Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: کہا بے شک تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی گمراہی میں  ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرمایا: بے شک تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی گمراہی میں  ہو۔

{قَالَ:فرمایا۔} قوم کا جواب سن کر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان سے فرمایاکہ تم اورتمہارے باپ دادا جنہوں  نے یہ باطل طریقہ ایجادکیاسب کھلی گمراہی میں  ہو اور کسی عقل مند پر تمہارے اس طریقے کا گمراہی ہونا مخفی نہیں  ہے۔(ابو سعود ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ۳ / ۵۲۳)

دینی معاملے میں  کسی کی رعایت نہیں :

            اس سے معلوم ہوا کہ دینی معاملے میں  کسی کی رعایت نہیں  بلکہ حق بات بہرحال بیان کرنی چاہیے  ، ہاں  کہاں  کس حکمت ِ عملی کے مطابق بات کرنی چاہیے  ،  سختی سے یا نرمی سے تو یہ بات مبلغ کو معلوم ہونی چاہیے ۔

شریعت کے خلاف کام میں  کثرت ِرائے معتبر نہیں :

            اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خلافِ شرع کام میں  کثرتِ رائے کا کوئی اعتبار نہیں  ۔ ہمیشہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے ساتھی قلیل ہوتے اور دشمنانِ اسلام اکثریت میں  ہوتے تھے لیکن وہ اکثریت جھوٹی تھی اور انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سچے تھے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ(۵۵)قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ ﳲ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ(۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیلتے ہو ۔ کہا بلکہ تمہارا رب وہ ہے جو رب ہے آسمانوں  اور زمین کا جس نے انہیں  پیدا کیا اور میں  اس پر گواہوں  میں  سے ہوں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بولے: کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیل رہے ہو؟ فرمایا: بلکہ تمہارا رب وہ ہے جو آسمانوں  اور زمین کا رب ہے جس نے انہیں  پیدا کیا اور میں  اس پر گواہوں  میں  سے ہوں ۔

{قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ:بولے: کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کوچونکہ اپنے طریقے کا گمراہی ہونا بہت ہی بعید معلوم ہوتا تھا اور وہ اس کا انکار کرنا بہت بڑی بات جانتے تھے ،  اس لئے انہوں  نے حضرت ابراہیمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے یہ کہا کہ کیا آپ یہ بات واقعی طور پر ہمیں  بتا رہے ہیں  یا یونہی ہنسی مذاق کے طور پر فرما رہے ہیں ؟ اس کے جواب میں  آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے  اللہ تعالیٰ کی رَبُوبِیَّت کا بیان کرکے ظاہر فرما دیا کہ آپ کھیل کے طور پرکلام نہیں  کررہے بلکہ حق کا اظہار فرما رہے ہیں  چنانچہ آپ نے فرمایا: تمہاری عبادت کے مستحق یہ بناوٹی مجسمے نہیں  بلکہ تمہاری عبادت کا مستحق وہ ہے جو آسمانوں  اور زمین کا رب ہے جس نے انہیں  کسی سابقہ مثال کے بغیرپیدا کیا ،  تو پھر تم ان چیزوں  کی عبادت کیسے کرتے ہو جو مخلوقات میں  داخل ہیں  اور میں  نے تم سے جو بات کہی کہ تمہارا رب صرف وہ ہے جو آسمانوں  اور زمین کا رب ہے ،  میں  اسے دلیل کے ساتھ ثابت کر سکتا ہوں۔(مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۵۵-۵۶ ،  ص۷۱۹ ،  روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۵۵-۵۶ ،  ۵ / ۴۹۲ ،  ملتقطاً)

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ(۵۷) فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ(۵۸) قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۹) قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ(۶۰) قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ(۶۱) قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ(۶۲) قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ ﳓ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْــٴَـلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ(۶۳)فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ(۶۴) ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْۚ-لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ(۶۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور مجھے  اللہ کی قسم ہے میں  تمہارے بتوں  کا برا چاہوں  گا بعد اس کے کہ تم پھر جاؤ پیٹھ دے کر۔ تو ان سب کو چورا کردیا مگر ایک کو جو ان سب کا بڑا تھا کہ شاید وہ اس سے کچھ پوچھیں  ۔ بولے کس نے ہمارے خداؤں  کے ساتھ یہ کام کیا بیشک وہ ظالم ہے۔ ان میں  کے کچھ بولے ہم نے ایک جوان کو انہیں  برا کہتے سنا جسے ابراہیم کہتے ہیں ۔ بولے تو اسے لوگوں  کے سامنے لاؤ شاید وہ گواہی دیں ۔ بولے کیا تم نے ہمارے خداؤں  کے ساتھ یہ کام کیا اے ابراہیم ۔ فرمایا بلکہ ان کے اس بڑے نے کیا ہوگا تو ان سے پوچھو اگر بولتے ہوں  ۔ تو اپنے جی کی طرف پلٹے اور بولے بیشک تمہیں  ستم گار ہو۔  پھر اپنے سروں  کے بل اوندھائے گئے کہ تمہیں  خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور مجھے  اللہ کی قسم ہے! تم پیٹھ پھیر کر جاؤ گے تو اس کے بعد میں  تمہارے بتوں کی بری حالت کر دوں  گا۔ تو ابراہیم نے ان سب کوٹکڑے ٹکڑے کردیا سوائے ان کے بڑے بت کے کہ شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں ۔

کہنے لگے: کس نے ہمارے خداؤں  کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟ بیشک وہ یقینا ظالم ہے۔ کچھ کہنے لگے: ہم نے ایک جوان کو انہیں  برا کہتے ہوئے سنا ہے جس کو ابراہیم کہا جاتا ہے۔ کہنے لگے: تو اسے لوگوں  کے سامنے لے آؤ شاید لوگ گواہی دیں ۔ انہوں  نے کہا: اے ابراہیم! کیا تم نے ہمارے معبودوں  کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟ ابراہیم نے فرمایا: بلکہ ان کے اس بڑے نے کیا ہوگا تو ان سے پوچھ لواگر یہ بولتے ہوں ۔ تو اپنے دلوں  کی طرف پلٹے اور کہنے لگے: بیشک تم خود ہی ظالم ہو۔پھر وہ اپنے سروں  کے بل اوندھے کردئیے گئے (اور کہنے لگے کہ) تمہیں  خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں  ہیں ۔

{وَ تَاللّٰهِ:اور مجھے  اللہ کی قسم ہے!} اس آیت اور اس کے بعد والی 7 آیات میں  جو واقعہ بیان کیاگیا ہے ا س کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کاایک سالانہ میلہ لگتا تھا اور وہ اس دن جنگل میں  جاتے اور وہاں  شام تک لہو و لَعب میں  مشغول رہتے تھے  ،  واپسی کے وقت بت خانے میں  آتے اور بتوں  کی پوجا کرتے تھے  ، اس کے بعد اپنے مکانوں  کو واپس جاتے تھے ۔ جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کی ایک جماعت سے بتوں  کے بارے میں  مناظرہ کیا تو ان لوگوں  نے کہا: کل ہماری عید ہے ،  آپ وہاں  چلیں  اور دیکھیں  کہ ہمارے دین



Total Pages: 235

Go To