبو دیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور نوح کو (یاد کرو) جب اس سے پہلے اس نے ہمیں  پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں  کو بڑے غم سے نجات دی۔ اور ہم نے ان لوگوں  



Total Pages: 235

Go To