Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو رحمٰن سے بن دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرنے والے دل کے ساتھ آتا ہے ۔(ان سے فرمایا جائے گا) سلامتیکے ساتھ جنت میں  داخل ہوجاؤ  ، یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔

            اور دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

’’ اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ‘‘(ملک: ۱۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ بغیر دیکھے اپنے رب سےڈرتے ہیں  ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔

            اور حضرت انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے  ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے : میری عزت و جلال اور مخلوق پر میری بلندی کی قسم! نہ تومیں  اپنے بندے پردوخوف جمع کروں  گااورنہ اس کے لیے دوامن جمع کروں  گا ، جودنیامیں  مجھ سے ڈرتا رہا اسے میں  قیامت کے دن امن دوں  گا اور جو دنیا میں  مجھ سے بے خوف رہا اسے میں  قیامت کے دن خوف میں  مبتلا کر دوں  گا۔( ابن عساکر ،  محمد بن علی بن الحسن بن ابی المضائ۔۔۔ الخ ،  ۵۴ / ۲۶۷)

            دعا ہے کہ  اللہ تعالیٰ ہمیں  اپنے پرہیز گار بندوں  میں  شامل فرمائے  ،  دنیا میں  ہمیں  اپنا خوف نصیب کرے اور آخرت میں  خوف سے محفوظ فرمائے  ،  اٰمین۔

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُؕ-اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ ہے برکت والا ذکر کہ ہم نے اتارا تو کیا تم اس کے منکر ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور یہ برکت والا ذکر ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس کے منکر ہو؟

{وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ:اور یہ برکت والا ذکر ہے۔} یعنی جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر تورات نازل فرمائی اسی طرح ہم نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پربرکت والا ذکر قرآنِ پاک نازل فرمایا ہے ، اس کے مَنافع کثیر اور ا س میں  بہت وسیع علوم ہیں  اور ایمان لانے والوں  کے لئے اس میں  بڑی برکتیں  ہیں  ،  اور جب یہ ظاہر ہو گیا کہ جس طرح ہم نے تورات نازل فرمائی اسی طرح قرآن مجید بھی نازل فرمایا تواے اہلِ مکہ! کیا یہ سب جاننے کے باوجود تم قرآنِ مجید کے ہماری طرف سے نازل ہونے کا انکار کرتے ہو؟( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۵۰ ،  ۳ / ۲۷۹ ،  روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۵۰ ،  ۵ / ۴۸۹ ،  ملتقطاً)

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ(۵۱) اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان:اور بیشک ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی سے اس کی نیک راہ عطا کردی اور ہم اس سے خبردار تھے۔ جب اس نے اپنے باپ اور قوم سے کہایہ مورتیں  کیا ہیں  جن کے آگے تم آسن مارے  ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور بیشک ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی اس کی سمجھداری دیدی تھی اور ہم ا سے جانتے تھے ۔  یاد کرو جب اس نے اپنے باپ اوراپنی قوم سے فرمایا: یہ مجسمے کیا ہیں  جن کے آگے تم جم کر بیٹھے ہوئے ہو۔

{وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ:اور بیشک ہم نے ابراہیم کو دیدی تھی۔} انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعات میں  سے یہاں  دوسرا واقعہ بیان کیا جارہا ہے اور یہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ ہے  ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی ابتدائی عمر میں  بالغ ہونے سے پہلے ہی ان کی نیک راہ عطا کر دی تھی اور ہم ان کے بارے میں جانتے تھے کہ وہ ہدایت و نبوت کے اہل ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۸ / ۱۵۲ ،  خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۳ / ۲۷۹ ،  ملتقطاً)

{اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ:یاد کرو جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا۔} یعنی وہ وقت یاد کریں  جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے (عرفی) باپ اور اپنی قوم سے فرمایا: درندوں  پرندوں  اور انسانوں  کی صورتوں  کے بنے ہوئے یہ مجسمے کیا ہیں  جن کے آگے تم جم کر بیٹھے ہوئے ہو اور ان کی عبادت میں  مشغول ہو؟( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ص۷۱۸-۵۱۹)

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پوجا کرتے پایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:انہوں  نے کہا: ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پوجا کرتے ہوئے پایا۔

{قَالُوْا:انہوں  نے کہا ۔} جب لوگ مجسموں  کی عبادت کرنے پر کوئی دلیل پیش کرنے سے عاجز ہو گئے تو وہ کہنے لگے: ہم نے اپنے باپ داداکواسی طرح کرتے پایاہے لہٰذا ہم بھی اسی طرح کررہے ہیں ۔(مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۵۲-۵۳ ،  ص۷۱۹)

باپ دادا کا برا طریقہ عمل کے قابل نہیں  :

            اس سے معلوم ہوا کہ باپ دادا جو کام شریعت کے خلاف کرتے رہے ہوں   ، اُن کاموں  کو کرنا اور ان کے کرنے پر اپنے باپ دادا کے عمل کو دلیل بنانا کفار کاطریقہ ہے  ، ہمارے معاشرے میں  بہت سے مسلمان شادی بیاہ اور دیگر موقعوں  پر شریعت کے خلاف رسم و رواج کی پیروی کرنے میں  بھی ایسی ہی دلیل پیش کرتے ہیں  کہ ہمارے بڑے بوڑھے برسوں  سے اسی طرح کرتے آئے ہیں  اور ہم بھی انہی کے طریقے پر چل رہے ہیں  حالانکہ جو کام شریعت کے خلاف ہے اور اس کے جواز کی کوئی صورت نہیں  تو ا س کا برسوں  سے ہوتا آنا اور آباؤ اَجداد کا اپنی جہالت کی وجہ سے اسے کرتے رہنا اسے شریعت کے مطابق نہیں  کر سکتا۔  اللہ تعالیٰ ایسے مسلمانوں  کو ہدایت عطا فرمائے اور انہیں  شریعت کے خلاف کام کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۵۴)

 



Total Pages: 235

Go To