Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کی قیمت بتاتے ہوئے جھوٹ بولا ،  کوئی کہے گا: تو نے مجھے      محتاج دیکھا اور تو مال دار تھا لیکن تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا ،  کوئی کہے گا: تو نے دیکھا کہ میں  مظلوم ہوں  اور تو اس ظلم کو دور کرنے پر قادر بھی تھا ،  لیکن تو نے ظالم سے مُصالحت کی اور میرا خیال نہ کیا۔

            تو جب اس وقت تیرا یہ حال ہوگا اور حق داروں  نے تیرے بدن میں  ناخن گاڑ رکھے ہوں  گے اور تیرے گریبان پر مضبوط ہاتھ ڈالاہوگا اور تو ان کی کثرت کے باعث حیران وپریشان ہوگا حتّٰی کہ تو نے اپنی زندگی میں  جس سے ایک درہم کا معاملہ کیا ہوگا یا اس کے ساتھ کسی مجلس میں  بیٹھا ہوگا تو غیبت  ،  خیانت یا حقارت کی نظر سے دیکھنے کے اعتبار سے اس کا تجھ پر حق بنتا ہوگا اور تو ان کے معاملے میں  کمزور ہوگا اور اپنی گردن اپنے آقا اور مولیٰ کی طرف اس نیت سے اٹھائے گا کہ شاید وہ تجھے ان کے ہاتھ سے چھڑائے کہ اتنے میں   اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا تیرے کانوں  میں  پڑے گی :

’’ اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْؕ-لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ‘‘(مومن:۱۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آج ہر جان کو اس کے کمائے ہوئے اعمالکا بدلہ دیا جائے گا ۔آج کسی پر زیادتی نہیں  ہوگی۔

            اس وقت ہیبت کے مارے تیرا دل نکل جائے گا اور تجھے اپنی ہلاکت کا یقین ہوجائے گا اور  اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبانی جو تجھے ڈرایا تھا وہ تجھے یاد آجائے گا۔  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ(۴۲) مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْۚ -وَ اَفْـٕدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ(۴۳) وَ اَنْذِرِ النَّاسَ‘‘(ابراہیم:۴۲-۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (اے سننے والے!)ہرگز  اللہ کو ان کاموں  سے بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم کررہے ہیں ۔  اللہ انہیں  صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں  آنکھیں  کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔لوگ بے تحاشا اپنے سروں  کو اٹھائے ہوئے دوڑتے جا رہے ہوں  گے ،  ان کی پلک بھی ان کی طرف نہیں  لوٹ رہی ہوگی اور ان کے دل خالی ہوں  گے۔ اور لوگوں  کو ڈراؤ۔

            آج جب تو لوگوں  کی عزتوں  کے پیچھے پڑتا ہے اور ان کے مال کھاتا ہے تو کس قدر خوش ہوتا ہے ،  لیکن اس دن تجھے کس قدر حسرت ہوگی جب تو عدل کے میدان میں  اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوگا اوراس وقت تو مُفلس  ، فقیر ،  عاجز اور ذلیل ہوگا  ، نہ کسی کا حق ادا کرسکے گا اور نہ ہی کوئی عذر پیش کرسکے گا۔پھر تیری وہ نیکیاں  جن کے لیے تو نے زندگی بھر مشقت برداشت کی تجھ سے لے کر ان لوگوں  کو دے دی جائیں  گی جن کے حقوق تیرے ذمہ ہوں  گے ،  اور یہ ان کے حقوق کا عِوَض ہوگا۔ تو دیکھو اس دن تم کس قدر مصیبت میں  مبتلا ہوگے کیوں  کہ پہلے تو تمہاری نیکیاں  ریا کاری اور شیطانی مکر وفریب سے محفوظ نہیں  ہوں  گی اور اگر طویل مدت کے بعدکوئی ایک نیکی بچ بھی جائے تو اس پر حق دار دوڑیں  گے اور اسےلے لیں  گے اور شاید تو اپنے نفس کا محاسبہ کرنے  ،  دن کو روزہ رکھنے اور رات کو قیام کرنے والا ہو ،  تو تجھے معلوم ہوگا کہ تو دن بھر مسلمانوں  کی غیبت کرتا رہا جو تیری تمام نیکیوں  کو لے گئی ،  باقی برائیاں  مثلاً حرام اور مشتبہ چیزیں  کھانا اور عبادات میں  کوتاہی کرنا اپنی جگہ ہے اور جس دن سینگوں  والے جانور سے بے سینگ جانور کا حق لیا جائے گا تو اس دن حقوق سے چھٹکارا پانے کی امید کیسے رکھ سکتا ہے۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب ذکر الموت ومابعدہ ،  الشطر الثانی ،  صفۃ الخصماء ورد الظلم ،  ۵ /  ۲۸۱-۲۸۲)

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ دیا اور اوجالا اور پرہیزگاروں  کو نصیحت۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ دیا اور روشنی اور پرہیزگاروں  کیلئے نصیحت دی۔

{وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ:اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کوفیصلہ دیا۔} یہاں  سے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حالات بیان کیے جارہے ہیں  کہ انہوں  نے کس طرح  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین کی خدمت کی  ،  اس راہ میں  پیش آنے والی تکلیفیں  برداشت کیں  اورصبرواِستقامت کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑا تاکہ بعد میں  دین کی خدمت کرنے والوں  کے لیے مشعلِ راہ ہوں  اور وہ بھی صبر واِستقامت  ، اِیثار واِخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضاکے لیے دین کا کام کریں ۔ چنانچہ سب سے پہلے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا گیا اور ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوایسی کتاب عطاکی جس کا وصف یہ ہے کہ وہ حق وباطل کوالگ الگ کردینے والی ہے اور وہ ایسی روشنی ہے جس سے نجات کی راہ معلوم ہوتی ہے اور وہ ایسی نصیحت ہے جس سے پرہیز گار تنبیہ و نصیحت اور دینی اُمور کا علم حاصل کرتے ہیں ۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ص۷۱۸)

             تورات شریف حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تو بلا واسطہ دی گئی اور حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واسطہ سے عطا کی گئی ۔

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ(۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں   اور انہیں  قیامت کا اندیشہ لگا ہوا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:وہ جو اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں  اوروہ قیامت سے ڈرتے ہیں ۔

{اَلَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ:وہ جو اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا: پرہیز گار لوگوں  کا وصف یہ ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہیں  حالانکہ انہوں  نے ا س کے عذاب کا مشاہدہ نہیں  کیا اوروہ قیامت کے دن ہونے والے عذاب ،  حساب  ، سوال اور اس کی دیگر ہولناکیوں  سے ڈرتے ہیں  اور اسی خوف کے سبب وہ  اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے بچتے ہیں ۔(روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۵ / ۴۸۸ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ص۷۱۸ ،  تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۸ / ۱۵۱ ،  ملتقطاً)

بن دیکھے  اللہ تعالٰی سے ڈرنے والوں  کی فضیلت:

            وہ لوگ جو بن دیکھے  اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں   ، ان کی فضیلت سے متعلق قرآنِ مجید میں  ایک مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙﹰ(۳۳)ادْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ‘‘(ق: ۳۳  ،  ۳۴)

 



Total Pages: 235

Go To