Book Name:Sirat ul jinan jild 6

جب وہ تولے جائیں  گے تو ان میں  وزن کچھ نہ ہوگا۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۵ ،  ۳ / ۲۲۷)

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا(۱۰۶)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ ان کا بدلہ ہے جہنم اس پر کہ انہوں  نے کفر کیا اور میری آیتوں  اور میرے رسولوں  کی ہنسی بنائی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ ان کا بدلہ ہے جہنم  ، کیونکہ انہوں  نے کفر کیا اور میری آیتوں  اور میرے رسولوں  کو ہنسی مذاق بنالیا۔

{ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ:یہ ان کا بدلہ جہنم ہے۔}  ارشاد فرمایا کہ یہ جہنم ان کا بدلہ ہے کیونکہ انہوں  نے کفر کیا اور جس چیز پر ایمان لانا اور جس کا اقرار کرنا ضروری تھا اس کا انکار کیا اور انہوں  نے قرآنِ پاک  ،   اللہ تعالیٰ کی دیگر کتابوں  اور اس کے رسولوں  کو ہنسی مذاق بنالیا۔(روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۶ ،  ۵ / ۳۰۵)اس سے معلوم ہوا کہ تمام کفر وں  سے بڑھ کر کفر نبی کی توہین اور ان کا مذاق اڑانا ہے جس کی سزا دنیا و آخرت دونوں  میں  ملتی ہے۔

اہلِ حق علماء کا مذاق اڑانے والوں  کو نصیحت:

            حضرت علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’یاد رکھو! علماء ،  انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں  اور ان کے عُلوم انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علوم سے حاصل شدہ ہیں  تو جس طرح باعمل علمائ ،  انبیاء اور مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اعمال اور علوم کے وارث ہیں  اسی طرح علماء کا مذاق اڑانے والے ابو جہل  ،  عقبہ بن ابی معیط اور ان جیسے دیگر کافروں  کے مذاق اڑانے میں  وارث ہیں ۔( روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۶ ،  ۵ / ۳۰۵)اس سے ان لوگوں  کو عبرت حاصل کرنے کی شدید ضرورت ہے جو میڈیا پر اور اپنی نجی محفلوں  میں  اہلِ حق علمائے کرام کا مذاق اڑانے میں  لگے رہتے ہیں ۔  اللہ تعالیٰ انہیں  عقلِ سلیم عطا فرمائے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ(۱۰۷) خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا(۱۰۸)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے۔ وہ ہمیشہ ان میں  رہیں  گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغات ہیں ۔ وہ ہمیشہ ان میں  رہیں  گے ،  ان سے کوئی دوسری جگہ بدلنا نہ چاہیں  گے۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:بیشک جو لوگ ایمان لائے۔} اس سے پہلے کافروں  کی جہنم میں  مہمانی کا ذکر ہوا اور اب یہاں  سے وہ چیز بیان کی جا رہی ہے جس سے ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے کی ترغیب ملتی ہے  ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک جو لوگ دنیا میں  ایمان لائے اور  اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اچھے اعمال کئے تو ان کی مہمانی کے لئے فردوس کے باغات ہیں۔( تفسیرکبیر ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۷ ،  ۷ / ۵۰۲ ،  روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۷ ،  ۵ / ۳۰۵ ،  ملخصاً)

 جنتی نعمتیں  اور سب سے اعلیٰ جنت:

            یاد رہے کہ اہلِ جنت کے لئے  اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں  تیار کی ہیں  وہ انسان کے تَصَوُّر سے بھی زیادہ ہیں  ،  چنانچہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘‘(سجدہ:۱۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو کسی جان کو معلوم نہیں  وہ آنکھوں  کی ٹھنڈکجو ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں  چھپا رکھی ہے۔

            اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں  نے اپنے نیک بندوں  کے لئے ایسی نعمتیں  تیار کر رکھی ہیں  جنہیں  نہ کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر اس کا خطرہ گزرا۔‘‘ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو’’فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ‘‘(بخاری ،  کتاب بدء الخلق ،  باب ما جاء فی صفۃ الجنّۃ وانّہا مخلوقۃ ،  ۲ / ۳۹۱ ،  الحدیث: ۳۲۴۴)

            اور زیر ِتفسیر آیت میں  جس جنت کا ذکر ہوا ،  اس کے بارے میں  حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  تاجدارِ رسالتصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مانگو تو فردوس مانگو ،  کیونکہ وہ جنتوں  میں  سب کے درمیان اور سب سے بلند ہے اور اس پر رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کاعرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں  جاری ہوتی ہیں ۔(بخاری ،  کتاب الجہاد والسیر ،  باب درجات المجاہدین فی سبیل اللّٰہ۔۔۔ الخ ،  ۲ / ۲۵۰ ،  الحدیث: ۲۷۹۰)

            حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جنت میں  سو درجے ہیں  ،  ہر دو درجوں  کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے اور فردوس سب سے اوپر والا درجہ ہے ،  اس سے جنت کی چار نہریں  پھوٹتی ہیں  ،  اس سے اوپر عرش ہے اور جب تم  اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس ہی مانگا کرو۔( ترمذی ،  کتاب صفۃ الجنّۃ ،  باب ما جاء فی صفۃ درجات الجنّۃ ،  ۴ / ۲۳۸ ،  الحدیث: ۲۵۳۹)

            حضرت انس بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’فردوس بلند جنت ہے ،  درمیانی اور سب سے بہتر جنت ہے۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ المؤمنین ۵ / ۱۱۸ ،  الحدیث: ۳۱۸۵)

            حضرت کعب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُنے فرمایا ’’ فردوس جنتوں  میں  سب سے اعلیٰ ہے اس میں  نیکیوں  کا حکم کرنے والے اور بدیوں  سے روکنے والے عیش کریں  گے۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۷ ،  ۳ / ۲۲۷)

{لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا:ان سے کوئی دوسری جگہ بدلنا نہ چاہیں  گے۔} یعنی دنیا میں  انسان کیسی ہی بہتر جگہ میں  ہو ،  وہ اس سے اور اعلیٰ و ارفع جگہ کی طلب رکھتا ہے لیکن یہ بات وہاں  جنت میں  نہ ہوگی کیونکہ وہ جانتے ہوں  گے کہ  اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہیں  بہت اعلیٰ و ارفع جگہ حاصل ہے۔( روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۸ ،  ۵ / ۳۰۶)

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا(۱۰۹)

 



Total Pages: 235

Go To