Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اور طریقے میں  کیا بہار ہے اور کیسے لطف آتے ہیں   ، چنانچہ جب وہ میلے کا دن آیا اور آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے میلے میں  چلنے کو کہا گیا تو آپ عذر بیان کر کے رہ گئے اور میلے میں  نہ گئے جبکہ وہ لوگ روانہ ہو گئے۔ جب ان کے باقی ماندہ اور کمزور لوگ جو آہستہ آہستہ جا رہے تھے گزرے تو آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا ’’ میں  تمہارے بتوں  کا برا چاہوں  گا۔ آپ کی اس بات کو بعض لوگوں  نے سن لیا۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بت خانے کی طرف لوٹے توآپ نے ان سب بتوں  کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا ،  البتہ ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا اور کلہاڑا اس کے کندھے پر رکھ دیا کہ شاید وہ ا س کی طرف رجوع کریں ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اس بڑے بت سے پوچھیں  کہ ان چھوٹے بتوں  کا کیا حال ہے؟ یہ کیوں  ٹوٹے ہیں  اور کلہاڑا تیری گردن پر کیسے رکھا ہے؟ اور یوں  اُن پر اِس بڑے بت کاعاجز ہونا ظاہر ہو اور انہیں  ہوش آئے کہ ایسے عاجز خدا نہیں  ہو سکتے ۔یا یہ معنی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے دریافت کریں  اور آپ کو حجت قائم کرنے کا موقع ملے ۔چنانچہ جب قوم کے لو گ شام کو واپس ہوئے اور بت خانے میں  پہنچے اور انہوں  نے دیکھا کہ بت ٹوٹے پڑے ہیں  تو کہنے لگے: کس نے ہمارے خداؤں  کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟ بیشک وہ یقیناظالم ہے۔ کچھ لوگ کہنے لگے: ہم نے ایک جوان کو انہیں  برا کہتے ہوئے سنا ہے جس کو ابراہیم کہاجاتا ہے ،  ہمارا گمان یہ ہے کہ اسی نے ایسا کیا ہو گا۔ جب یہ خبر ظالم و جابر نمرود اوراس کے وزیروں  تک پہنچی تو وہ کہنے لگے: اسے لوگوں  کے سامنے لے آؤ شاید لوگ گواہی دیں  کہ یہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہی کا فعل ہے یا ان سے بتوں  کے بارے میں  ایسا کلام سنا گیا ہے ۔اس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ گواہی قائم ہو جائے تو وہ آپ کے درپے ہوں  ۔ چنانچہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بلائے گئے اور ان لوگوں  نے کہا: اے ابراہیم! کیا تم نے ہمارے معبودوں  کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟ آپ نے اس بات کا تو کچھ جواب نہ دیا اور مناظرانہ شان سے تعریض کے طور پر ایک عجیب و غریب حجت قائم کی اور فرمایا: ان کے اس بڑے نے اس غصے سے ایسا کیا ہوگا کہ اس کے ہوتے تم اس کے چھوٹوں  کو پوجتے ہو  ،  اس کے کندھے پر کلہاڑا ہونے سے ایسا ہی قیاس کیا جا سکتا ہے ،  مجھ سے کیا پوچھتے ہو! تم ان سے پوچھ لو ،  اگر یہ بولتے ہیں  تو خود بتائیں  کہ ان کے ساتھ یہ کس نے کیا ؟اس سے مقصود یہ تھا کہ قوم اس بات پرغور کرے کہ جو بول نہیں  سکتا ،  جو کچھ کر نہیں  سکتا وہ خدا نہیں  ہو سکتا اور اس کی خدائی کا اعتقاد باطل ہے۔ چنانچہ جب آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ فرمایا تو وہ غور کرنے لگے اور سمجھ گئے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حق پر ہیں  اور اپنے آپ سے کہنے لگے: بیشک تم خود ہی ظالم ہوجو ایسے مجبوروں  اور بے اختیاروں  کو پوجتے ہو  ، جو اپنے کاندھے سے کلہاڑا نہ ہٹا سکے وہ اپنے پجاری کو مصیبت سے کیا بچا سکے اور اس کے کیا کام آ سکے گا ۔(مگر اتنا سوچ لینا ایمان کے لئے کافی نہیں  جب تک اقرار و اعتراف بھی نہ ہو ،  اس لئے وہ مشرک ہی رہے۔)(خازن ، الانبیاء ، تحت الآیۃ: ۵۷-۶۴ ،  ۳ / ۲۸۰-۲۸۱ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۵۷-۶۴ ،  ص۷۱۹-۷۲۰ ،  ملتقطاً)

{ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ:پھر وہ اپنے سروں  کے بل اوندھے کردئیے گئے ۔} یعنی کلمۂ حق کہنے کے بعد پھر ان  کی بدبختی ان کے سروں  پر سوار ہوئی اور وہ کفر کی طرف پلٹے اور باطل جھگڑا شروع کر دیا اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہنے لگے :تمہیں  خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں  ہیں  تو ہم ان سے کیسے پوچھیں  اور اے ابراہیم! تم ہمیں  ان سے پوچھنے کا کیسے حکم دیتے ہو۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۶۵ ،  ۳ / ۲۸۱ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۶۵ ،  ص۷۲۰ ،  ملتقطاً)

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ(۶۶) اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۶۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا تو کیا  اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں  نفع دے اور نہ نقصان پہنچائے ۔ تف ہے تم پر اور ان بتوں  پر جن کو  اللہ کے سوا پوجتے ہو تو کیا تمہیں  عقل نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ابراہیم نے جواب دیا : تو کیا تم  اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں  نفع دیتا ہے اور نہ نقصان پہنچاتا ہے۔ تم پر اور  اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان پر افسوس ہے ۔تو کیا تمہیں  عقل نہیں  ؟

{قَالَ:فرمایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں  جواب دیا : تو کیا تم  اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہو جس کا حال یہ ہے کہ اگر تم اسے پوجو تو وہ تمہیں  نفع نہیں  دیتا اور اگر اسے پوجنا مَوقُوف کر دو تو وہ تمہیں  نقصان نہیں  پہنچاتا۔ تم پر اور  اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان پر افسوس ہے  ، تو کیا تمہیں  عقل نہیں  کہ اتنی سی بات بھی سمجھ سکو کہ یہ بت کسی طرح پوجنے کے قابل نہیں ۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۶۶-۶۷ ،  ۳ / ۲۸۱)

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ(۶۸)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے ان کو جلادو اور اپنے خداؤں  کی مدد کرو اگر تمہیں  کرنا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بولے: ان کو جلادو اور اپنے خداؤں  کی مدد کرو اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔

{قَالُوْا حَرِّقُوْهُ:کہا: ان کو جلادو۔} جب حجت تمام ہو گئی اور وہ لوگ جواب سے عاجز آگئے تو کہنے لگے: اگر تم اپنے خداؤں  کی کچھ مدد کرنا چاہ رہے ہو تو ان کا انتقام لے کر ان کی مدد کرو اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو جلا دو کیونکہ یہ بڑی ہولناک سزا ہے۔ چنانچہ نمرود اور اس کی قوم حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جلا ڈالنے پر متفق ہو گئی اور انہوں  نے آپ کو ایک مکان میں  قید کر دیا اور کوثیٰ بستی میں  ایک عمارت بنائی اور ایک مہینہ تک پوری کوشش کر کے ہرقسم کی لکڑیاں  جمع کیں  اور ایک عظیم آ گ جلائی جس کی تپش سے ہوا میں  پرواز کرنے والے پرندے جل جاتے تھے اور ایک منجنیق ( یعنی پتھر پھینکنے والی مشین) کھڑی کی اور آپ کو باندھ کر اس میں  رکھااور آگ میں  پھینک دیا۔ اس وقت آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زبانِ مبارک پر تھا حَسْبِیَ  اللہ وَ نِعْمَ الْوَکِیْل ،  یعنی مجھے  اللہ کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے۔ جبریل ِامین عَلَیْہِ  السَّلَامنے آپ سے عرض کی: کیا کچھ کام ہے ؟ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا ’’تم سے نہیں ۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَام نے عرض کی: تو اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّسے سوال کیجئے۔آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا’’سوال کرنے سے اس کا میرے حال کو جاننا میرے لئے کافی ہے۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۶۸ ،  ص۷۲۱)

            حضرت ابراہیمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ سمجھا تھا کہ امتحان کے وقت دعا کرنی بھی مناسب نہیں  کہ کہیں  یہ بے صبری میں  شمار نہ ہوجائے۔ یہ انہی کامرتبہ تھا ،  ہمیں  بہرحال مصیبت و بلا کے وقت دعا کرنے کا حکم ہے۔

 



Total Pages: 235

Go To